امریکہ کا شافعی علاج

امریکہ کا شافعی علاج

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر جمعہ کو ایرانی میزائل حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک فوجی لاپتہ اور چار فوجی زخمی ہوئے ہیں، جنہیں اردن کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

 

 امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر جمعہ کو ایرانی میزائل حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک فوجی لاپتہ اور چار فوجی زخمی ہوئے ہیں، جنہیں اردن کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل فاکس نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر حالیہ دنوں کے حملوں میں کم از کم 13 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے گذشتہ روز ایران کے حملوں میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر اپنے ابتدائی ردعمل میں اس واقعے کو "انتہائی افسوسناک" قرار دیتے ہوئے کہا: "یہ بہت افسوسناک ہے؛ یہ بہت افسوسناک بات ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ایسا کچھ ہوا۔ وہ ہمارے ملک کی خدمت کر رہے تھے۔"

 

ادھر کویت کی آئل کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ان کے ملک میں تیل کے ایک اہم مرکز پر حملہ کیا ہے۔ علاقائی ممالک بشمول کویت نے ایران کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہوا ہے اور اچھی ہمسائیگی بلکہ برسوں کی ہمسائیگی اور خدمات کا جواب یہ نہيں ہونا چاہیئے تھا، جس کا مظاہرہ کویت کی طرف سے ہو رہا ہے۔ کویت کا یہ عمل خطے میں امریکہ کی ناجائز موجودگی کا سبب بنا ہے، "کویت بھول گیا ہے کہ اس ملک پر صدام کے حملے کے بعد جب بعثی اس ملک سے نکلے تو انہوں نے کویت کے تیل کے کنوؤں کو آگ لگا دی، اور یہ ایرانی تیل کی صنعت کے انجینئر تھے، جنہوں نے کویت کی تیل کی صنعت کو بچانے میں مدد کی۔ ان ممالک نے امریکہ کو جو امداد دی ہے، اس نے خطے میں ہزاروں فتنہ پیدا کئیے ہیں اور خطے کا امن تباہ کیا ہے۔

 

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایران کو خطے کے ممالک کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنانا چاہیئے۔ میرے خیال میں ابھی تک جو جوابات دیئے گئے ہیں، ان میں اضافہ ہونا چاہیئے اور تیل کے انفراسٹرکچر پر بھی حملہ کیا جانا چاہیئے، کیونکہ جب تک یہ جواب نہیں دیا جاتا، امریکہ اپنے مجرمانہ اقدامات سے باز نہیں آئے گا۔ چونکہ امریکہ ان ممالک کے تیل پر انحصار کرتا ہے اور تیل کی قیمت اس کی ملکی معیشت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے صرف تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہی اس کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں چونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع صنعتی شہر ینبع سمیت سعودی عرب کے علاقوں پر حملوں کی اطلاعات شائع ہوئی ہیں۔

 

اگرچہ ایران، یمن یا کسی دوسرے فریق نے سرکاری طور پر حملوں کی ذمہ داری کی تصدیق نہیں کی ہے اور سعودی حکام نے واقعے کی نوعیت کے بارے میں واضح تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں، لیکن غیر سرکاری ذرائع خطے میں تیل کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی بات کر رہے ہیں، جس سے ملک کی تیل کی برآمدات کا سلسلہ متاثر ہوسکتا ہے۔ دریں اثناء، ایک امریکی اہلکار نے، جس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، نے Axios نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے الخرج میں پرنس سلطان ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل داغا ہے، جو تقریباً چار ماہ میں تہران کا سعودی سرزمین پر پہلا براہ راست حملہ ہے۔

 

یہ اڈہ، جس میں امریکی ایندھن کے ٹینکرز، پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور THAAD (ایئر ڈیفنس) موجود ہیں، کو میزائل حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ رپورٹس شائع ہوتے ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ برینٹ کروڈ 4.59 فیصد بڑھ کر 88.10 ڈالر فی بیرل ہوگیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 4.48 فیصد بڑھ کر 82.49 ڈالر ہوگیا، جو وسط جون کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ در این اثناء امریکی حکام نے کہا کہ ایران نے اردن میں امریکی فوجی دستوں پر گذشتہ پانچ دنوں کے دوران چار الگ الگ حملے کیے ہیں، جن میں ان کے بقول دو امریکی فوجی ہلاک، درجنوں زخمی ہوئے ہیں اور کئی ہیلی کاپٹروں سمیت امریکی فوجی ساز و سامان کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ بحرین سے بھی اس طرح کی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ وہاں بھی امریکی ففتھ فلیٹ ایرانی فورسز کے نشانے پر ہے۔

 

بہرحال خطے کی موجودہ صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران امریکہ اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ مقاصد بالخصوص حالیہ جنگ کو خطے کے مفاد میں ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے ایک طرف امریکہ کی پیٹرو ڈالر آمدنی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہوں گی اور دوسری ان تابوتوں اور باڈی بیگز میں اضافہ کرنا ہوگا، جو امریکی ہوائی اڈوں پر اتر کر  امریکی رائے عامہ میں معجزانہ تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگر اردن کے بعد خطے کے دیگر فوجی اڈوں سے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی خبریں سامنے آئیں تو جنگ کو ختم کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔

ای میل کریں