صداقت، ایک صحافی کا بہترین اثاثہ ہے: آیت اللہ جوادی آملی

صداقت، ایک صحافی کا بہترین اثاثہ ہے: آیت اللہ جوادی آملی

استکباری میڈیا کا جھوٹ بدبودار کچرے کی طرح ہے

7 اگست کو یوم صحافی منایا جاتا ہے، اس موقع پر آیت اللہ جوادی آملی کے بیان کا وہ حصہ نقل کیا جا رہا ہے جو کہ انہوں نے گزشتہ سال صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے بیان کیا تھا۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران صحافیوں اور نامہ نگاروں کے وجود میں روح ملکوتی کے ہونے کی ضرورت پر زور دیا، صحافت ایک ایسی چیز ہے جس کا ایک جسم ہے، صحافت کایہ جسم ہر صحافی کے پاس ہوتا ہے، لیکن ہر ایک کے جسم میں یہ روح ملکوتی نہیں ہوتی۔

انہوں نے ’صدق خبری‘ اور ’صدق مخبری‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ایک صدق خبری ہے اور ایک صدق مخبری ، جیسے کذب خبری اور کذب مخبری ہوتا ہے، صدق خبری ’خبر کی صداقت‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ خبر سچ پر منحصر ہے، صدق مخبری ’رپورٹر کی صداقت‘ کا مطلب ہے کہ یہ رپورٹر ایک ایماندار اور سچا شخص ہے، یہ ایک دوسرے سے کے لازم و ملزوم ہیں، بعض اوقات رپورٹر سچا ہوتا ہےاور صدق مخبری تو ہے لیکن اس رپورٹر کو جھوٹی خبر دے دی گئی جس کے نتیجے میں ایک جھوٹی خبر لوگوں تک پہنچی، لیکن جو چیز ہم سب کے لیے ضروری ہے وہ ہے صدق خبری اور صدق مخبری دونوں ہے۔

اگر میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد خبروں میں صداقت اور سچائی کو مد نظر رکھیں اور اس کے بعد خبروں کی تحلیل اور ان کا تجزیہ کریں تو بہت سے غیر ملکی اور جھوٹے اخبارات اور میڈیا کا دروازہ بند کر سکتے ہیں۔

 

استکباری میڈیا کا جھوٹ بدبودار کچرے کی طرح ہے

 

آیت اللہ جوادی آملی نے یومِ صحافت کے موقع پر صحافیوں سے ملاقات میں کہا کہ خبر دینا صرف ایک پیشہ نہیں، اس کا ایک دنیوی پہلو ہے جو سب کے لیے عام ہے، اور ایک روحانی پہلو ہے جو اہلِ سلوک کے لیے مخصوص ہے۔ سچی خبر کا مطلب یہ ہے کہ خبر درست ہو، اور سچا صحافی وہ ہے جو خود بھی سچ بولے۔ دونوں الگ الگ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ دونوں صفات موجود ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سچائی کی بنیاد نفس کی پاکیزگی اور علمی تحقیق پر ہے۔ درست خبر دینا تربیت اور محنت سے آتا ہے، لیکن سچ بولنے کی عادت عبادت گاہوں، مسجدوں اور دعا و مناجات سے پیدا ہوتی ہے۔ نہ میڈیا ادارے اور نہ ہی کوئی اور ادارہ کسی کو سچّا نہیں بنا سکتا۔ اگر نماز اور دعا اثر نہ کریں تو کہیں اور سے بھی اثر نہیں ہوگا۔

آیت اللہ جوادی آملی نے کہا: حق پر مبنی میڈیا کو سچائی کے ساتھ چمکنا چاہیے۔ استکباری میڈیا کا جھوٹ بدبودار کچرے کی طرح ہے، جبکہ سچی خبر دل کی فطرت سے اٹھتی ہے اور پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ جو شخص سیاسی کھیل اور جھوٹی خبر بنانے کا عادی ہو جائے، وہ جھوٹ میں جینا سیکھ لیتا ہے اور سچ سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خبر کے ساتھ علمی تجزیہ اور وجہ بیان کرنا بھی ضروری ہے، صرف اطلاع دینا کافی نہیں۔ یہ سمجھنا چاہیے کہ خبر کہاں سے آئی اور کیوں پیش آئی۔ اگر میڈیا سچ بولنے والا اور تجزیہ کرنے والا بن جائے تو وہ دنیا کے جھوٹ پھیلانے والے ذرائع ابلاغ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

ای میل کریں