تحریر: مجتبیٰ شجاعی
کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ شعور، ایک روشن فکر، ایک مکمل نظام حیات اور انسانیت کے لیے ایک واضح روڈ میپ ہے۔ کربلا ایک ایسی آواز ہے، جو چودہ صدیوں سے ظلم کے ایوانوں کو لرزا رہی ہے اور حق و باطل کے درمیان فرق کو نمایاں کر رہی ہے۔ یہ صرف ایک میدان جنگ کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی درسگاہ ہے، جہاں انسان عزت، غیرت، وفاداری، قربانی، صبر، تقویٰ، حریت اور انسانیت کے اسباق سیکھتا ہے۔ کربلا ہمیں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے، باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتی ہے اور حق کی خاطر ہر قربانی پیش کرنے کا درس دیتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا قیام کسی ذاتی مفاد، اقتدار یا دنیاوی مقصد کے لیے نہیں تھا۔ آپ نے خود اعلان فرمایا کہ میں اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ (ص)کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ آپ کا مقصد دین الہیٰ کا تحفظ، اسلامی اقدار کی بقاء، ظلم و فساد کا خاتمہ اور انسانی معاشرے کو گمراہی سے بچانا تھا۔
جب یزیدی نظام نے دین کی روح کو مسخ کرنا شروع کیا، جب ظلم کو قانون اور باطل کو حق بنا کر پیش کیا جانے لگا، جب اقتدار کو دین پر ترجیح دی جانے لگی تو امام حسینؑ نے خاموشی کے بجائے قیام کا راستہ اختیار کیا اور اپنے خون سے حق و باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ دی، جو قیامت تک باقی رہے گی۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی راہ میں تعداد نہیں بلکہ کردار اہم ہوتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام اور ان کے وفادار ساتھیوں نے بے سروسامانی کے باوجود ایک عظیم طاقت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے شجاعت، استقامت اور یقین کے ساتھ باطل نظام کو للکارا اور اپنی عظیم قربانیوں سے یزیدیت کے چہرے کو بے نقاب کر دیا۔ میدان کربلا میں ظاہری طور پر چند افراد تھے، لیکن حقیقت میں وہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک عظیم پیغام کے نمائندے تھے۔ اسی لیے آج بھی جب حق، عدل، آزادی اور عزت کی بات ہوتی ہے تو کربلا ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آتی ہے۔
اسی لیے عزاداری صرف آنسو بہانے یا مصائب بیان کرنے کا نام نہیں ہے۔ عزاداری کا حقیقی مقصد امام حسین (ع) کے پیغام کو سمجھنا، اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔ اگر عزاداری انسان کے کردار میں تبدیلی پیدا نہ کرے، اگر وہ اسے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ نہ دے، اگر وہ اسے تقویٰ، دیانت، خدمتِ خلق اور ذمہ داری کے احساس کی طرف نہ لے جائے تو ہمیں اپنی عزاداری کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک حقیقی عزادار وہ ہے، جو امام حسین (ع) کے مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے۔ ایک باشعور عزادار حق اور باطل میں فرق پہچانتا ہے۔ وہ جھوٹ، فریب، ناانصافی، بدعنوانی اور اخلاقی برائیوں سے دور رہتا ہے۔ اس کی زبان سچی، اس کا کردار پاکیزہ اور اس کی زندگی تقویٰ سے آراستہ ہوتی ہے۔ وہ صرف مجالس میں امام حسین (ع) کا نام نہیں لیتا بلکہ اپنی عملی زندگی میں بھی حسینی کردار کا مظاہرہ کرتا ہے۔
جو شخص حضرت عباس علمدار (ع) کا پرچم اٹھاتا ہے، وہ درحقیقت وفا، غیرت، امانت اور خدمت کا عہد کرتا ہے۔ علم عباس صرف ایک علامت نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ اسے اٹھانے والا گویا یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ حق کے راستے پر ثابت قدم رہے گا، مظلوم کا ساتھ دے گا، دین کی حرمت کا پاس رکھے گا اور اپنی زندگی کو حضرت عباس کی وفا اور شجاعت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے گا۔ اگر علم ہاتھ میں ہو، لیکن کردار میں وفا نہ ہو تو اس پرچم کا حق ادا نہیں ہوتا۔ عزاداری کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنی ذات کا محاسبہ کرنا سکھاتی ہے۔ جب ایک مومن مجالس حسین (ع) میں بیٹھتا ہے، شہدائے کربلا کے مصائب سنتا ہے اور امام عالی مقام کی قربانیوں کو یاد کرتا ہے تو اسے یہ سوچنے کا موقع ملتا ہے کہ اس کا اپنا کردار کس حد تک حسینی ہے۔
کیا وہ سچائی پر قائم ہے۔؟ کیا وہ اپنے فرائض ادا کر رہا ہے۔؟ کیا وہ معاشرے کے مسائل سے باخبر ہے۔؟ کیا وہ مظلوم کا ساتھ دیتا اور ظالم کی مخالفت کرتا ہے۔؟ یہی سوالات دراصل شعوری عزاداری کی بنیاد ہیں۔ کربلا کا ہر کردار ایک مکمل درسگاہ ہے۔ حضرت عباس (ع) وفاداری کی علامت ہیں، حضرت علی اکبر نوجوانوں کے لیے مثالی کردار ہیں، حضرت قاسم اطاعت اور ایثار کا درس دیتے ہیں، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا صبر، استقامت اور حق کی ترجمانی کی عظیم مثال ہیں۔ اگر ہماری نئی نسل ان کرداروں کو اپنا نمونہ بنا لے تو معاشرے میں اخلاق، دیانت، شرافت اور احساسِ ذمہ داری خود بخود فروغ پائے گا۔ آج کے دور میں شعوری عزاداری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں فکری یلغار، اخلاقی بحران، مادہ پرستی اور بے مقصدیت نے نوجوان نسل کو مختلف چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔
ایسے حالات میں کربلا ایک مضبوط فکری اور روحانی پناہ گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ امام حسین کا پیغام نوجوانوں کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنی شناخت پر فخر کریں، اپنے عقیدے کا شعور حاصل کریں اور ہر قسم کی گمراہی کا مقابلہ علم اور بصیرت کے ساتھ کریں۔ شعوری عزاداری کا ایک اہم پہلو علم کا فروغ بھی ہے۔ مجالس عزاء صرف جذبات کو بیدار کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ فکری تربیت کے مراکز بھی ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو کربلا کی تاریخ، اس کے اسباب، اس کے مقاصد اور اس کے نتائج سے روشناس کرانا ہوگا، تاکہ وہ کربلا کو صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مکمل مکتب فکر کے طور پر سمجھ سکیں۔ کربلا کا پیغام صرف میدان جنگ تک محدود نہیں۔ تجارت میں دیانت، سیاست میں انصاف، تعلیم میں اخلاص، معاشرت میں اخلاق اور عبادت میں خلوص، یہ سب حسینی فکر کے اجزاء ہیں۔
ایک حقیقی عزادار کی شناخت صرف محرم کے دنوں میں نہیں بلکہ پورے سال اس کے کردار، گفتار اور عمل سے ہونی چاہیئے۔ اگر عزاداری انسان کو بہتر مسلمان اور بہتر انسان نہ بنا سکے تو اس کے مقاصد ادھورے رہ جاتے ہیں۔ کربلا اتحاد اور اخوت کا درس بھی دیتی ہے۔ امام حسین (ع) کے قافلے میں مختلف نسلوں، علاقوں اور عمروں کے افراد شامل تھے، لیکن سب کا مقصد ایک تھا۔ آج امت مسلمہ کو بھی اسی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ نفرت، تعصب اور تفرقے کے اس دور میں عزاداری محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کا پیغام عام کرے، یہی کربلا کا تقاضا ہے۔
وادی کشمیر میں عزاداری کی ایک عظیم اور صدیوں پرانی روایت موجود ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ہر دور میں یاد حسین کو زندہ رکھا، مجالس اور جلوسوں کے ذریعے پیغامِ کربلا کو نسل در نسل منتقل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ محبت اہل بیت (ع) اور شعائر حسینی آج بھی کشمیری معاشرے کی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ یہ ایک عظیم امانت ہے، جس کی حفاظت اور ترویج ہماری ذمہ داری ہے۔تاہم وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عزاداری صرف روایت نہ رہے بلکہ بیداری کی تحریک بنے۔ یہ نوجوانوں میں شعور پیدا کرے، انہیں مقصد حیات سے آشنا کرے، انہیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دے اور انہیں ایک ذمہ دار اور باکردار انسان بنائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عزاداری کو علم، بصیرت، اخلاق اور خدمت خلق کے ساتھ جوڑا جائے، تاکہ پیغام کربلا معاشرے کی عملی زندگی میں بھی نمایاں ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے ہمیں یہ پیغام دیا کہ حق کے لیے کھڑا ہونا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ ظلم کے سامنے خاموش رہنا، ناانصافی کو قبول کرنا اور باطل کے ساتھ سمجھوتہ کرنا حسینی فکر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اگر ہم امام حسین سے حقیقی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں ان کے مقصد کو بھی اپنانا ہوگا، ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا اور ان کے مشن کو آگے بڑھانا ہوگا۔ کربلا ایک دن کا نام نہیں، ایک مسلسل فکر کا نام ہے۔ کربلا ایک واقعہ نہیں، ایک راستہ ہے۔ کربلا ایک آواز ہے، جو ہر دور کے انسان کو حق، عدل اور آزادی کی دعوت دیتی ہے اور عزاداری صرف غم کا اظہار نہیں بلکہ اس راستے پر چلنے کا عہد ہے۔
جب عزاداری شعور کے ساتھ ہوگی، جب عزادار تقویٰ، علم، بصیرت اور کردار کے زیور سے آراستہ ہوگا، جب علم عباس اٹھانے والا حضرت عباسؑ کی وفا اور غیرت کا وارث بنے گا، تب کربلا کا حقیقی پیغام معاشرے میں زندہ ہوگا۔ یہی شعوری عزاداری ہے، یہی امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں کا تقاضا ہے اور یہی وہ راستہ ہے، جو ایک بیدار فرد، ایک مضبوط معاشرہ اور ایک باوقار امت کی تعمیر کرسکتا ہے۔ یہی شہدائے کربلا کو حقیقی خراجِ عقیدت اور یہی امام زمانہؑ کے حضور بہترین نذرانہ وفاداری ہے۔