وہ خداوند عزو جل کی معرفت کا راستہ ہے اور وہ دو طرح کا ہے: ایک راستہ تو دنیا میں ہے اور ایک آخرت میں۔
جمعه, ستمبر 11, 2015 09:01
امام علی علیه السلام فرماتے ہیں: ''جس چیز کو نهیں جانتے اس کے دشمن ہوتے ہیں ''[2] اسی لئے اولیائے خدا نے لوگوں کی سمجھ کے مطابق بعض احکام کے فلسفه اور سبب کی طرف اشاره کیا ہے۔
جمعه, ستمبر 11, 2015 08:58
وَقَالَ لَهُمْ نِبِیُّهُمْ إِنَّ آیَةَ مُلْکِهِ أَن یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ فِیهِ سَکِینَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَکَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلآئِکَةُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَةً لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ
جمعه, ستمبر 11, 2015 08:55
بہرحال، یہ آیت ان آیات میں سے ایک ہے جو آدمی کی پشت میں لرزہ پیدا کردیتی ہیں
جمعه, ستمبر 11, 2015 06:15
وه خدا جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور منظم کیا، جس نے (اس کام) اندازه مقدر کیا پهر ہدایت کی۔
جمعه, ستمبر 11, 2015 01:42
جمعه, ستمبر 11, 2015 11:21
جمعه, ستمبر 11, 2015 01:07
سجدہ میں ذکر پڑه سکتی ہے بلکہ مستحب ہے کہ نماز کے وقت روئی بدل کر با وضو یا تیمم کرکے قبلہ رخ بیٹه کر ذکر، دعا اور صلوات پڑهنے میں مشغول رہے۔
جمعه, ستمبر 11, 2015 12:16