نماز میت

سوال: نماز میت کی شرائط بتائیے؟

نماز میت میں قربت کرنا اور میت کو اس طرح معین کرنا کہ کوئی ابہام نہ رہے

سوال: نماز میت کی شرائط بتائیے؟

جواب: نماز میت میں  قربت کرنا اور میت کو اس طرح معین کرنا کہ کوئی ابہام نہ رہے ، واجب ہے اگر چہ میت  حاضر یا جس کو امام نے معین کیا ہے  اس کی نیت کرے اور قبلہ کی طرف رخ کرنا اور کھڑے ہونا اور میت کو پشت کے بل لٹانا جب کہ نماز گزار امام یا کوئی اکیلا ہی اس پر نماز پڑھ رہا ہو تو میت کو اس کے با لمقا بل رکھنا واجب ہے لیکن اگر نماز گزار مقتدی ہو تو یہی کافی ہے کہ وہ اس صف میں  ہو جو اس شخص سے متصل ہے جس کی بالمقابل میت رکھی گئی ہے اور یہ کہ اس کا سر نماز گزار کے دائیں  اور بائیں  جانب ہو اسی طرح نماز گزار اور میت کے در میان کوئی چیز مثلا پردہ یا دیوار وغیرہ حا ئل نہ ہو کہ جس کے ہو تے ہو ئے اسے نما ز میت نہ کہاجاسکے البتہ اگر میت تا بوت وغیرہ میں  نماز گزار کے سامنے پڑی ہو تو اس میں  کوئی حرج نہیں  نیز یہ کہ نماز اور میت کے مابین اتنا زیادہ فاصلہ نہ ہو کہ اس پر کھڑا ہونا صادق نہ آئے مگر یہ کہ مقتدی ا ور میت کے ما بین اتنا زیادہ فاصلہ ہو تو کوئی حرج نہیں   ہے جب کہ صفیں  آپس میں  ملی ہوئی ہو ں  اور یہ کہ میت اور نمازی میں  سے کوئی بھی دوسرے سے بہت زیادہ بلند نہ ہو اور یہ کہ نماز ، غسل و کفن اور حنوط کے بعد پڑھی جائے سوئے اس میت کے کہ جس سے غسل و کفن اور حنوط ساقط ہو گیا ہو مثلا شہید یا اس کے لئے یہ چیز یں  ممکن نہ ہوں  تو ان کے بغیر ہی میت پر نماز پڑھی جائے نیز میت کی شرمگاہ چھپی ہوئی ہو اور جسے  با لکل ہی کفن نہ دیاگیا ہو تو اگر اسے قبر میں  رکھنے سے پہلے کسی چیز سے اس کی شرمگاہ کو ڈھانپنا ممکن ہو تو اسے ڈھانپا جائے گا اور اس پر نماز پڑھی جائے گی وگرنہ اس کے لئے قبر کھودی جائیگی اور اسے پشت کے بل قبر میں  رکھا جائے گا اسی طرح اینٹوں  ، پتھرں  یا مٹی کے ساتھ اس کی شرمگاہ کو چھپایاجائے گا اور اس پر نماز پڑھی جائے گی پھر نماز کے بعد اسے اس طرح قبر میں  لٹایاجائے گا کہ جس طرح لٹانا واجب ہے پھر اسے دفن کر دیا جائے گا ۔  

تحریر الوسیلہ، ج 1، ص 73

ای میل کریں