عید الأضحی، جشن بندگی و قرب الی اللہ

امام خمینی (رح) فرماتے ہیں کہ قربانی کا اصل مقصد جانور کا خون بہانا نہیں، بلکہ "تزکیہ نفس" اور "خود سازی" ہے

ID: 85856 | Date: 2026/05/26

عید قربان صرف جانوروں کی قربانی کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی نفسانی خواہشات پر فتح، بندے کے اپنے خالق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے، اور روحانی ترقی کا دن ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ‌السلام) کی عظیم قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی محبت میں سب سے بڑی چیز بھی قربان کی جا سکتی ہے۔ امام خمینی (رح) نے اس عید کو سیاست اور عرفان کے سنگم پر تعبیر کیا ہے۔ آپ کے مطابق، عید قربان انسان کی "خلافت الٰہی" کی طرف واپسی کا دن ہے۔


امام خمینی کی نظر میں "قربان" کا فلسفہ:


امام خمینی (رح) فرماتے ہیں کہ قربانی کا اصل مقصد جانور کا خون بہانا نہیں، بلکہ "تزکیہ نفس" اور "خود سازی" ہے. جیسے حضرت ابراہیم (علیہ‌السلام) نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ‌السلام) کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا، یہ دراصل نفس کے خلاف جنگ تھی۔ امام خمینی کے بقول: "انسان کو اپنے اندر کے بتوں کو توڑنا ہوگا۔ نفس امارہ سب سے بڑا بت ہے جس کی پرستش انسان نادانی میں کرتا ہے۔"


امام خمینی (رح) نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ عید قربان انسان کو "ہستی" سے "بے ہستگی" کی طرف لے جاتی ہے۔ یعنی انسان اپنی ذات، اپنے مال، اپنی اولاد اور اپنے مقامات کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔


"اذهبوا انا قاتلوه" کی تفسیر:


امام خمینی حضرت ابراہیم (علیہ‌السلام) کے اس جملے کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب حضرت ابراہیم (علیہ‌السلام) نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، تو یہ اعلان تھا کہ "میری نظر میں دنیا کی کوئی چیز، یہاں تک کہ میرا پیارا بیٹا بھی، اللہ کے حکم سے زیادہ محبوب نہیں۔"


اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک مومن کو حکم الٰہی کے سامنے ہر طرح کی محبت کو قربان کر دینا چاہیے۔ آپ نے فرمایا: "عید قربان انسان کو اس مقام پر لے جاتی ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے زانو نہیں تہہ کرتا۔"


اخلاص کی اہمیت:


امام خمینی نے عید قربان کے حوالے سے اخلاص کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ قربانی کے وقت زبان سے "بسم اللہ" کہنا کافی نہیں، بلکہ دل کو بھی اللہ کے سوا ہر تعلق سے کاٹ دینا چاہیے۔


آپ نے ایک جگہ فرمایا: "جس طرح حضرت ابراہیم نے شیطان کو کنکریاں ماریں، ہمیں بھی اپنے اندر کے شیطانوں یعنی نفسانی خواہشات اور دنیا کی محبت کو رجم کرنا ہے۔ اگر انسان نے دل کی قربانی نہ دی، تو اس کا جانور ذبح کرنا بے معنی ہے۔"


قربانی کا سیاسی پہلو:


امام خمینی (رح) نے اس عید کو صرف عبادت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے استقامت اور مزاحمت کا درس دیا۔ آپ کے نزدیک عید قربان ظلم کے خلاف اٹھنے کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا: "ابراہیم (علیہ‌السلام) نے نمرود کے ظلم کے خلاف اکیلے کھڑے ہو کر قربانی دی، آج ہمیں بھی استکبار کے خلاف قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔"


آپ نے اسلامی انقلاب کے بعد عید قربان کے خطابات میں بارہا کہا کہ جس طرح حضرت اسماعیل (علیہ‌السلام) نے اپنے باپ کے سامنے صبر کا مظاہرہ کیا، اسی طرح امت مسلمہ کو بھی اپنے رہبروں کے سامنے صبر اور وفاداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔


خود کو قربان کرنے والا انسان (اسماعیل صفت انسان):


امام خمینی نے اپنے بیانات میں اسماعیل (علیہ‌السلام) کو "مومن حقیقی" کی علامت قرار دیا ہے۔ وہ انسان جو اپنی زندگی کے چینلز کو اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا: "بندہ مومن وہ ہے جو حکم خدا سنتے ہی کہہ دے 'یا ابت افعل ما تؤمر' (اے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے بجا لائیے)۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کے حکم پر 'کیوں' کا سوال نہ اٹھائے، بلکہ فوراً سر تسلیم خم کر دے۔"


عید قربان کے اہداف:


امام خمینی (رح) کے مطابق عید قربان کے تین اہم اہداف ہیں:


تزکیہ نفس: نفس کی خواہشات کو ذبح کرنا۔


اطاعت الٰہی: بغیر کسی شرط کے اللہ کے حکم پر عمل کرنا۔


اجتماعی مساوات: امیر اور غریب سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر قربانی کرتے ہیں، جو اسلام کی عظیم برابری کی علامت ہے۔


امام خمینی (رح) کی تعلیمات کے مطابق، عید قربان ایک یاد دہانی ہے کہ انسان کو اپنی جنون خواہشات کی گردن مارنی ہے۔ جب تک انسان اپنے "انا" اور "میں پن" کو قربان نہیں کرے گا، وہ اللہ کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔


امید ہے کہ ہم سب اس عید کے پیغام کو سمجھیں، اور اپنی زندگیوں کو حضرت ابراہیم (ع) کی طرح توحید اور استقامت کی راہ پر گامزن کریں۔