حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے یومِ ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے اس مختصر تحریر میں تحریکِ حضرت اباعبداللہ الحسینؑ کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں حضرت زینبؑ کے کردار کے حوالے سے امام خمینیؒ کا ایک سبق آموز ارشاد پیش کیا جا رہا ہے:
’’اے یزید! اپنی ہر سازش اور چال چل لے، جو کوشش کرنا چاہتا ہے کر لے اور اپنی تمام تر سعی و جہد بروئے کار لا۔ خدا کی قسم! تو کبھی بھی ہمارے نام و یاد کو مٹا نہیں سکے گا، ہماری وحی کو نابود نہیں کر سکے گا اور ہماری عظمت و بلندی تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اس ظلم کی رسوائی کو بھی کبھی اپنے دامن سے نہیں دھو سکے گا۔ تیری رائے کمزور ہے، تیرے اقتدار کے دن تھوڑے ہیں اور تیرا گروہ عنقریب منتشر ہو جائے گا۔ اس دن جب حق کا منادی ندا دے گا کہ آگاہ ہو جاؤ! ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔‘‘
مندرجہ بالا عبارت حضرت زینبؑ کے اس خطبے کے آخری حصوں میں سے ایک ہے، بلکہ اسے یزید کے دربار میں آپؑ کے خطبے کا خلاصہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان دنوں عقیلۂ بنی ہاشمؑ پر جو حالات گزرے، جن شدید مصائب و آلام کا آپؑ نے سامنا کیا، اور جس طرح کے ناقابلِ برداشت صدمات، غم اور اندوہ آپؑ کو پہنچے، ان سب کے پیشِ نظر حقیقتاً ایسی عظیم روح درکار تھی جو ان تمام حالات میں سوائے خوب صورتی کے کچھ نہ دیکھے، اور وہ عظیم روح حضرت زینبؑ ہی کی ہو سکتی تھی۔
اس موقع پر آپؑ نے اپنی غیر معمولی روحانی قوت، ضبطِ نفس، شجاعت و بے باکی، فصاحت و بلاغت، استقامت اور امید کے ساتھ اس قدر تسلط اور مہارت کا مظاہرہ کیا کہ فی البدیہہ ایسی مؤثر اور بھرپور خطابت فرمائی کہ قرآنِ مجید کی آیات کی مسلسل طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے کلام کا تازیانہ نہ صرف یزید کے دربار پر برسایا، بلکہ بنی امیہ کی تمام مکاریوں، فریب کاریوں اور حیلہ سازیوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔ آپؑ نے لوگوں کی آنکھوں سے جہالت اور بے خبری کے پردے چاک کیے اور اپنے بھائی کے خون کی قربانی کے تسلسل میں انہیں حیرت و سرگردانی، گمراہی اور جہالت کی تاریکیوں سے نجات دلائی۔
حضرت زینبؑ اپنے خطبے کے ایک حصے میں یزید کو ’’ابنِ طلقاء‘‘ یعنی آزاد کردہ لوگوں کا بیٹا کہہ کر مخاطب کرتی ہیں، جبکہ ایک دوسرے مقام پر یزید سے ہم کلام ہونا بھی اپنی شان کے خلاف قرار دیتی ہیں۔ یزید کے اقتدار اور غرور کے عروج پر آپؑ اپنے خاندان کے نام و یاد کی جاودانگی، اپنے بزرگوار نانا سے وابستہ وحی کی ابدیت اور اپنے خاندان کے بلند مرتبے اور عظمت کا اعلان کرتی ہیں۔ آخر میں آپؑ یزید کے اقدامات کے عبرت ناک انجام، اس کی بدبختی اور اس کے اقتدار کی کمزور بنیادوں کی خبر دیتی ہیں اور واضح کرتی ہیں کہ اس کے تمام اقدامات ظلم و ستم پر مبنی ہیں، جن کے بارے میں خدا کا فرمان ہے: ’’آگاہ ہو جاؤ! ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔‘‘
اس عظیم واقعے میں حضرت زینبؑ کا نمایاں کردار پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ یہی وہ کردار ہے جسے حضرت امام خمینیؒ نے اپنے ایک سبق آموز بیان میں آپؑ کے برادرِ بزرگوار حضرت سیدالشہداء امام حسینؑ کے کردار کے ہم پلہ، یا اس کے قریب قرار دیا ہے، کیونکہ آپؑ کی جدوجہد بھی اسی مقصد کے تحت تھی جس کے لیے امام حسینؑ نے قیام فرمایا، یعنی ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد اور حق کی سربلندی۔
امام خمینیؒ فرماتے ہیں:
’’جس قدر حضرت حسینؑ کی فداکاری بارگاہِ خداوندِ متعال میں قدر و منزلت رکھتی ہے اور تحریکِ حسینؑ کی پیش رفت میں مؤثر ثابت ہوئی ہے، اسی قدر یا اس کے قریب حضرت امام سجادؑ اور حضرت زینبؑ کے خطبات نے بھی اثر ڈالا ہے۔
ان ہستیوں نے ہمیں یہ سمجھایا کہ ظالم کے مقابلے میں اور ظلم و جور پر قائم حکومت کے سامنے نہ عورتوں کو خوف زدہ ہونا چاہیے اور نہ مردوں کو۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا یزید کے مقابلے میں کھڑی ہوئیں اور اسے اس طرح ذلیل و حقیر کیا کہ بنی امیہ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ایسی تحقیر نہیں سنی تھی۔‘‘
(صحیفۂ امام، جلد ۱۷، صفحہ ۵۴)