تجزیہ: کمیل خجستہ
1۔ ابتدا ہی سے واضح تھا کہ امریکی جنگ بندی کے دوران اپنے وعدوں کی پابندی نہیں کریں گے۔ البتہ اس وقفے نے ایران کو یہ موقع دیا کہ وہ 80 ملین بیرل تیل فروخت کرے، 30 سے زائد سپر کارگو جہازوں کے ذریعے بنیادی ضروریات کا سامان درآمد کرے، زرِ مبادلہ حاصل کرے، اور اپنے اسلحے اور گولہ بارود کی تکمیل کرے۔
2۔ ابتدا ہی سے یہ بھی واضح تھا کہ امریکہ ایک غیر متوقع صورتحال میں پھنس چکا ہے۔ اس کے کسی بھی اندازے میں یہ شامل نہیں تھا کہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کا عملی انتظام ایران کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ ان کے اندازوں میں یہ بھی شامل نہیں تھا کہ ایرانی عوام پوری یکجہتی کے ساتھ ایک پرچم تلے دشمن کے خلاف متحد ہو جائیں گے۔ وہ رہبر کی شہادت کے بعد ایران کے اندرونی انہدام کی توقع کر رہے تھے، لیکن انہیں ایک منظم، مربوط اور لچکدار نظام کا سامنا کرنا پڑا۔
3۔ اس عرصے میں امریکہ اور اسرائیل نے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام کے بارے میں ایرانی طریقۂ کار پر مبنی انتظامات کو قبول کر چکے تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے خلیج فارس کے جنوبی حصے میں ایک متبادل بحری راہداری قائم کرنے اور اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو فوجی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی، تاکہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے ہاتھ سے نکالا جا سکے۔
4۔ اس اقدام کے علاوہ امریکی فوجی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ:
الف: ایران کے اطراف اپنے جنگی بحری بیڑے تعینات کر رہے ہیں۔
ب: سلسل اپنے فوجی سازوسامان میں اضافہ اور اسے جدید بنا رہے ہیں۔
ج: تیاری کے فوجی آپریشنز (Shaping Operations) انجام دے رہے ہیں۔ ان کا مقصد ساحلی ریڈاروں اور دیگر دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنا کر مستقبل میں ممکنہ بڑے فوجی حملوں کے لیے میدان ہموار کرنا ہے۔
تاہم، ایران کی دفاعی کارروائیوں، آبنائے ہرمز میں مؤثر کنٹرول، اور جنوبی بحری راہداری کی بندش نے ان تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔