تحریر: سید طالب حیدر (قم المقدسہ)
امام خمینی رحمت الله علیه نے اپنے وصیت نامے میں یہ تاریخی جملہ تحریر فرمایا تھا کہ؛ "اگر جمہوری اسلامی ایران (استکبار عالم سے) ہار جاتا ہے تو دنیا کے محروم انسان، جنہوں نے اسلام اور حکومت اسلامی سے امید لگائی ہے مایوس ہو جائیں گے اور اسلام ہمیشہ کے لئے گوشہ نشین ہو جائے گا"۔ آج اس جملے کی اہمیت شاید آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کیونکہ ایک با انصاف آنکھ واضح طور پر یہ دیکھ سکتی ہے کہ عالمی وحشی استکبار اور ایپسٹین مافیا کے ساتھ کون کھڑا ہے؟ اور ان سے مقابلہ کون کر رہا ہے؟
اب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کن ممالک نے اپنی سر زمین پر امریکی اڈوں کے بننے کی اجازت دی اور وہیں سے آج امریکا ایران پر حملے کررہا ہے۔ کیا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نہیں کہ اس وقت صرف ایران اسلامی ہے کہ جو قرآن کی پکار "وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ" (اور تم ان سے اس وقت تک لڑو کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے) پر لبیک کہتے ہوئے انسانیت کے دشمنوں سے برسر پیکار ہے؟ تو اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ سارا ایران اسلام کا حرم ہے اور اس کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے، کوئی مبالغہ نہیں کیونکہ ایران کی حمایت یعنی حقیقی قرآنی اسلام کی حمایت ہے۔
اسلام زندہ حقیقت ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ اسلام دنیا پر غالب آجائے۔ "هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ" (اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اسی نے بھیجا ہے تاکہ اسے ہر دین پر غالب کردے)۔ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد پہلی بار با ایمان مسلمانوں میں یہ امید بیدار ہوئی کہ کسی دن اس آیت کی عملی تفسیر بھی دنیا میں نظر آسکتی ہے۔ استکبار عالم امریکا کی سربراہی میں جس طرح ذلیل اور رسوا ہورہا ہے اس کی مثال گزشتہ 150 سالوں میں نہیں ملتی۔
اس کے علاؤہ جو صورتحال غربی ایشیا میں شہید رہبر سید علی خامنہ ای کی شہادت پر دیکھی گئی کہ جس طرح کروڑوں لوگوں نے تشییع میں شرکت کرکے اپنے محبوب قائد کو رخصت کیا، یہ صرف اظہار عقیدت نہیں تھا بلکہ استکبار کے خلاف مقاومتی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان تھا، وہ مقاومتی تحریک جس کا اصلی مقصد علاقے سے امریکی اڈوں اور غاصب صیہونی ریاست کا مکمل خاتمہ ہے اور وہ وقت یقینا نزدیک ہے جب ہم یہ دونوں اہداف کی تکمیل دیکھیں گے۔ ان شاءاللہ