آبنائے ہرمز پر ایران کی عملداری بدستور قائم ہے: ترجمانی ایرانی فوج

ہم نے اپنی شرائط امریکہ کو منتقل کردیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرنیکی صلاحیت سے محروم ہیں، جنرل محسن رضائی

ID: 87517 | Date: 2026/10/01

ارنا کی رپورٹ کے مطابق، بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے شمشیري اسٹریٹ پر ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہرمز ایک ایرانی آبنائے اور ہمارا اسٹریٹجک اثاثہ ہے ایرانی قوم کے سپوت پوری قوت اور عزم کے ساتھ  ملک و ملت کے حقوق کا دفاع کریں کر رہے ہیں۔


 


انہوں آٹھ سالہ دفاع مقدس (ایران-عراق جنگ) کے دوران جانوں نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی دشمن یہ سجھ رہا تھا کہ وہ برق رفتار آپریشن کے ذریعے ایرانی قوم کو غفلت میں دبوچ سکتا ہے؛ لیکن عوام کی موجودگی، مسلح افواج کی مزاحمت اور اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر خود دشمن کو حیران و ششدر ہوگیا۔


 


آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کا ایک اہم ترین نتیجہ یہ نکلا ہے کہ  آچ آبنائے ہرمز پر ایران کی عملداری قائم ہوچکی ہے اور مسلح افواج اس موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔


 


انہوں نے مزید کہا کہ دشمن میڈیا بیانیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے نقل و حمل کو معمول کے مطابق دکھانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن توانائی کی منڈی اور جہاز رانی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے موجودہ صورتحال کا موازنہ جنگ سے پہلے کے حالات سے نہیں کیا جا سکتا۔"


 


ایرانی فوج کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز ایک ایرانی آبنائے اور اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔مسلح افواج کے جوان پوری قوت کے ساتھ قوم کے حقوق کا دفاع کریں گے۔


 


انہوں نے کہا کہ دشمن کو اس اسٹریٹجک راستے کا ویسا فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے جیسا ماضی میں اٹھایا گیا تھا، اور عوام کے ساتھ کیے گئے اپنے عہد پر ثابت قدم رہیں گے۔


 


ہم نے اپنی شرائط امریکہ کو منتقل کردیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرنیکی صلاحیت سے محروم ہیں، جنرل محسن رضائی


 


اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ جنرل "محسن رضائی" سے نائب آذری وزیراعظم "شاهین مصطفی‌اف" نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں جنرل محسن رضائی نے کہا کہ "ایران" پر "امریکہ" و "اسرائیل" کا حملہ تمام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ اس جنگ کے جواب میں ایران نے اپنا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ" ایک سراب میں پھنس چکے ہیں۔ وہ نہ مذاکرات کر سکتے ہیں اور نہ جنگ لڑ سکتے ہیں۔ ہم نے امریکہ کو اپنی شرائط منتقل کر دیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرنے کی طاقت سے محروم ہیں۔ جنگ میں ناکامی کی وجہ سے امریکہ نے ایران کا ہوائی محاصرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے خطے میں باہر سے کئی افراد آئے اور چلے گئے لیکن ایران اور علاقائی ممالک اب بھی اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ ہم "قفقاز" کے علاقے میں قیامِ امن کے لئے مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جنرل محسن رضائی نے کہا کہ خطے میں امریکہ کا کوئی مستقبل نہیں۔ ایران پوری طاقت سے اس کے سامنے کھڑا ہے۔


 


ایران کیخلاف آذربائیجان کی سرزمین کے استعمال کی قیاس آرائیوں کی تردید


دوسری جانب اس ملاقات میں شاهین مصطفی‌اف نے کہا کہ 40 روزہ جنگ کے دوران قیام امن اور جنگ کے اختتام کے حوالے سے آذری صدر کا موقف، دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران، آذربائیجان کا دوست اور برادر ملک ہے۔ اس لئے ایران کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال کی قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہیں۔



ترجمانی ایرانی فوج