انصار الله یمن کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے العہد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یمن پر عائد محاصرہ جاری رہا تو صنعاء کے پاس اس سے بھی بڑے اور زیادہ جامع اقدامات کے تمام آپشنز موجود ہیں۔
حزام الاسد نے کہا کہ سعودی۔امریکی اتحاد کی بارہ سالہ جارحیت اور محاصرے کے باعث یمن دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار ہے۔ ان کے مطابق حالیہ عسکری اقدامات کا مقصد یمنی عوام کی مشکلات کم کرنا، محاصرہ توڑنا، جارحیت کا خاتمہ اور ملک پر مسلط قبضہ و سرپرستی کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کشیدگی بڑھانے کے پہلے مرحلے کے طور پر "محاصرے کے بدلے محاصرہ" کی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے، خصوصاً بحری راستوں میں۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعاء کی کوشش ہے کہ جس طرح یمن کی درآمدات و برآمدات متاثر کی گئی ہیں، اسی طرح سعودی عرب کی تجارت اور برآمدات بھی صفر تک پہنچ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ناقابلِ قبول ہے کہ سعودی عرب کی تجارتی اور بحری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں جبکہ یمنی عوام محاصرے اور بھوک کا شکار ہوں۔
حزام الاسد نے سعودی عرب کے ہمسایہ ممالک سے اپیل کی کہ وہ ریاض کو یمنی اقدامات سے بچنے یا انہیں ناکام بنانے میں تعاون نہ کریں۔ ان کے مطابق یمنی مسلح افواج کے پاس عوام کے جائز حقوق کی بحالی اور محاصرہ ختم کرانے کے لیے متعدد اہم اور مؤثر آپشنز موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صنعاء نے بحران کے خاتمے کے لیے ریاض کو کئی مواقع دیے، جن میں سید عبدالملک الحوثی کے نئے ہجری سال اور عاشورہ کے خطابات، عوامی بسیج کے بیانات اور یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے اعلانات شامل ہیں، لیکن سعودی عرب نے انسانی مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے محاصرہ برقرار رکھا۔
ان کے مطابق یمنی مسلح افواج کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد عوام کی مشکلات کا خاتمہ، محاصرہ توڑنا اور جائز حقوق حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج یمنی عوام کے سامنے دو ہی راستے ہیں: یا بھوک اور بیماری سے موت قبول کریں یا اپنے حقوق طاقت کے ذریعے واپس حاصل کریں۔
حزام الاسد نے جنگ کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمن پر ڈھائی لاکھ سے زائد فضائی حملے کیے گئے جبکہ بالواسطہ اقتصادی نقصانات کا تخمینہ 17 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں سعودی عرب کا لاکھوں بیرل تیل برآمد کرنا اور اسلحہ خریدنا، جبکہ یمن محاصرے میں ہو، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ہوائی اڈے اور بندرگاہیں معمول کے مطابق فعال ہیں، جبکہ یمن کے زمینی، فضائی اور بحری راستے بدستور بند یا شدید پابندیوں کا شکار ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
انہوں نے حالیہ عوامی ریلیوں کو کشیدگی میں اضافے کے عوامی مطالبے اور محاصرہ توڑنے کے لیے مسلح افواج کو مزید اختیارات دینے کی حمایت قرار دیا۔
حزام الاسد نے کہا کہ یمنی عوام اب نہ محاصرہ قبول کریں گے اور نہ ہی جارحیت، اور عرب و اسلامی اقوام سے اپیل کی کہ وہ یمن کے مؤقف کو سمجھیں۔ ان کے مطابق صنعاء کے اقدامات صرف جائز حقوق کے حصول اور محاصرہ ختم کرانے کے لیے دفاعی نوعیت کے ہیں۔
انہوں نے سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ صنعاء ایئرپورٹ کا محاصرہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی محاصرہ نہیں ہے تو پھر مریضوں، پھنسے ہوئے افراد اور یمنی وفد کو واپس لانے والی ایک پرواز کے لیے صنعاء ایئرپورٹ کو بمباری کا نشانہ بنانے کی تیاری کیوں کی گئی؟
انہوں نے سعودی حکومت سے کہا کہ اس قسم کا انکار نہ تو حقیقت بدل سکتا ہے اور نہ ہی سعودی تیل اور بحری تجارت کو محفوظ بنا سکتا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے اس بیان پر بھی انہوں نے ردعمل دیا جس میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
حزام الاسد نے کہا کہ یمنی عوام صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن کی ضمانت بین الاقوامی قوانین، عرف اور عالمی منشور دیتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ دنیا کی کوئی طاقت یمنی عوام کو بیرونِ ملک سفر سے نہیں روک سکتی، نہ ان کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کا محاصرہ کرنے کا حق رکھتی ہے اور نہ ہی یمن کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے داخلی امور میں مداخلت کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب کو امید تھی کہ سعودی عرب عقل مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے جارحیت اور محاصرہ ختم کرے گا، اپنی افواج واپس بلائے گا اور یمنی قیدیوں کو رہا کرے گا، لیکن ریاض اب بھی غزہ کی حمایت پر یمن کو سزا دینے اور کشیدگی بڑھانے پر اصرار کر رہا ہے۔
حزام الاسد نے آخر میں کہا کہ سعودی حکومت کا طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ یمن کے خلاف محاصرہ دراصل اس قوم کو بھوک کے ذریعے جھکانے کی کوشش ہے۔ ان کے بقول سعودی عرب یمن کے خلاف اپنی پالیسیوں میں نہ اپنے حقیقی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے اور نہ کوئی مستقل منصوبہ رکھتا ہے، بلکہ وہ اپنے مفادات کو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لیے قربان کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔