tramp

نتن یاہو اور ٹرامپ کا ایران کے خلاف جنگ پر اتفاق

عرب دنیا کے معروف تجزیہ نگار عبد الباری عطوان نے بدھ کے روز انٹرنیٹ اخبار رائے الیوم پر لکھا: “ہم اس بارے میں مزید وضاحت کریں گے اور ان تیاریوں اور آمادگیوں کو مندرجہ ذیل نکات میں خلاصہ کریں گے۔

نتن یاہو اور ٹرامپ کا ایران کے خلاف جنگ پر اتفاق

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، رائے الیوم نے لکھا ہے کہ جو شخص بھی اسرائیلی اور امریکی جرنیلوں کے بیانات اور خلیجی خطے میں امریکی بحری فوجوں اور بیڑوں کی وسیع پیمانے پر موجودگی کی توثیق کرتا ہے ، اسے پختہ یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ ایران پر عنقریب حملے کی ٹھوس تیاریاں جاری ہیں۔ اور ایران ان تبدیلیوں سے بخوبی آگاہ ہے اور اپنی تیاریاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے ۔

عرب دنیا کے معروف تجزیہ نگار عبد الباری عطوان نے بدھ کے روز انٹرنیٹ اخبار رائے الیوم پر لکھا: “ہم اس بارے میں مزید وضاحت کریں گے اور ان تیاریوں اور آمادگیوں کو مندرجہ ذیل نکات میں خلاصہ کریں گے:

پہلا: اسرائیلی ویب سائٹ ڈبکا نے دعوی کیا ہے کہ اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے دوست بینجمن نیتن یاھو کے مابین فون کال کے نتیجے میں ایران کے خلاف براہ راست فوجی رابطوں سے متعلق معاہدہ ہوا ہے۔

دوسرا: امریکی فضائیہ کے جرنیلوں اور کمانڈروں پر مشتمل اعلی سطح کے فوجی وفد کا بار بار اسرائیل دورہ نیز امریکی آرمی چیف آف اسٹاف “مارک ویلی” کا تل ابیب دورہ اور اسرائیلی فوجی سربراہ اور اسرائیلی فوجی جرنیلوں سے ملاقاتیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے۔

تیسرا: اسرائیلی فوجی وفد کا دورہ واشنگٹن خلیجی حکام بالخصوص سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے ملاقات کے لئے، اور ان کے ساتھ عدم جارحیت پر مبنی معاہدے پر دستخط بھی اس احتمال کو قوت دیتے ہیں کہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں کرداروں کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔

چوتھا: “ابرہم لنکن” طیارہ بردار بحری جہاز کی آبنائے ہرمز کے راستے سے پہلی بار واپسی جون کے مہینے کے بعد سے اب تک صرف ایران سے مقابلے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ معمول کے مطابق یہ ساری تیاریاں اس لئے کی جارہی ہیں کہ ایران دمشق بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب شام کے اہداف پر اسرائیل کے میزائل حملے کا بدلہ لینے کے لئے اسرائیلی اہداف پر ایک نئے حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ .

اگرچہ حقیقت بالکل مختلف ہے ، مغربی ذرائع نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حکام کا یہ خیال ہے کہ ایران میں گیس کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ہونے والے پرتشدد مظاہروں نیز عراق و لبنان میں بھی اسی طرح کے ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے ایران اب سب سے کمزور حالات سے گزر رہا ہے۔ لہذا اب وقت آگیا ہے کہ ان مظاہروں سے فائدہ اٹھائیں اور ایران پر وسیع حملہ کریں ، خاص طور پر اس کے جوہری تنصیبات ، فوجی اڈوں ، معاشی ڈھانچوں اور تیل و گیس کے کنووں کو نشانہ بنائیں۔۔

اسرائیل کے نئے وزیر جنگ نفتالی بینٹ ایران کے خلاف اس طرح کے حملوں کے سب سے زیادہ شوقین ہیں ، اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک نئی فوجی حکمت عملی تیار کی ہے ، جس میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ شام سے ایرانی افواج کا انخلا کیا جائے۔

قاہرہ میں سابق صہیونی سفیر “اسحاق لیفنون” نے اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم کے ایک مضمون میں اس نظریہ کی تائید کرتے ہوئے شام میں ایرانی فوجیوں کے خطرے سے خبردار کیا اور انہیں شام سے جلد از جلد نکالنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس سلسلے میں امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ لبنانی اور شامی حکومتوں کو پیغامات بھیج دئے گئے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لبنان اور عراق کے وزرائے اعظم کے استعفوں نے ایران کے اتحادیوں پر کڑی ضرب لگائی ہے، لیکن ایران کے خلاف کسی بھی امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے بالکل برعکس نتائج برآمد ہوں گے ، اس لیے کہ دونوں ممالک؛ عراق اور لبنان کی ملتیں مزاحمتی تحریکوں کی پشت پناہ ہیں اور ایک مزاحمتی محور پر آپس میں متحد ہیں۔  کیونکہ شام ، لیبیا ، یمن اور عراق میں براہ راست یا بالواسطہ امریکی فوجی مداخلت کے واقعات کو فراموش نہیں کیا گیا ہے۔

ایک اور بات کو دھیان میں رکھنا ہے کہ ایرانی رہنما کسی بھی جارحیت پر خاموش نہیں ہوں گے ، اور ایرانی قوم اور اس کی فوجی اسٹیبلشمنٹ امریکی اور اسرائیلی میزائلوں اور جنگی طیاروں کا کبھی بھی خیرمقدم نہیں کرے گی۔

ممکن ہے مظاہروں اور دھرنوں سے سیاسی نقصانات ہوئے ہوں لیکن ان کا کوئی فوجی اثر نہیں تھا ایران کی میزائل فورس اپنی جگہ پر قائم ہے ، اور یہی بات شام ، لبنان ، یمن اور غزہ کی پٹی میں اپنے اتحادیوں کی میزائل صلاحیتوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ شائد اسی لئے انقلابی محافظوں کے ایک فوجی مشیر نے تین دن پہلے کہا تھا کہ خلیج میں ۲۱ امریکی فوجی اڈے ہمارے میزائلوں کی زد میں ہیں اور ایران ایک بڑے دشمن سے بڑے تصادم کی تیاری کر رہا ہے۔

شائد احتجاج اور مظاہرے کسی طرح کی سیاسی الجھن پیدا کر سکتے ہوں اور میڈیا جنگ کی راہ ہموار کرسکتے ہوں، لیکن ایک بار جب چنگاری پھیل جاتی ہے تو ، یہ ایک معمولی اور ثانوی مسئلہ بن جاتا ہے ، نیتن یاہو اور اس کے عرب اتحادی ایران کا خطرہ باقی رہنے یا ٹل جانے کی صورت میں ایک دوسرے سے بکھر جائیں گے، اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ خطے کی یہ آخری جنگ ہوگی جو پورے خطے کے نقشے کو تبدیل کرے گی جو ملکوں اور قوموں کو نابود کر دے گی اور علاقے میں ایک نیا جغرافیہ اور نئی قومیں وجود میں آئیں گے۔

ای میل کریں