طوفان الاقصی، مسئلہ فلسطین کی تاریخ کا اہم موڑ

طوفان الاقصی، مسئلہ فلسطین کی تاریخ کا اہم موڑ

آئندہ انجام پانے والے تجزیات اس فوجی آپریشن کی بنیاد پر پیش کئے جائیں گے اور وہ یقیناً پہلے سے مختلف ہوں گے

تحریر: مجتبی فردوسی پور

 

طوفان الاقصی فوجی آپریشن مکمل طور پر ایک جارحانہ اور ہائبرڈ آپریشن تھا۔ حماس کے اس فوجی آپریشن میں چند بٹالینز شامل تھیں جو اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کیلئے بہت بڑا سرپرائز ثابت ہوا۔ اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان 2006ء میں 33 روزہ جنگ کی طرح اس بار بھی جنگ کا اختیار مکمل طور پر اسلامی مزاحمت کے ہاتھ میں ہے۔ یہ فوجی آپریشن خطے میں طاقت کے توازن کو اسلامی مزاحمت کے حق میں بدلنے کیلئے ایک اہم اسٹریٹجک قدم ہے۔ طوفان الاقصی آپریشن دراصل غاصب صیہونی رژیم کے ان مسلسل جارحانہ اور توہین آمیز اقدامات کا جواب ہے جو گذشتہ کچھ عرصے سے اسلامی مقدسات خاص طور پر مسجد اقصی اور قرآن کریم کے خلاف انجام پاتے آئے ہیں۔ یہ آپریشن اسلامی مزاحمت اور غاصب صیہونی رژیم کے درمیان جاری ٹکراو میں اہم اور فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔

 

آئندہ انجام پانے والے تجزیات اس فوجی آپریشن کی بنیاد پر پیش کئے جائیں گے اور وہ یقیناً پہلے سے مختلف ہوں گے۔ 1973ء میں غاصب صیہونی رژیم اور عرب افواج کے درمیان آخری روایتی جنگ انجام پائی تھی اور اس وقت سے آج تک طوفان الاقصی فوجی آپریشن انتہائی منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ یہ آپریشن انٹیلی جنس، تیزرفتار عمل، غالب حکمت عملی، دشمن کو سرپرائز دینے، دشمن کو جانی اور مالی نقصان پہنچانے اور فولادی گنبد کو شکست دینے کے لحاظ سے بھی اپنی مثال آپ ہے۔ لہذا گذشتہ آپریشنز کے تناظر میں اس آپریشن کی کچھ خصوصیات قابل ذکر ہیں:

1)۔ اب تک اسلامی مزاحمت نے غاصب صیہونی رژیم کے خلاف جتنے بھی فوجی آپریشنز انجام دیے ہیں ان کا مقصد دشمن کو خوف زدہ کر کے اسے جارحیت سے باز رکھنا تھا۔ چونکہ صیہونی رژیم جوہری ہتھیاروں سے لیس ہے لہذا طاقت کا توازن برقرار کرنا ناممکن ہے۔

 

لہذا محدود پیمانے پر دشمن کے دل میں خوف و ہراس پیدا کر کے اسے جارحانہ اقدامات سے باز رکھنا ہی اسلامی مزاحمت کی بڑی کامیابی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کامیابی شہید القدس شہید قاسم سلیمانی کی مرہون منت ہے۔ لیکن طوفان الاقصی کے نتیجے میں صرف یہ ایک کامیابی حاصل نہیں ہوئی بلکہ اسٹریٹجک توازن اسلامی مزاحمت کے حق میں تبدیل ہوا ہے۔ اس آپریشن کے 48 گھنٹے بعد تک غاصب صیہونی رژیم شدید صدمے کا شکار تھی اور اس کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ یاد رہے کچھ عرصہ پہلے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ غاصب صیہونی رژیم کو خبردار کر چکے تھے کہ اگر اس نے کوئی حماقت کی تو اسلامی مزاحمت جنگ اس کے اندر تک لے جائے گی۔

 

2)۔ اسلامی مزاحمت نے اعلی حد تک رازداری کا ثبوت دیا اور دشمن آخری لمحات تک اس کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے آگاہ نہیں ہو سکا۔ یہی وجہ تھی کہ طوفان الاقصی کے آغاز میں ہی دشمن غفلت کا شکار ہونے کی وجہ سے شکست کا شکار ہو گیا۔ غزہ میں وسیع جاسوسی نیٹ ورک موجود ہونے کے باوجود صیہونی حکمران فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد دو دن تک شدید حیرت اور سرگردانی کا شکار رہا۔ مزید برآں اسرائیل کے اتحادی ممالک بھی حیرت زدہ رہ گئے۔

3)۔ غاصب صیہونی رژیم کا جانی نقصان، قید ہونے والے اسرائیلی فوجیوں اور افسروں کی تعداد اور آپریشن کی وسعت اس قدر زیادہ تھی کہ دشمن اب تک اصل اعدادوشمار سامنے لانے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے۔ اب اسرائیل کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ یا تو غزہ پر زمینی حملہ کرے اور اپنے قیدیوں کی جان خطرے میں ڈالنے کے علاوہ جنوبی لبنان اور مقبوضہ گولان ہائٹس پر بھی جنگ شروع ہونے کا انتظار کرے یا حماس کی شرطیں مان کر ذلت آمیز شکست قبول کر لے۔

 

4)۔ اگر صیہونی رژیم حماس اور اسلامک جہاد کی شرطیں مان کر ذلت آمیز شکست قبول کر لیتی ہے تو ایسی صورت میں نیتن یاہو حکومت پر صیہونی شہریوں کا اعتماد ختم ہو جائے گا اور صیہونی فوج بھی اپنی طاقت اور اثرورسوخ کھو دے گی۔

5)۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کی سیاسی اور سکیورٹی تنصیبات غزہ کی پٹی میں واقع ہیں لہذا صیہونی فوج کی جانب سے غزہ میں داخل ہونے کا مطلب آگ سے کھیلنے کے مترادف ہو گا۔ ایسی صورت میں صیہونی فوج کو شدید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ بڑی تعداد میں صیہونی فوجیوں کے اسیر ہو جانے کا قومی امکان بھی موجود ہے۔

 

6)۔ طوفان الاقصی آپریشن اسلامی مزاحمت کی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ ہے اور اب فلسطین کی تاریخ طوفان الاقصی آپریشن سے پہلے اور بعد میں قابل تقسیم ہو جائے گی۔ مزید برآں، اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے بعد اسلامی زاحمت غاصب صیہونی رژیم کے مقابلے میں اسی حکمت عملی کو جاری رکھے گی۔

7)۔ طوفان الاقصی فوجی آپریشن کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے اسلامی ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے ناپاک منصوبے پر پانی پھیر دیا ہے۔ لہذا اب غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار کرنے کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے۔

ای میل کریں