امام خمینی (رہ) نے ہر اسلامی اور غیر اسلامی ملک کو امریکی پالیسیوں کی حقیقت سے روشناس کرایا

امام خمینی (رہ) نے ہر اسلامی اور غیر اسلامی ملک کو امریکی پالیسیوں کی حقیقت سے روشناس کرایا

امام خمینی (رہ) نے ہر اسلامی اور غیر اسلامی ملک کو امریکی پالیسیوں کی حقیقت سے روشناس کرایا

ہم جب عالم اسلام کے حالات اور ان میں امریکی مداخلت کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں لامحالہ اس صدی کے عظیم سیاسی رہنماء اور انقلاب اسلامی ایران کے بانی حضرت امام خمینی کے اقوال اور پالیسیوں کا تذکرہ کرنا پڑتا ہے۔ 70ء کی دہائی میں جب امام خمینی کی انقلابی جدوجہد عروج پر تھی تو انہوں نے دنیا بھر کو امریکی عزائم سے آگاہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہر اسلامی اور غیر اسلامی ملک کو امریکی پالیسیوں کی حقیقت سے روشناس کرایا۔ امام خمینی نے کئی دہائیاں پہلے ہی امریکہ کے منصوبوں کو بے نقاب کیا اور عالم اسلام کو باور کرایا کہ امریکہ ایک ایک کرکے سب کو نگل جائے گا یا پھر غلام بنا لے گا۔ یہ بات کہنے میں کسی قسم کی عار نہیں کہ اس صدی میں اگر سب سے پہلے کسی رہنماء نے امریکہ کے سامنے اپنا سینہ تان لیا تھا تو وہ امام خمینی ؒ تھے، ان سے پہلے کسی نے امریکہ کے خلاف بات کرنے کی جرات پیدا نہیں کی۔

اس کی زندہ مثال تب سے لے کر اب تک عرب حکمران ہیں، جو امریکہ کی کاسہ لیسی اور اسرائیل کے خوف کا شکار چلے آرہے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال سعودی عرب کا حالیہ کردار، امریکیوں کی سعودی عرب میں سرگرمیاں اور اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کی دوستی بلکہ غلامی کا شرمناک آغاز ہے، جس پر دنیا کا ہر غیرت مند انسان شرمندہ ہے۔ ماضی میں امام خمینی نے عربوں کو متعدد مرتبہ جھنجھوڑا کہ عوام کو ان کے حقوق دو، بادشاہت کا خاتمہ کرو، آمریت کو اپنے ملکوں سے نکالو، خاندانی اقتدار کو خیر باد کہو، امریکہ سمیت ہر استعمار کی غلامی سے انکار کرو اور ہر عرب ملک میں اسلامی اور جمہوری حکومت قائم کرو، تاکہ اسلام اور عوام مل کر انسانیت کی خدمت کریں اور اسلامی ممالک سے بدنامی کا داغ دور ہوسکے۔ لیکن عرب ممالک نے امام خمینی کے اس اصلاح پسندانہ نعرے اور قول کو مثبت کی بجائے منفی لیا اور انقلاب اسلامی سے پہلے بالعموم اور انقلاب اسلامی کے بعد بالخصوص امام خمینی کی ذات اور ان کی قیادت میں لائے ہوئے اسلامی، عوامی، جمہوری اور تاریخی انقلاب کے خلاف عملی اقدامات شروع کر دیئے۔

عرب ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ اور اتحاد کے ساتھ امام خمینی اور ان کے انقلاب کو ناکام بنانے کے لیے ہر قسم کا حربہ اختیار کیا۔ چاہے وہ عربی و عجمی کی شکل میں قبل از اسلام والی جاہلانہ منطق ہو یا تیل کے وسائل پر قبضے کا بہانہ ہو یا پھر مقامات مقدسہ پر عوامی و جمہوری قبضے کا خود ساختہ ڈر ہو۔ ہر طرح سے امام خمینی کی مخالفت اور ان کے دشمنوں کی حمایت کی گئی۔ امام خمینی کے دشمنوں میں سرفہرست امریکہ، اس کے بعد اسرائیل اور اس کے بعد ہر وہ عنصر شامل تھا، جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف تھا۔ یہ حقیقت بھی اسی صدی میں امام خمینی کے حصے میں آئی کہ انہوں نے اتحاد بین المسلمین کا جو قرآنی اور نبوی فلسفہ مسلمانوں کو دیا، وہ ان کی صدی یا ان کے بعد تاحال کسی نے نہیں دیا۔ بعد میں آنے والے سب لوگوں نے امام خمینی سے ہی الہام لیا اور اتحاد بین المسلمین کے لیے سرگرم ہوئے۔ پاکستان میں ایم ایم اے اور اس جیسے دیگر جتنے فورم بنے، وہ سب امام خمینی ؒکی وحدت پالیسیوں کے مرہون منت ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی عرب ملک نے عالم اسلام میں اتحاد و وحدت کے عملی فروغ اور وسعت کے لیے اتنے عملی اقدامات نہیں اٹھائے، جتنے ایران نے گذشتہ ۲۴ سال میں اٹھائے ہیں۔ وحدت امت اور اتحاد بین المسلمین کے مقصد کے تحت اس صدی کے سب سے بڑے اور عالمی پروگرام ایران میں منعقد ہوئے ہیں۔ جس میں پورے عالم اسلام سے ہر مکتب فکر اور مسلک کے علماء و اکابرین نے شرکت کی ہے۔ اس سے بڑھ کر ایران نے عالمی مذاہب اور ادیان کی باہمی قربتوں میں اضافے کے لیے جتنے اقدامات اٹھائے ہیں، وہ بھی اس صدی کی عظیم نظیر ہیں۔ اس طرح کے اقدام کسی عیسائی، یہودی، ہندو یا بدھ مت حتی کہ کسی اسلامی ملک کے سربراہ یا رہنماء نے ایران سے پہلے نہیں اٹھائے تھے۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام خمینی فقط عالم اسلام کے نہیں بلکہ ہر مذہب کے خیرخواہ تھے اور چاہتے تھے کہ عالمی سطح پر اسلامی مسالک کے علاوہ مذاہب کے درمیان بھی ہم آہنگی، تعاون اور ربط و محبت میں اضافہ ہو اور اختلافات و تعصب کا خاتمہ ہو۔ یہ ادا امام خمینی کو دوسرے لیڈروں سے منفرد و ممتاز کرتی ہے۔

پاکستان سیاسی، خارجی اور داخلی لحاظ سے ہر کوشش کے باوجود امریکی تسلط اور امریکی پنجوں سے نجات حاصل کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ روز بروز امریکی خیرات اور امداد کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے، حالانکہ پاکستانی عوام کی غالب اکثریت چاہتی ہے کہ امریکی طاغوت سمیت ہر طاغوت کے نظریاتی، فکری، مالی، عسکری اور ہر قسم کے تسلط سے پاکستان کو آزاد کرایا جائے۔ امریکہ و سعودی عرب کی بجائے افغانستان، چین اور ایران سے تعلقات، محبت، دوستی اور خارجی معاملات میں قربت پیدا کی جائے۔ لیکن ہم اپنے خطے میں اتحاد قائم کرنے کی بجائے اپنے ہمسایوں کے خلاف بننے والے اتحادوں میں نہ صرف شامل ہو رہے ہیں بلکہ فعالیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، نہ صرف فعالیت کر رہے ہیں بلکہ سربراہی کر رہے ہیں، جس کے شاخسانے اب آہستگی سے نہیں بلکہ سرعت سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ ہمیں بالآخر ایسے اتحادوں سے دست کشی کرنا پڑے گی، ورنہ دست قلمی ہمارا مقدر بنے گی۔

اگر ہم چین اور ایران سے اقتصادی، معاشی، زرعی، عسکری اور توانائی کے تمام تر معاملات میں معاہدہ کر لیں تو پاکستان داخلی سطح پر بھی مضبوط ہوسکتا ہے اور عالمی و خارجی سطح پر بھی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے لیے تھوڑی سی مشکل اور تھوڑا کٹھن وقت برداشت کرنا پڑے گا، لیکن بالآخر تنگی کے بعد آسانی پیدا ہونے کا قرآنی اور الہیٰ وعدہ پورا ہوگا۔ اگرچہ ہم چین اور ایران سے میل جول بڑھا کر اور تعلقات میں اضافہ کرکے معاہدے کریں گے تو اس میں پاکستان کا اپنا ملکی مفاد ہوگا بلکہ اس کے ساتھ امام خمینی کی دیرینہ خواہش بھی پوری ہو جائے گی، جس میں وہ عالم اسلام کو متحد و متفق ہوتا اور امریکہ کے خلاف اپنی غیرت و قوت کو مجتمع دیکھنا چاہتے تھے۔ آج عالم عرب میں امام خمینی کی جدوجہد کے اثرات واضح طورپر نظر آرہے ہیں، عرب حکمران کوشش کے باوجود عوام کو انقلابی فکر اور انقلابی اقدامات سے باز رکھنے پر قادر نہیں رہے ہیں۔ امریکہ اور اس کے عرب حواری بھرپور کوششوں میں ہیں کہ عوام کو ان کے جمہوری حقوق نہ ملیں، لیکن حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور ہر آنے والے سال میں بہت ساری تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں۔

جس طرح حالیہ دنوں امریکہ افغانستان، عراق اور پاکستان میں برے طریقے سے پھنس اور شکست کھا چکا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں اور اداروں کو چاہیئے کہ ہر قسم کی قربانی دے کر امریکی غلامی اور تسلط سے پاکستان کو نجات دلائیں اور پاکستان کے حقیقی دوستوں کے ساتھ اتحاد کرکے پورے عالم اسلام کو امریکی یلغار سے محفوظ رکھنے کے لیے بند باندھ دیں۔ گذشتہ پانچ سال میں بالعموم اور گذشتہ چند ماہ میں بالخصوص پاکستان کے ہمسایہ اور قریب ترین ممالک یعنی ایران، چین، افغانستان اور بھارت کی بدلتی صورت حال کا براہ راست اثر پاکستان کے داخلی اور خارجی حالات پر مرتب ہو رہا ہے۔ چین اور ایران کے باہمی معاہدے، بھارت اور افغانستان کے باہمی معاہدے، بھارت اور ایران کے باہمی معاہدے، چین اور افغانستان کے باہمی معاہدے اور ان تمام ممالک کا آپس میں روز بروز بڑھتا ہوا دوستانہ اور خیر سگالی کا رویہ اگرچہ انسانی معاشرے کے تقاضوں کو پورا کرتا دکھائی دے رہا ہے، لیکن پاکستان کی خطرناک حد تک پہنچنے والی امریکہ و سعودی دوستی پاکستان کو خطے میں تنہا کرنے اور پاکستان کی سلامتی کو غیر محفوظ کرنے کی طرف تیز ترین سفر ہے، جسے فوری ختم ہونا چاہیئے۔

خطے اور ہمسایہ ممالک کی تازہ پالیسیاں اور پاکستان کا ہر ہمسائے سے بلا وجہ محتاط رویہ پاکستانی عوام کے لیے ناقابل قبول بنتا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان کی اندرونی اور بیرونی صورت حال جس سطح تک پہنچ چکی ہے، اس کے اسباب خود پاکستانی حکومت اور ریاستی ادارے اکثر اوقات بیان کرتے رہتے ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ اسباب بیان کرنے کی بجائے تعلقات قائم کرنے کی طرف پیش رفت کی جائے اور ملکی سلامتی سے وابستہ اس سلسلے کو انتہائی سرعت کے ساتھ آگے بڑھاتے ہوئے چین کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ ترجیح ایران کو دی جائے، اس سے جہاں پاکستان معاشی اور اقتصادی و عسکری لحاظ سے مضبوط ہوگا، وہاں مغربی اور جنوبی سرحد کی طرف سے اطمینان و سکون حاصل ہوگا۔ اگر پاکستان اور ایران کے باہمی برادرانہ تعلقات مثالی ہو جائیں تو یہ امام خمینی کی دیرینہ خواہش کی تکمیل بھی ہوگی اور پاکستان کے مرکز اسلام بننے کے راستے بھی ہموار ہوں گے۔

ای میل کریں