خورشید تک پہونچنے کا راستہ

خورشید تک پہونچنے کا راستہ

تم پر قربان جاؤں؛ تم پر نثار جاؤں، اس مدت میں کہ نورچشم عزیز اور اپنی قوت قلب کی جدائی اور درد فراق میں مبتلا ہوں تمہیں یاد کررہاہوں۔

        اگرچہ ان طولانی برسوں میں روح اللہ خمینیؒ کا قدم صرف چند دنوں کے لئے توحیدی فریضہ کی ادائیگی کی راہ میں لبنان پہونچا لیکن ٹهیک نصف صدی بعد امام خمینیؒ کے نظریات و افکار کا درخت لبنان میں اس طرح تناور ہوا اور اس کی جڑیں اس درجہ پهیلیں کہ آج لبنان کی تاریخ کا اٹوٹ حصہ ہوچکا ہے۔ امام خمینیؒ کا راستہ بیروت کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا راستہ ہے جو شہید عماد مغنیہ کے جادہ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

        ۷۲ سال پہلے ۱۳۱۲ ہ ش (اپریل ۱۹۳۳) میں ایک ۳۱ سالہ مجتہد شہر قم سے فریضہ حج انجام دینے کے  لئے روانہ ہوا اور اپنے سفر کے لئے اس نے جبل عامل کا راستہ انتخاب کیا، جبل عامل ان برسوں میں سلطنت عثمانیہ کے صوبہ شام کا ایک حصہ تها۔ وہ پورا راستہ چند شب بیروت میں ٹهہرا اور اسی شہر سے ایک خط اپنی بیوی کے نام قم روانہ کیا۔(۱)

        آج ایک صدی گزرنے کے بعد یہ خط صرف ایک تاریخی سند شمار ہوتا ہے اور امام روح اللہ خمینیؒ کے اس سرزمین میں جو آج لبنان کہلاتی ہے، حضور کی حکایت کرتا ہے ۔ اگرچہ ان طولانی برسوں میں  روح اللہ خمینی کا قدم صرف چند دنوں کے لئے ایک فریضہ توحیدی کی ادائیگی کی راہ میں لبنان میں پہونچا ، لیکن نصف صدی بعد امام خمینیؒ کے نظریات لبنان میں عام ہوگئے اور وہاں کے لوگوں کی دل زمین  میں گهر کرگئے کہ آج لبنان کی تاریخ کا اٹوٹ حصہ شمار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ غیر مسلم اور غیر شیعہ بهی لبنان میں  روح اللہ کی تاریخی تاثیر سے چشم پوشی نہیں کر سکتے ہیں آپ کے روحانی فرزندوں نے آپ کے اہداف و مقاصد کو لبنان میں اس طرح منزل مقصود پر پہونچایا کہ جرات کے ساته ادعا کیا جاسکتا ہے کہ لبنان بهی امام خمینیؒ کی تاریخ تحریک کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔

       چند سال ہوئے ہیں کہ روح اللہ کےروحانی فرزندوں نے پائتخت لبنان کے جنوب میں ایک عظیم شاہراہ کو امام خمینیؒ کا نام سے موسوم کردیا ہے۔ یہ راستہ حقیقت میں انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا ایک حصہ ہے جو بیروت کے جنوبی حصہ سے گزرتا ہے۔ وہ تمام مسافر جو بیروت کے انٹر نیشنل ائیرپورٹ سے اترتے ہیں اور اس شہر کے مرکز کا قصد رکهتے ہیں حتماً اسی راستے سے گزرتے ہیں اور روح اللہ کے نام اور تصویر کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ حضرت امام خمینیؒ کے خط کا متن:

                تم پر قربان جاؤں؛ تم پر نثار جاؤں، اس مدت میں کہ نورچشم عزیز اور اپنی قوت قلب کی جدائی اور درد فراق میں مبتلا ہوں تمہیں یاد کررہاہوں اور تمہاری خوبصورت چہرہ میرے آئینہ دل میں نقش ہے۔ عزیزم امید وار ہوں کی خدا تمہیں صحت و سلامتی اور خوشی کے ساته اپنی پناہ میں محفوظ رکهے۔ اب رہی میری بات تو میں ہر شدت اور ناخوش گوار حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن اللہ کا شکر ہے اب تک سب کچه ٹهیک رہا ہے اور اس وقت میں خوبصورت شہر بیروت میں ہوں؛ تمہاری بہت یاد آرہی ہے واقعا شہر اور دریا کے مناظر قابل دیدہیں صد حیف کہ میری جان سے عزیز شریک حیات ساته نہیں ہے کہ خوبصورت مناظر دل میں گهر کر جائیں۔ آج دوسری رات ہے کہ کشتی کا انتظار کر رہا ہوں ، جیسا کہ قرار ہے کل ایک کشتی روانہ ہو گی لیکن ہم لوگ چونکہ تاخیر سے پہونچے ہیں لہذا دوسری کشتی کا انتظار کریں گے۔ فی الحال کچه معلوم نہیں ہے کہ کیا ہوگا۔  امید ہے خدا ہمارے اجداد طاہرین کے وسیلے سے تمام حجاج کو اتمام عمل کی توفیق دے، اس لحاظ سے تهوڑا فکر مند ہوں  لیکن مزاج کے لحاظ سے بالکل سالم ہوں اور میری الحمد للہ زیادہ اچهی ہے سفر اچها ہے کمی صرف یہ ہے کہ تم ساته نہیں ہو، میرادل تمہارے بیٹے (سید مصطفی خمینی) کے لئے تهوڑا بے چین ہے۔ امید ہے دونوں (سید مصطفیٰ اور اپنے دوسرے فرزند کی طرف اشارہ ہے جو ابهی متولد نہیں ہوا تها اور یہ خط لکهنے کے چند دن بعد جب امام سفر حج میں تهے متولد ہوا اور اس کا نام علی رکها جو بچپن میں ہی  ایک بیماری میں چل بسا) تمہاری نگرانی اور خداوند عالم کی حفاظت میں صحیح و سلامت ہوں۔

(صحیفہ امام، ج۱، ص ۲)

ای میل کریں