تحریر: آیت اللہ سید ضیاء مرتضوی
حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام آج اپنے اوپر گریہ، اشک اور ماتم سے بڑھ کر اس بات کے منتظر ہیں کہ انہیں ہماری تربیت، سیاست، ثقافت اور انفرادی و اجتماعی طرزِ زندگی کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔ منطقِ حسینی سے وابستگی رکھنے والوں کو اس بات پر زیادہ فکر مند ہونا چاہیے کہ کہیں اسلامی معاشرے میں واقعۂ عاشورا کے اسباب و عوامل کا صحیح تجزیہ فراموش نہ ہو جائے؛ خصوصاً اس حقیقت کا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے محض نصف صدی بعد ایسا عظیم سانحہ کیسے رونما ہوا۔ اس واقعے سے سبق حاصل کرنا اور اس سے عبرت لینا، محض عزاداری اور تعزیہ داری کی ظاہری رونق کے بارے میں فکر کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
1. عاشورا؛ ایک دائمی اور زندہ تحریک
عاشورا اس عظیم تحریک کا نام ہے جس کا آغاز حضرت سید الشہداء امام حسین بن علی علیہ السلام نے سنہ 61 ہجری کے آغاز میں فرمایا، اور جس کا اختتام اس دن ہوگا جب حضرت صدیقۂ کبریٰ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا، جیسا کہ بعض معتبر روایات میں آیا ہے، روزِ قیامت عدالتِ الٰہی میں انصاف کا مطالبہ کریں گی اور ان لوگوں سے عدل، آزادی، حق طلبی، خدا شناسی، اسلام، قرآن اور تمام الٰہی و انسانی اقدار کے خون کا حساب طلب کریں گی جنہوں نے ظلم کی تلوار، عداوت کے نیزے اور سنگ دلی و بے مروتی کے پتھر عدل کے مظہر، حق کے پیکر، روحِ قرآن اور تمام فضائل و اقدار کے مجسم نمونے حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف اٹھائے، اور عاشورا کی صبح سے شام تک آپؑ کے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کے پاکیزہ ترین، باعظمت ترین اور مظلوم ترین افراد کو انتہائی سنگ دلی کے ساتھ شہید کیا، ان کے بے کفن اور زخموں سے چور اجسام پر گھوڑے دوڑائے، اور ماہِ حرام میں حرمِ اہل بیت کو اسیر بنا لیا۔
لیکن اس طویل زمانی فاصلے میں، جس کی وسعت کا علم صرف خداوندِ متعال کو ہے، عاشورا ہمیشہ زندہ رہا ہے اور آزادی کے متوالوں، عدالت پسندوں اور حق کے متلاشیوں کے لیے مسلسل الہام اور رہنمائی کا سرچشمہ بنا ہوا ہے۔
عاشورا کی اثر آفرینی کسی محدود زمانے تک مقید نہیں۔ اگرچہ اس نے اپنے عہد میں اسلامی معاشرے کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں میں نہایت بنیادی کردار ادا کیا، لیکن اس کے بعد بھی ہر دور میں اسلامی حق طلب تحریکوں کی روح، بیداری کی علامت، اور الٰہی مقاصد کی خاطر ایثار و قربانی کی اعلیٰ ترین مثال کی حیثیت برقرار رکھی ہے۔
آج عاشورا اور کربلا، ائمۂ معصومین علیہم السلام کی اس مسلسل کاوش کے نتیجے میں، جس کے ذریعے انہوں نے اس واقعے کے پیغام کو زندہ رکھا اور اسے دینی زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ کر دیا، نیز اہلِ بیت علیہم السلام کے محبین کی صدیوں پر محیط انتھک جدوجہد کے باعث، ایک گہری، مؤثر اور تہذیب ساز ثقافتی حقیقت کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جسے بجا طور پر "ثقافتِ عاشورا" کہا جا سکتا ہے۔
یہ ثقافت اب فرد کی ذاتی زندگی سے لے کر اسلامی معاشرے کے اجتماعی نظام اور کلان سطح کی اجتماعی مدیریت تک اپنے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسی لیے حسینی سیرت اور منطق نے ہماری انفرادی زندگی، اجتماعی رویوں، سیاسی فکر اور تربیتی نظام پر اپنی فکر، محبت اور عمل کی گہری چھاپ چھوڑ دی ہے۔ ایک پیاسے کو پلائے جانے والے پانی کے ایک گھونٹ سے لے کر عالمی استکبار کے مقابل ایک پوری قوم کی استقامت تک، ہر جگہ امام حسین علیہ السلام کا نام اور منطقِ حسینی رہنمائی اور الہام کا سرچشمہ دکھائی دیتا ہے۔
عاشورا کے اگلے ہی دن سے لے کر آج تک رونما ہونے والی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تحریکوں پر اگر ایک سرسری نظر بھی ڈالی جائے تو یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہو جاتی ہے کہ منطقِ حسینی اور نامِ حسینؑ ہمیشہ زندہ اور مؤثر رہیں گے۔ البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ عاشورا کو صحیح طور پر سمجھا جائے اور اسے غلط تعبیرات، سطحی تشریحات اور تاریخی تحریفات سے محفوظ رکھا جائے، تاکہ وہ اپنی بے مثال اور تاریخی ذمہ داری کو پوری طرح انجام دے سکے۔
2. اسلامی انقلاب اور منطقِ حسینؑ
اس حقیقت میں کسی صاحبِ انصاف کو تردد نہیں ہو سکتا کہ ایران کا اسلامی انقلاب اور ایرانی قوم کی حق طلب جدوجہد کی عظیم کامیابی، نامِ حسین علیہ السلام اور پیغامِ عاشورا کی مرہونِ منت ہے۔ انقلاب کی دوسری اور تیسری نسل، چونکہ اس حقیقت کی عینی شاہد نہیں رہی، اس لیے اسے اس تاریخی حقیقت کی مزید وضاحت اور تشریح کی ضرورت ہے؛ لیکن وہ نسل جس نے جدوجہد کے متن میں، یا کم از کم اس کے قریب رہ کر اسلامی انقلاب کی تدریجی پیش رفت، اس کی نشوونما اور اس کی کامیابی کا مشاہدہ کیا، اس حقیقت کی زندہ گواہ ہے۔
اسلامی انقلاب میں منطقِ حسینؑ اور پیغامِ عاشورا کو بنیادی اور فیصلہ کن کردار اس لیے حاصل ہوا کہ انقلاب کے بے مثال قائد حضرت امام خمینیؒ نے عاشورا کی حقیقی تفسیر اور صحیح تصویر پیش کی۔ انہوں نے عاشورا کو اسی طرح متعارف کرایا جیسا کہ وہ حقیقت میں ہے، اسے معاشرے میں اسی انداز سے زندہ کیا جس انداز سے اسے زندہ ہونا چاہیے تھا، اور اس سے وہی نتائج اخذ کیے جو اس واقعے کا حقیقی تقاضا تھے۔
امام خمینیؒ نے حقیقتاً منطقِ عاشورا کو نئی زندگی عطا کی۔ اسی منطق کی بنیاد پر انہوں نے اپنی انقلابی جدوجہد کو آگے بڑھایا، اور اسی کو اسلامی انقلاب اور اس سے وجود میں آنے والے اسلامی نظام کی بقا کا ضامن قرار دیا۔ اسی لیے وہ ہمیشہ اس حقیقت پر زور دیتے رہے کہ:
"یہ محرم اور صفر ہی ہیں جنہوں نے اسلام کو زندہ رکھا ہے۔"
لہٰذا اگر ہم اسلام کی حیات و بقا کے خواہاں ہیں تو ہمیں عاشورا کو اسی حقیقت کے ساتھ زندہ رکھنا ہوگا جس حقیقت کے ساتھ وہ رونما ہوا، اور اسی تعبیر و قراءت کے مطابق سمجھنا ہوگا جو امام خمینیؒ نے پیش کی۔ اسی طرح ہمیں ہر زمانے میں منطقِ حسین علیہ السلام کو پوری قوت کے ساتھ زندہ اور مؤثر رکھنا ہوگا۔
اسلامی انقلاب ابھی اپنے اختتامی مرحلے تک نہیں پہنچا، اور اسلامی نظام ابھی اپنے تمام اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ اسی طرح تاریخ کی گواہی، روایات اور زیارات کی روشنی میں یہ بھی واضح ہے کہ بنی امیہ کی فکری اور عملی روش کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ مختلف صورتوں میں تاریخ کے مختلف ادوار میں موجود رہی ہے۔ اسی بنا پر آج بھی، بلکہ ماضی سے زیادہ، ہمیں عاشورا کی صحیح معرفت، منطقِ حسین علیہ السلام کی درست تفہیم، اور اس پر عملی کاربندی کی ضرورت ہے۔
یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے عاشورا کے انتہائی بحرانی لمحات میں بھی، جب دونوں لشکر آمنے سامنے صف آرا ہو چکے تھے، ہدایت، مکالمہ، حق کی وضاحت اور صحیح راستے کی نشاندہی کا فریضہ ترک نہیں کیا۔ حالانکہ انہیں اپنی حقانیت میں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں تھا، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کا آخری راستہ آخری سانس اور آخری ساتھی تک استقامت اور جہاد ہے۔ یہی وہ نمونہ ہے جس کی ہر اسلامی انقلاب کو ہمیشہ ضرورت رہے گی، اور جس کی پیروی اس کی دائمی ذمہ داری ہے۔
3. عاشورا؛ درس، عبرت اور معاشرتی بیداری کا سرچشمہ
عاشورا اور اس عظیم تاریخی واقعے سے متعلق تمام حقائق، اپنے زمانے میں بھی بے شمار اسباق اور عبرتوں کا خزانہ تھے، اور آج بھی ہیں۔ یہ واقعہ نیکیوں کی معرفت کے ساتھ ساتھ برائیوں کی شناخت کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تاریخ میں ایسے بہت سے افراد گزرے ہیں جنہوں نے اگرچہ خود ابدی ذلت اور رسوائی کا انجام پایا، لیکن ان کی زندگی اور انجام بعد کی نسلوں کے لیے باعثِ عبرت بن گئے۔ اسی طرح وہ معاشرہ، جس نے اپنے پیش روؤں سے عبرت حاصل نہ کی، خود آنے والی قوموں کے لیے درسِ عبرت بن گیا۔
عاشورا کا ہر لمحہ ایک مستقل درس گاہ ہے اور سرزمینِ کربلا کا ہر ذرہ عبرت، بصیرت اور تربیت کا مرکز ہے۔ اسی لیے آج ہمارا معاشرہ، خصوصاً اس کے اہلِ فکر، مدیران، اور سیاست، ثقافت، تعلیم و تربیت اور علم کے ذمہ دار افراد، پہلے سے کہیں زیادہ عاشورا کے دروس اور اس کی عبرتوں کو سمجھنے کے محتاج ہیں۔
آج حضرت سید الشہداء علیہ السلام اپنے اوپر گریہ، اشک اور ماتم سے زیادہ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے قیام کو ہماری تعلیم و تربیت، سیاسی فکر، ثقافتی نظام اور انفرادی و اجتماعی طرزِ زندگی میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ منطقِ حسینی سے وابستگی رکھنے والوں کو اس بات پر زیادہ فکر مند ہونا چاہیے کہ کہیں اسلامی معاشرے میں عاشورا کے اسباب و علل کا صحیح تجزیہ فراموش نہ ہو جائے؛ خصوصاً اس حقیقت کا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے محض پچاس برس بعد ایسا عظیم سانحہ کیوں اور کیسے پیش آیا۔ اس سانحے سے صحیح سبق اور عبرت حاصل کرنا، عزاداری اور تعزیہ داری کی ظاہری رونق برقرار رکھنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
اگر اسلامی معاشرے کے اہلِ دانش، دینی و انقلابی ثقافت کے ذمہ دار افراد اور مصلحین اس بنیادی سوال کا صحیح جواب دینے میں ناکام رہیں یا اس سے گریز کریں کہ آخر وہی اسلامی معاشرہ، جس نے ایک زمانے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امام حسین علیہ السلام سے بے مثال محبت، احترام اور تکریم کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، چند ہی دہائیوں بعد اسی معاشرے کے ہزاروں افراد نے، جنہوں نے خود امام حسینؑ کو اپنے شہر آنے کی دعوت دی تھی، انہی کے خلاف تلوار اٹھا لی، یہاں تک کہ انہیں پانی تک سے محروم کر دیا؛ تو کیا یہ اندیشہ بے جا ہوگا کہ ایسا المیہ دوبارہ بھی جنم لے سکتا ہے؟
یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر ہم اس سوال کے جواب میں تاریخی حقائق کو مسخ کریں، یا خودساختہ، سطحی اور جزوی تجزیوں پر اکتفا کریں، تو درحقیقت ہم اپنے ہی معاشرے کو دھوکا دے رہے ہوں گے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ صدرِ اسلام کے معاشرے کی سب سے بڑی گمراہی اور بدبختی اس دن ظاہر ہوئی جب حضرت امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا گیا؛ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ پوری دیانت داری کے ساتھ معلوم کیا جائے کہ یہ انحراف کہاں سے شروع ہوا، اس کے بنیادی اسباب کیا تھے، اور وہ کون سے افراد یا عوامل تھے جنہوں نے اس سانحے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
اسی تناظر میں ایک اور اہم سوال بھی اٹھتا ہے کہ ہمارے ثقافتی اداروں، ذرائع ابلاغ، اور بالخصوص ان افراد اور اداروں نے، جو اسلامی نظام کا حصہ ہیں اور اس میدان میں بنیادی ذمہ داری رکھتے ہیں، اس تاریخی حقیقت کو صحیح انداز میں بیان کرنے، اس کے اسباب و نتائج کو واضح کرنے، اور معاشرے کی فکری تربیت کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں، اور آج وہ اس سلسلے میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟
4. عاشورا کی احیاء اور امام خمینیؒ کی جامع نگاہ
عاشورا کی احیاء اور اس کی ثقافت کے فروغ کے بنیادی اور فیصلہ کن نکات میں سے ایک، جس پر برسوں سے حضرت امام خمینیؒ اور مفکرِ شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہریؒ جیسے عظیم مصلحین خصوصی توجہ دیتے رہے ہیں، عاشورا کی آسیب شناسی، منطقِ حسینی کی درست معرفت، اور عزاداریِ سید الشہداء علیہ السلام کے صحیح فلسفے کی تفہیم ہے۔
حضرت امام خمینیؒ نے اپنی فکر، روش اور عملی جدوجہد کے ذریعے واضح کر دیا کہ عاشورا کی حقیقت کیا ہے، حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے کیا پیغام دیا، ان پر گریہ کیوں کیا جانا چاہیے، عاشورا کو کیوں زندہ رکھنا ضروری ہے، اور وہ کون سی عزاداری اور ماتم ہے جو حقیقتاً منطقِ حسینی کا مظہر اور اس کا الہام بخش ذریعہ بن سکتی ہے۔
دورانِ انقلاب کی جدوجہد کے علاوہ، دفاعِ مقدس کے برسوں میں بھی جس انداز سے حضرت امام حسین علیہ السلام کا نام، ان کی سیرت، ان کی منطق اور ان کی حیات بخش عزاداری اسلامی معاشرے پر حاکم رہی، وہ عاشورا کی صحیح معرفت اور منطقِ حسینی کی حقیقی تفہیم کی ایک روشن، ماندگار اور عملی مثال ہے۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف مقامات پر، حتیٰ کہ بعض سرکاری ذرائع ابلاغ میں بھی، ایسی علامات نمایاں ہو رہی ہیں جو باعثِ تشویش ہیں۔ ان میں یک رخی فکر، سطحی نگاہ، قشری رجحانات اور حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی تعمیری اور حیات بخش منطق سے دوری کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ کم از کم حقیقت یہ ہے کہ عاشورا نے ہمارے معاشرے، اور خصوصاً دین، ثقافت، تعلیم اور فکر کے ذمہ داران کو جو عظیم اور بے مثال موقع فراہم کیا ہے، اس سے مطلوبہ اور مؤثر استفادہ نہیں کیا جا رہا۔
اس کے بجائے بعض اوقات ایسے موضوعات کو اہمیت دی جاتی ہے، یا ایسے پروگرام اور ثقافتی سرگرمیاں پیش کی جاتی ہیں، جن کی سطح ایک ایسے انقلابی اور اسلامی معاشرے کے شایانِ شان نہیں، جس نے علمی، ثقافتی اور فکری ارتقاء کے لیے کئی دہائیوں کی محنت کی ہو۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ عاشورا کے موقع پر معاشرے کی فکری اور اعتقادی بنیادوں کو مضبوط بنانے، اسلامی شعور میں اضافہ کرنے اور دینی آگاہی کو فروغ دینے کے بجائے، زیادہ تر توجہ سطحی، محض جذباتی اور ظاہری پہلوؤں پر مرکوز کر دی جاتی ہے، بلکہ بعض اوقات انہی رجحانات کو مزید تقویت بھی دی جاتی ہے۔
بلاشبہ حضرت سید الشہداء علیہ السلام پر اشک بہانا اور ان کے غم میں عزاداری کرنا اپنی جگہ ایک عظیم دینی اور روحانی قدر رکھتا ہے، اور حضرت امام خمینیؒ نے بھی اپنے اقوال اور عملی سیرت میں اس کی بارہا تاکید فرمائی ہے؛ لیکن ضروری ہے کہ یہ جذبات صحیح ہدایت، درست فکر، گہری دینی و سیاسی آگاہی، اور مضبوط، مدلل اور شعوری ایمان کی تشکیل کا ذریعہ بھی بنیں۔
واقعی باعثِ افسوس ہوگا اگر ہم عاشورا کی ان تمام عظیم فرصتوں سے، جو ہمارے اختیار میں موجود ہیں، خصوصاً نوجوان نسل کو منطقِ حسین علیہ السلام، ان کے قیام کے اہداف اور اس کے مختلف پہلوؤں سے صحیح طور پر روشناس کرانے کے لیے استفادہ نہ کر سکیں، یا ایسا کرنے کا ارادہ ہی نہ رکھیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہوگی کہ ہم اپنے دینی ضمیر، سماجی ذمہ داری اور ثقافتی فریضے کو صرف ایسی پالیسیوں، پروگراموں اور تبلیغی سرگرمیوں تک محدود کر دیں، جو معاشرے کی صحیح تربیت، فکری نشوونما اور دین کی درست معرفت پیدا کرنے کی مطلوبہ صلاحیت نہ رکھتی ہوں۔
امید کی جاتی ہے کہ اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کے مخلص خیرخواہ، علماء، اہلِ فکر اور اصلاح پسند شخصیات ایک بار پھر اس بنیادی مسئلے کی طرف سنجیدگی سے توجہ دیں، اور اپنی حکمت و تدبیر کے ذریعے اس میدان میں افراط و تفریط، انحراف اور تاریخی تحریف کا سدباب کریں۔ نیز موجودہ "فرصت سوزی" کو "فرصت سازی" میں تبدیل کریں، اور عاشورائی نعروں کو حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی منطق اور عاشورا کی جامع و صحیح معرفت کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔
آمین یا رب العالمین۔