تیرے کوچہ سے میں جاؤں بھی تو جاؤں کس جا
میرے سر میں تو ہے سودا تری خاک در کا
دیر بت خانہ میں اور میکدہ و مسجد میں
سرجھکایا کہ تو شاید ہو کہیں جلوہ نما
مدرسہ ہی مرے کام آیا نہ کچھ صحبت شیخ
دل کی کھل جائے گرہ تو جو دکھا دے غمزہ
'' ما ؤ من'' صوفی و درویش کے ہتھکنڈے ہیں
پاک کر جلوہ سے دل ، صاف ہو زنگ '' من و ما''
نیستی ہی میں جو ہستی ہے، تو میں نیست نہیں
کچھ نہ کچھ ہوں تو اسی '' کچھ'' میں دکھا دے جلوہ
محفلیں اہل دل و حال و طرب کی دیکھیں
کوئی نغمہ نہ سنا شاہد بزم آرا کا
معتکف در پہ ہوں اس پردہ نشیں کے شب ور وز
ایک غمزہ سے جو قطرے کو بنادے دریا