روس کی وزارت خارجہ نے باضابطہ بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ ایران کئی سال تک پوری ایمانداری کے ساتھ ایٹمی معاہدے کا پابند رہا لیکن یورپ اور امریکہ نے بارہا معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے لہذا انہیں اسنیپ بیک کو فعال کرنے کا کوئی بھی حق حاصل نہیں ہے۔
جمعہ 29 اگست 2025 کو جاری ہونے والے روس کی وزارت خارجہ کے بیان میں زور دیکر کہا گيا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی 11ویں شق کے مطابق، یورپ کو اس بات کا حق حاصل نہیں کہ ایٹمی معاہدے کے "اختلافات کے حل" کے حصے کو نظرانداز کرکے سلامتی کونسل میں اپنی شکایت درج کرائے۔
اس بیان میں آيا ہے کہ تین یورپی ملکوں کا یہ دعوی کہ سلامتی کونسل سے رجوع مذکورہ مرحلے کو مکمل کرکے کیا گیا ہے سراسر غلط بیانی ہے۔
روس کے اس بیان میں آیا ہے کہ یورپ کے دعوی کے برخلاف 14 جنوری سن 2020 کو ایٹمی معاہدے کا کمیشن تشکیل نہیں دیا گیا اور اس معاہدے کی 36ویں شق کے تحت اختلافات کے حل کا مرحلہ فعال نہیں ہوا جس پر روس کی وزارت خارجہ نے 14 اور 24 جنوری 2020 کو بھی زور دیا تھا اور اس سلسلے کی رپورٹ جاری کی تھی۔
اس بیان میں آیا ہے کہ روس اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو دی جانے والی رپورٹوں میں بارہا اس موضوع کی وضاحت کر چکا ہے۔
ماسکو نے کہا ہے کہ یورپ حقیقت کو توڑ مروڑ کے پیش کرنے کے ناقابل معافی گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے۔
روس کے بیان میں آیا ہے کہ کیا یورپ کو نہیں معلوم کہ ایٹمی معاہدے کی شق نمبر 36 کو نظرانداز کرکے سلامتی کونسل سے رجوع کرنا خود اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے؟
روس کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے کئی سال تک پوری ایمانداری کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر عمل کیا اور امریکہ کے اس معاہدے سے نکل جانے کے ایک سال بعد تک جوابی اقدامات سے گریز کیا جس کی تصدیق آئی اے ای اے کی باضابطہ رپورٹوں میں کی گئی ہے اور آج یورپ اس بارے میں بات تک نہیں کرنا چاہتا۔
روس کی وزارت خارجہ کے بیان میں آیا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے سامنے رکاوٹیں ایران نے نہیں، مغربی ملکوں من جملہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے پیدا کیں اور ایٹمی معاہدے کو بحال ہونے نہیں دیا، حالانکہ دسمبر 2022 میں ایران اس کے لیے تیار تھا لہذا امریکہ اور یورپ کی غلطیوں کی بنیاد پر تہران کے خلاف پابندیوں کو لوٹایا نہیں جاسکتا ہے۔
اس بیان میں آیا ہے کہ اسنیپ بیک مکینزم ایک پیچیدہ طرز عمل ہے جسے برطانیہ اور "یورپی جھنڈ" اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں لیکن سب کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایٹمی معاہدہ اور قرارداد 2231 ایک متوازن نظام کے تحت تیار ہوئے تھے اور اگر انہیں ٹھیس پہنچا تو کوئی بھی بین الاقوامی نظام پائیدار نہیں رہ سکتا۔