بحری جہازوں کیخلاف کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائیگا، ایرانی عسکری قیادت

ایرانی پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 20 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ID: 87291 | Date: 2026/09/09

اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایرانی نگرانی کے نظام کو مکمل طور پر فعال قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف علی عبداللہیٰ نے واضح کیا کہ ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے جواب میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بھی آبنائے ہرمز میں ایران کی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی جدید ٹیکنالوجی ایرانی نگرانی کے نظام کو عبور نہیں کرسکتی، آبنائے ہرمز میں ایرانی نگرانی کا نظام مکمل طور پر فعال ہے۔


 


ان کا کہنا تھا کہ خلیج فارس کا کنٹرول ایران کے باصلاحیت نوجوانوں کے پاس ہے، انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو کیوبا کے ساحلوں تک محدود رہنا چاہیئے۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کرچکی ہے، حالیہ دنوں میں امریکا کی جانب سے ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں اور ایران کی جانب سے امریکی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔


 


ایرانی پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 20 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ


 


اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی فورسز کی جانب سے 5 ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے خلیج فارس میں 20 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ بحریہ نے خلیج فارس میں 2 امریکی بحری جہازوں اور 8 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے مزید 10 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاز آبنائے ہرمز کے ایک ممنوع اور غیر محفوظ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔


 


پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے یہ حملہ ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا، امریکا سے انتقام لیتے ہوئے دشمن کو غیر معمولی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے امریکا کے آئل ٹینکرز پر حملے کے بعد اردن کے "الازرق" میں واقع امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ اردن کی جانب سے امریکی اڈے پر حملے کی فوری کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔