اربعین، دینِ اسلام کے تحفظ، ولایت کی تجدید اور امتِ مسلمہ کی بیداری کا عظیم ترین مظہر ہے: آیت اللہ فاضل لنکرانی

جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی نے کہا ہے کہ امام حسینؑ کی شہادت کا بنیادی مقصد دینِ اسلام، قرآن اور حاکمیتِ الٰہی کا تحفظ تھا

ID: 86683 | Date: 2026/07/28

جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی نے کہا ہے کہ امام حسینؑ کی شہادت کا بنیادی مقصد دینِ اسلام، قرآن اور حاکمیتِ الٰہی کا تحفظ تھا، اور آج بھی "خونخواہیِ امام حسینؑ" کا جاری رہنے والا سلسلہ قرآن کو تحریف اور اسلام کو انحراف سے محفوظ رکھنے کی ضمانت ہے۔


کرمان کے شہر شہداد سے تعلق رکھنے والے اربعین کے زائرین سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی ایک بڑی برکت یہ ہے کہ دین کی خدمت اور اس کے دفاع کی ذمہ داری صرف علماء تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر مسلمان، خصوصاً ہر ایرانی، پر عائد ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہر وہ شخص جو اسلام، ایران اور مکتب اہل بیتؑ کی حمایت میں کھڑا ہے، درحقیقت امام حسینؑ کے لشکر کا سپاہی ہے۔


آیت اللہ فاضل لنکرانی نے کہا کہ امام حسینؑ نے اپنی جان اس لیے قربان کی کہ دینِ خدا باقی رہے اور کوئی قرآن و اسلام کو اپنی خواہشات کے مطابق تبدیل نہ کر سکے۔ ان کے بقول قرآن واضح طور پر اللہ کی حاکمیت کا اعلان کرتا ہے، جبکہ طاغوتی طاقتیں اپنی حکمرانی مسلط کرنا چاہتی ہیں، اسی لیے ظلم اور استکبار کے خلاف مزاحمت حسینی فکر کا بنیادی تقاضا ہے۔


انہوں نے کہا کہ اربعین کی مجالس، مذہبی اجتماعات اور ثقافتی سرگرمیاں درحقیقت لشکرِ امام حسینؑ کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں اور نوجوان نسل میں دینی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔


رکن جامعہ مدرسین نے زیارتِ اربعین کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اہل بیتؑ "نورِ واحد" ہیں، اس لیے کسی ایک امام کی زیارت درحقیقت تمام ائمہؑ اور انبیائے الٰہی کی زیارت کے مترادف ہے۔ انہوں نے زائرین کو نصیحت کی کہ اس روحانی سفر کی قدر کریں کیونکہ زیارتِ امام حسینؑ انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوارنے کا ذریعہ بنتی ہے۔


آیت اللہ فاضل لنکرانی نے حالیہ دنوں میں زیارت اور عزاداریِ امام حسینؑ کے فضائل پر اٹھائے جانے والے بعض اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی آیات کو غلط انداز میں پیش کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قرآن میں اعمال کے مشاہدے کا ذکر ہے، جبکہ اجر و ثواب کی وسعت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وابستہ ہے، اور خود قرآن متعدد مقامات پر نیک اعمال کے کئی گنا اجر کی بشارت دیتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ پر ایک قطرہ آنسو یا ان کی زیارت پر عظیم اجر کی روایات قرآن کے خلاف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل کی مظہر ہیں۔ انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اللہ کی عطا اور اس کے فضل کی حدود متعین کرے۔


انہوں نے مزید کہا کہ معتبر روایات کے مطابق ہر شبِ جمعہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت کربلا پر نازل ہوتی ہے اور انبیاء، ملائکہ اور اوصیائے الٰہی روحانی طور پر وہاں حاضر ہوتے ہیں، جس سے زیارتِ امام حسینؑ کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔


اپنے خطاب کے اختتام پر آیت اللہ فاضل لنکرانی نے زائرین سے دعا کی کہ وہ زیارتِ اربعین کے اس عظیم سفر سے روحانی فیوض و برکات حاصل کریں اور حقیقی معنوں میں ولایت، اسلام اور اہل بیتؑ کے خدمت گزار اور امام زمانہؑ کے وفادار سپاہیوں میں شامل ہوں۔