امام خمینی (رح)

انسانوں کی اصلاح تمام چیزوں پر مقدم ہے

تمام امور انسانی تربیت و تعمیر کا مقدمہ ہیں

انسانوں کی اصلاح تمام چیزوں  پر مقدم ہے

 

انبیاء کی تمام زحمتوں  اور روز ازل سے آج تک اولیائے خدا نے جو رنج وغم اٹھائے ہیں  اور آخر تک اٹھاتے رہیں  گے، سب اس بات کا مقدمہ ہیں  کہ اس موجود کو کہ جسے عالم خارج میں  انسان کہا جاتا ہے، انسان بنائیں ۔ انبیاء پر نازل ہونے والی تمام کتب سماوی کا یہی مقصد ہے کہ اس موجود کو جو اگر خود سر ہو اور بغیر کسی تربیت کے پروان چڑھے تو موجودات عالم میں  سب سے زیادہ خطرناک موجود ہوگا، خدائی تربیت وتعلیم کے زیر سایہ پروان چڑھائیں  تاکہ وہ موجودات میں  بہترین اور تمام خلائق میں  سب سے زیادہ افضل بن سکے۔ تمام اسلامی اور توحیدی تحریکوں  کا یہی مقصد تھا۔ اسلام میں  تمام امور، انسانی ذات کی تربیت وتعمیر کا مقدمہ ہیں ۔ اگر دو پیر والے موجود کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو یہ تمام عالم کو نابود کردے گا۔ انہی فتنہ وفساد، ویران کن جنگوں  اور ملکوں  میں  انجام پانے والے ناروا کاموں  کو روکنے کیلئے انبیاء کو بھیجا گیا ہے تاکہ بشریت کی اس راہ کی طرف ہدایت کریں  کہ اگر تمام انسان اس راہ پر قدم اٹھائیں  تو تمام انسان صحیح اور کامل بن جائیں  گے۔ اگر اس دو پیر والے موجود کی تربیت کا صحیح انتظام ہوجائے تو بشر اپنی تمام حوائج دنیا وآخرت کو پالے گا لیکن اگر یہی دو پیر والا موجود خودسر بن جائے یا اپنی فطری اور طبیعی راہ کے خلاف حرکت کرے تو وہ تمام عالم کو تباہی وبربادی سے دوچار کردے گا۔

(صحیفہ امام، ج ۱۳، ص ۱۷۱)

 

تمام امور انسانی تربیت و تعمیر کا مقدمہ ہیں

 

ان کی اصلاح ہونی چاہیے۔ میں  تو اپنی عمر کے آخر لمحات گزار رہا ہوں  لیکن آپ جوان ہیں  ان تمام مسائل کی اصلاح کریں ۔ اگر آپ استقلال کے مالک بننے کے خواہشمند ہیں  تو اپنے تمام مسائل کی اصلاح کیجئے اور اگر اپنے وسائل سے استفادہ کی خواہش رکھتے ہیں  تو تمام امور کی اصلاح کریں ۔ پوری مملکت کو اپنی اصلاح میں مشغول ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے انسانوں  کی اصلاح کریں  جو تمام چیزوں  پر مقدم ہے۔ یونیورسٹیوں  کو تربیت کا مرکز بنائیے۔ (جان لیئے کہ) علم ودانش کے علاوہ تربیت بھی لازمی ہے۔ اگر ایک مفکر تربیت یافتہ نہ ہو تو وہ اپنے معاشرے کیلئے نقصان دہ ہے۔ ایسا مفکر اور دانشمند خیانت کرتا ہے اور جو علم ودانش سے خیانت کرتا ہے اس کا خطرہ دیگر تمام افراد سے زیادہ ہے۔ اپنی یونیورسٹی کے ماحول کو ہر قسم کی آلودگی سے پاک کریں  اور اس کی تربیت کریں ۔ یونیورسٹی (شعبہ تدریس) سے وابستہ افراد کو ان پرائمری اسکولوں  میں  موجود نونہالوں  کی تربیت کرنی چاہیے، کیونکہ یہ اس مرحلے میں  تربیت کیے جانے کے قابل ہیں ۔ اگر آپ نے ان کی صحیح تربیت کی تو یہ کل ملک کو بہتر طورپر چلا سکیں  گے اور اس کے بعد آپ ان نوجوانوں  کے ذریعہ ملک کو چلانے کے قابل ہوں  گے۔ اگر آپ ملکی (اقتصادی وسیاسی۔۔۔) استقلال کے مالک بننا چاہتے ہیں  اور انشاء ﷲ سب ہی چاہتے ہیں  کہ وہ آزاد فضا میں  زندگی گزاریں  تو آپ افراد کو جو یونیورسٹی اور تربیت وتعلیم (کے مقدس شعبہ) سے وابستہ ہیں ، چاہیے کہ ان نوجوانوں  کی پہلے تربیت کریں  اور بعد میں  زیور تعلیم سے انہیں  آراستہ کریں ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت ضروری ہے۔

(صحیفہ امام، ج ۱۲، ص ۲۸)

ای میل کریں