غزہ جنگ کے سیاسی اثرات

غزہ جنگ کے سیاسی اثرات

سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری غزہ کی صورتحال پر کئی ایک تبصرے ہوتے رہے ہیں

سات اکتوبر سنہ2023ء سے جاری غزہ کی صورتحال پر کئی ایک تبصرے ہوتے رہے ہیں۔ ایک بات جو حقیقت کی طرح عیاں ہوچکی ہے، وہ یہ ہے کہ جہاں غزہ کی موجودہ صورتحال نے دوستوں اور دشمنوں کا فرق واضح کیا ہے، وہاں ساتھ ساتھ دنیا کی عالمی سیاست پر بھی ایسا اثر چھوڑا ہے کہ اب کوئی چاہتے ہوئے بھی اس اثر سے خود کو نہیں نکال سکتا ہے۔ غزہ جنگ کے دنیا کی سیاست پر پڑنے والے اثرات سب سے پہلے تو یورپ اور مغربی حکومتوں کے لئے متاثر کن ثابت ہوئے ہیں۔ یورپ بھر میں عوام کی رائے تبدیل ہوئی ہے اور حکومتوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکہ میں بھی آئندہ سال انتخابات ہونے ہیں اور ان انتخابات نے ابھی سے ہی بائیڈن انتظامیہ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔

 

خود صیہونی حکومت بھی مشکلات میں پھنس چکی ہے۔ نیتن یاہو سے ہزاروں صیہونی آباد کار چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ امریکی حکومت کے لئے یہ مسئلہ بن چکا ہے کہ اب اسرائیل کی حمایت جاری رکھیں یا اپنی جان چھڑائیں اور آئندہ انتخابات کے لئے کوئی تدبیر کریں۔ امریکی عوام مسلسل ہر ہفتہ اور اتوار کو تمام ریاستوں میں مظاہرے کرتے ہیں اور سب کا مطالبہ ہے کہ امریکی عوام کی ٹیکس کے پیسوں سے اسرائیل کو اسلحہ اور مدد بند کی جائے کہ جس کی مدد سے اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ امریکی حکومت کے لئے یہ صورتحال واقعی سخت اور مشکل ہے۔

 

بہرحال غزہ جنگ کے سیاسی منظر نامہ پر ابھی مزید اثرات آنا تو باقی ہیں، لیکن پہلا اثر ترکیہ پر آچکا ہے۔ ترکیہ جس کے صدر طیب اردگان تقریروں میں تو فلسطین کیلئے بری بڑی باتیں کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کو ملحوظ خاطر رکھتے آئے ہیں۔ غزہ کی حالیہ جنگ کے بعد ترکیہ واحد ملک ہے، کہاں بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں اور یہاں پر اردگان کی جماعت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے، بلکہ بلدیاتی انتخابات میں شکست کا سامنا ہوا ہے۔

 

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ غزہ کی سرخ لکیر نے دوستوں اور دشمنوں اور اسی طرح آستین کے سانپوں اور منافقوں کو بھی آشکار کر دیا ہے۔ غزہ میں بچے بھوک سے مرتے رہے ہیں، لیکن دوسری جانب اسرائیلی فوجی پینے کا جو پانی استعمال کر رہے ہیں، وہ ترکیہ سے سپلائی ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح ترکیہ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات سنہ1949ء سے ہی قائم ہیں۔ ترکیہ ہی غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کو سب سے زیادہ تیل اور گیس سپلائی کرنے والا ملک ہے۔ بہرحال غزہ کا معرکہ تو جاری ہے اور ابھی اور کئی چہروں سے نقاب اٹھنا باقی ہے۔ ترکیہ میں حالیہ بلدیاتی انتخابات نے ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات نے گذشتہ دس سالوں میں اردگان حکومت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں اردگان کی جماعت کو بڑے پیمانے پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 

70 سالہ صدر اردگان نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ انتخابات کے نتائج اس طرح نہیں آئے، جیسے انھیں امید تھی۔ انتخابی مہم کے دوران اردگان نے ووٹروں سے کہا تھا کہ یہ ان کا آخری انتخاب ہوگا، کیونکہ سنہ 2028ء میں ان کی صدارتی مدت ختم ہو رہی ہے۔ لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ فتح کی صورت میں انھیں آئین پر نظرثانی کرنے کی ترغیب مل سکتی تھی، تاکہ وہ دوبارہ کھڑے ہوسکیں، لیکن اتنی ڈرامائی شکست کے بعد اب اس کا امکان بہت کم دکھائی دے رہا ہے۔سیاسی مبصر بیرک ایسن نے کہا کہ اپوزیشن نے اردگان کو ان کے کیریئر کی "سب سے بڑی انتخابی شکست" سے دوچار کیا ہے۔ اس کے برعکس میئر کے انتخابی نتائج سی ایچ پی کے چیئرمین اوزغور اوزیل کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اسے ترکی کا چہرہ بدلنے والا تاریخی ووٹ قرار دیا اور ووٹروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "وہ ہمارے ملک میں ایک نئے سیاسی ماحول کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں۔"

 

خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کا نام لینے کے باوجود اردگان اسلامی اقدار کو درست انداز میں عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک طرف لبرل اسلام کی تعریف اور دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ دوستی اور اسی طرح امریکہ کے اتحادی ہونے کی حیثیت نے بھی ان کی مقبولیت میں کمی کی ہے۔ خاص طور پر غزہ کی حالیہ صورتحال، جس میں ترک حکومت کے منفی کردار نے بھی عوام کو سوچنے پر مجبور کیا ہے، جس کے باعث اردگان حکومت کو انتخابی سیاست میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تو شروعات ہے اور ابھی کئی ایک ایسے بت گرنے والے ہیں، جو غزہ میں ہونے والی نسل کشی پر امریکہ اور اسرائیل کے خاموش یا اعلانیہ اتحادی ہیں۔

ای میل کریں