دنیا میں اسلامی مقدسات کی توہین کیوں ہو رہی ہے

دنیا میں اسلامی مقدسات کی توہین کیوں ہو رہی ہے

دنیا میں اسلامی مقدسات کی توہین کیوں ہو رہی ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کے دشمن اور دنیا کے متکبر رہنما اسلام کی ثقافت میں اثر و رسوخ اور اسے مسخ و کمزور کرنے کے لئے توہین کا ہتھیار استعمال کر رہے ہیں مقدسات کی حرمت کو توڑ کر عمومی افکار میں ان کی اہمیت کو کم کرنا چاہتے ہیں اور جاہلوں کو ان کی بے حرمتی کرنے پر اکساتے ہیں ایسے افراد اپنے ناپاک منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے ابتداء میں اسلام کی چھوٹے چھوٹے شعائر پر حملہ کرتے ہیں اور پھر لوگوں کو آزمانے کے بعد اسلام کے بنیادی شعائر پر حملہ کرتے ہیں اب جیسے قرآن کریم کے خلاف جو بولا جا رہا ہے اس پر ایک عرصے سے کام ہو رہا ہے دشمنوں نے پہلے مسلمانوں کو آزمایا پھر ان کی خاموشی کو دیکھتے ہوے قرآن کریم پر حملہ کیا ہے اسلام کے دشمن صدر اسلام سے ہی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منصوبے بناتے رہے ہیں خاص کر یھودیوں نے صدر اسلام سے ہی اسلامی مقدسات کا مزاق اڑانا شروع کیا تھا اور اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مومنین کو ان سے دوستی کرنے سے منع کیا تھا قرآن کریم ان کے پروپگنڈوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے یرِیدُونَ لِیطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْواهِهِمْ وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ کرِهَ الْکافِرُونَ۔ یعنی اللہ تعالی اپنے نور کو کامل کرے گا چاہیے کافروں کو اچھا لگے یا نہ لگے۔

حوزہ نیوز ایجنسی نے ایک سیاسی تجزیہ نگار کا حوالہ دیتے ہوئے نقل کیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کے دشمن اور دنیا کے متکبر رہنما اسلام کی ثقافت میں اثر و رسوخ اور اسے مسخ و کمزور کرنے کے لئے توہین کا ہتھیار استعمال کر رہے ہیں مقدسات کی حرمت کو توڑ کر عمومی افکار میں ان کی اہمیت کو کم کرنا چاہتے ہیں اور جاہلوں کو ان کی بے حرمتی کرنے پر اکساتے ہیں ایسے افراد اپنے ناپاک منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے ابتداء میں اسلام کی چھوٹے چھوٹے شعائر پر حملہ کرتے ہیں اور پھر لوگوں کو آزمانے کے بعد اسلام کے بنیادی شعائر پر حملہ کرتے ہیں اب جیسے قرآن کریم کے خلاف جو بولا جا رہا ہے اس پر ایک عرصے سے کام ہو رہا ہے دشمنوں نے پہلے مسلمانوں کو آزمایا پھر ان کی خاموشی کو دیکھتے ہوے قرآن کریم پر حملہ کیا ہے اسلام کے دشمن صدر اسلام سے ہی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منصوبے بناتے رہے ہیں خاص کر یھودیوں نے صدر اسلام سے ہی اسلامی مقدسات کا مزاق اڑانا شروع کیا تھا اور اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مومنین کو ان سے دوستی کرنے سے منع کیا تھا قرآن کریم ان کے پروپگنڈوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے یرِیدُونَ لِیطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْواهِهِمْ وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ کرِهَ الْکافِرُونَ۔ یعنی اللہ تعالی اپنے نور کو کامل کرے گا چاہیے کافروں کو اچھا لگے یا نہ لگے۔

رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) فرماتے ہیں کہ جب بھی دشمن مسلمانوں کی سر زمین پر حملہ کریں یا اسلام کی مقدسات کی بے حرمتی یا مذہبی رسومات کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کریں تو ایسے وقت میں انبیاء علیھم السلام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے ایسے افراد کے خلاف قیام اور جہاد کریں۔

ای میل کریں