امریکہ سے صلح کے لیے مذاکرات کرنے والا غدار ہے:سید علی خمینی

اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی کے پوتے حجت الاسلام والمسلمین سید علی خمینی نے کہا کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کا صدمہ ابھی تک قوم کے لیے ناقابلِ فراموش ہے اور ایرانی عوام نے مشکل ترین حالات میں ملک اور نظام کا بھرپور دفاع کیا۔

ID: 86330 | Date: 2026/07/11

قم میں رہبرِ انقلاب اور ان کے اہلِ خانہ کے شہداء کی مجلسِ ختم سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی کے پوتے حجت الاسلام والمسلمین سید علی خمینی نے کہا کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کا صدمہ ابھی تک قوم کے لیے ناقابلِ فراموش ہے اور ایرانی عوام نے مشکل ترین حالات میں ملک اور نظام کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی دنوں میں دنیا یہ دیکھنے کی منتظر تھی کہ ایران اس بحران کا مقابلہ کیسے کرے گا، مگر عوام نے میدان میں آ کر ثابت کر دیا کہ وہ اپنے راستے اور اصولوں پر قائم ہیں۔


سید علی خمینی نے زور دے کر کہا کہ اسلامی جمہوریہ کی بقا عوام کی قربانیوں اور استقامت کی مرہونِ منت ہے اور جو لوگ رہبرِ انقلاب کے خون کا بدلہ لینے کے مطالبات کو انتہا پسندی قرار دیتے ہیں، وہ ان ہی لوگوں کی خدمات کو نظر انداز کر رہے ہیں جنہوں نے ملک کا دفاع کیا۔ ان کے بقول دشمنوں نے آیت اللہ خامنہ ای کو “ابدی” بنا دیا ہے اور قوم ان کی یاد اور افکار کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔


انہوں نے کہا کہ رہبرِ انقلاب امام خمینی سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور اپنی پوری زندگی میں ان کے اوصاف کو اپنانے کی کوشش کرتے رہے۔ سید علی خمینی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں نظام کی تبدیلی کے مقصد سے اپنی تمام تر طاقت استعمال کی، لیکن ایرانی قوم نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اس آزمائش میں سرخرو رہی۔


خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو امن یا مفاہمت کا راستہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے الفاظ میں، “جو شخص امریکہ سے صلح کے لیے مذاکرات کرنا چاہے، وہ غدار ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کی جڑیں ماضی میں پیوست ہیں، لیکن حالیہ واقعات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔


سید علی خمینی نے ایرانی عوام، مذہبی حلقوں اور عراق کے عوام کے اظہارِ یکجہتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم مستقبل میں بھی اپنی قیادت کی ہدایات کے مطابق ملک کے دفاع اور انقلاب کے اصولوں کی پاسداری کے لیے متحد رہے گی۔