اگر جانتا ہو کہ نماز ظہرین میں نورکعات پڑھی ہیں  لیکن یہ نہ جانتا ہوکہ نماز ظہر میں  ایک رکعت زیادہ پڑھی گئی ہے یا نماز عصر میں  تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟

اگر جانتا ہو کہ نماز ظہرین میں نورکعات پڑھی ہیں لیکن یہ نہ جانتا ہوکہ نماز ظہر میں ایک رکعت زیادہ پڑھی گئی ہے یا نماز عصر میں تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟

سوال: اگر جانتا ہو کہ نماز ظہرین میں نورکعات پڑھی ہیں  لیکن یہ نہ جانتا ہوکہ نماز ظہر میں  ایک رکعت زیادہ پڑھی گئی ہے یا نماز عصر میں  تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟

جواب: اگرجانتا ہوکہ نماز ظہرین میں نورکعات پڑھی ہیں  لیکن یہ نہ جانتا ہوکہ نماز ظہر میں  ایک رکعت زیادہ پڑھی گئی ہے یانماز عصر میں  پس اگر نماز عصر کے سلام کے بعد شک لاحق ہوگیا ہوتواس پر واجب ہے کہ ما فی الذمہ کی نیت سے چار رکعات بجالائے ،لیکن اگرسلام سے پہلے شک لاحق ہوا ہو تو اگردونوں  سجدے مکمل طور پر بجالانے سے پہلے ہوتوبظاہر اس صورت کاحکم یہ ہے کہ د وسری نماز باطل ہے اورپہلی صحیح اوراگردونوں  سجدے مکمل طور پر بجالانے کے بعد ہوتواسے چاہئے کہ نیت نماز ظہر کی طرف پھیر لے اورنماز مکمل کرے ،اس کے علاوہ اس پر کچھ واجب نہیں۔

تحریر الوسیلہ، ج 1، ص 241

ای میل کریں