امام خمینی (رح) اور شریک حیات

امام خمینی (رح) اور شریک حیات کا احترام

گھر کے کاموں میں شریک حیات کی مدد کرنا نبی (ص) اور علی (ع) کی سیرت کا جز ہے

امام خمینی (رح) اور شریک حیات کا احترام

حجت الاسلام و المسلمین سید احمد خمینی (رح) کے حوالہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: امام میری والدہ سے حیرت النگیز رابطہ رکھتے اور بے انتہا محبت کرتے تھے اور اپنی شریک حیات کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔ اگر عرض کروں کہ آپ نے پوری 60/ سالہ زندگی میں کبھی بھی میری والدہ سے پہلے دسترخوان پر نہیں گئے۔ پوری عمر میری والدہ سے ایک گلاس پانی بھی نہیں مانگا بلکہ خود ہی اقدام کرتے تھے اور اگر کبھی ایسے حالات ہوجائےکہ خود نہیں لے سکتے تو کہتے، یہاں پانی ہے؟ لیکن کبھی نہیں کہتے کہ مجھے پانی دو۔ امام آخری عمر میں بھی جب تک والدہ دسترخوان پر نہیں آجائیں کھانا شروع نہیں کرتے تھے۔

گھر کے کاموں میں شریک حیات کی مدد کرنا نبی (ص) اور علی (ع) کی سیرت کا جز ہے۔ روایت ہے کہ رسولخدا (ص) حضرت علی (ع) کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ فاطمہ (س) دیگ کے پاس ہیں اور حضرت علی (ع) دال چن رہے ہیں۔ رسولخدا (ص) نے فرمایا: اے علی! جو شخص بھی گھر میں اپنی شریک حیات کی مدد کرے اور ایسے غرور نہ ہو تو خداوند عالم اس کا نام شہیدوں میں لکھتا ہے۔ اے علی ! عورتوں کی خدمت کرنے والے صدیقین اور شہداء ہیں یا وہ لوگ ہیں جن سے خداوند عالم نے دنیا و آخرت کا خیر چاہا ہے۔ (الحیاة، ج 8، ص 495)

امام خمینی (رح) بھی اسی سیرت پر قائم تھے۔ امام اپنی شریک حیات سے بہت محبت کرتے اور ہمیشہ تاکید کرتے تھے کہ ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کیا جائے۔ مرحوم سید احمد خمینی نے فرمایا کہ حضرت امام نے آخری عمر میں میری ماں کا ہاتھ پکڑا اور میرا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کرنا۔ ایک بار امام سے سوال کیا گیا کہ آپ اس قدر اپنی اہلیہ سے کیوں محبت کرتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا: اس لئے کہ یہ بہت ہی وفادار اور جاں نثار ہیں اور جو مصائب اور مشکلات انہوں نے برداشت کئے ہیں کسی اور نے برداشت نہیں کئے ہیں اور والدہ سے ہمیشہ کہتے کہ مجھ سے راضی رہو۔

ہم یہاں پر امام خمینی (رح) کی شریک حیات مرحومہ خدیجہ ثقفی کا کچھ تذکرہ ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ ایک روحانی گھرانے میں پیدا ہوئیں اور طفولیت اور نوجوانی کے ایام اپنی نانی کے گھر یعنی آقا اشراقی کے گھر میں گذارے ہیں وہاں مکمل عیش و عشرت کی زندگی گذار رہی تھیں لیکن شادی کے بعد ایک معمولی، سادہ اور طالبعلمی کی زندگی گذارنے پر خود کو آمادہ کیا۔ یہ خاتون ہر مشکل مرحلہ میں امام کے ساتھ ساتھ رہیں اور غربت کے تلخ گھونٹ پیئے اور امام کے ساتھ ساتھ صبر و بردباری کا مظاہرہ کرتی رہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے فرزند آیت اللہ مصطفی خمینی (رح) کی شہادت کا روح فرسا داغ بھی تھا اور آپ امام کے ساتھ ساتھ غم والم برداشت کرتی ہیں اور آخر کار امام کی اٹوٹ محبت کے فراق کا داغ اور اس کے بعد اپنے چھوٹے بیٹے احمد خمینی کی غم انگیز رحلت کا داغ اٹھایا۔

خلاصہ یہ کہ امام خمینی (رح) کی تمام تر کامیابیوں میں خدیجہ ثقفی کا کردار نمایاں ہے اور آپ مرتے دم تک امام کی فکر اور آپ کے مشن کی دل و جان سے حامی اور فدائی رہیں۔ جس طرح امام آپ سے بے حد محبت کرتے تھے اسی طرح آپ بھی امام سے محبت کرتی تھیں اور امام کے قدم بقدم چلتی رہیں۔ یہ عشق اور لگاؤ کی علامت ہے۔ امام کو ہمیشہ آپ کے وجود سے ہمت اور حوصلہ مند ہے۔ امام کے ہر دکھ در میں ساتھی اور مددگار رہی ہیں۔

خداوند عالم ان سب پر اپنی رحمت نازل کرے اور سب کو اسی سیرت پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔

ای میل کریں