حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر علی کمساری نے جدید ٹیکنالوجیز پر مبنی پہلے تربیتی کورس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا مرکزی موضوع مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) تھا، اس ٹیکنالوجی کو صنعتی انقلاب اور انٹرنیٹ کے ظہور کے ہم پلہ ایک بنیادی تبدیلی قرار دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مصنوعی ذہانت سے غفلت یا اس کے مقابلے میں مزاحمت، اداروں اور انسانی وسائل کو مستقبل کی ترقیاتی تبدیلیوں سے پیچھے چھوڑ دے گی۔
یہ تربیتی کورس ادارے اور اس سے وابستہ مراکز کے ملازمین اور ماہرین کی شرکت سے منعقد ہوا، جس میں ادارے کے ڈائریکٹر جنرل برائے ٹیکنالوجی و اختراع اور سیکرٹری سپریم کونسل برائے جدید ٹیکنالوجیز ڈاکٹر محمد سعید انصاری، نیز انجینئر محمد امین انصاری اور انجینئر حجت انصاری نے انتظامی، تخصصی اور تعلیمی موضوعات پر لیکچرز پیش کیے۔
ڈاکٹر کمساری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت محض ایک نئی فنی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اکیسویں صدی کی فیصلہ کن ٹیکنالوجی ہے، جو مواد کی تیاری، تحقیق، تعلیم، انتظام، ڈیٹا کے تجزیے اور فیصلہ سازی کے ڈھانچوں میں بنیادی تبدیلیاں پیدا کرے گی۔ ان کے بقول، اس میدان میں شعوری، منظم اور مقصدمند انداز میں داخل ہونا ادارے کے مؤثر کردار کے تسلسل کے لیے ایک ناگزیر تنظیمی ضرورت ہے۔
ادارے کے سربراہ نے مصنوعی ذہانت کی اہم صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کام کی رفتار اور دقت میں نمایاں اضافہ، انسانی خطاؤں میں کمی، تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ اور ماہرین کو تکراری و معمول کے کاموں سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال انسانی افرادی قوت کے خاتمے کے مترادف نہیں، بلکہ ماہرین کی صلاحیتوں میں اضافہ اور ان کی کارکردگی کو زیادہ مؤثر بنانے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے انجینئر محمد امین انصاری کی اصطلاح "ماہر + مصنوعی ذہانت" کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس ٹیکنالوجی کی فراہم کردہ معلومات اور نتائج کا معیار اب بھی انسانی علم، تخصص، تجزیاتی صلاحیت اور حقائق کی تصدیق (Fact-checking) کی استعداد پر منحصر ہے۔
ڈاکٹر کمساری نے ادارے میں موجود دستاویزات، کتب، مقالات، علمی مقالات (تھیسز)، تصاویر، صوتی آرکائیوز اور ہزاروں گھنٹوں پر مشتمل زبانی تاریخ کے وسیع ذخیرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجیز ان تمام علمی وسائل میں مفہومی تلاش (Semantic Search)، موضوعاتی استخراج، ذہین معلوماتی بازیافت (Intelligent Information Retrieval) اور محققین کو مطلوبہ معلومات تک انتہائی دقیق رسائی فراہم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے "روایتِ حقیقت" جیسے منصوبوں کو ان شعبوں میں شمار کیا، جہاں مکتوب اور زبانی منابع میں ذہین تلاش کے ذریعے امام خمینیؒ سے متعلق تاریخی موضوعات اور شبہات کا زیادہ سرعت، دقت اور جامعیت کے ساتھ جائزہ اور علمی تبیین ممکن ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید اس امر پر زور دیا کہ امام خمینیؒ سے منسوب آثار کی اصالت اور صحت کی تشخیص ادارے کی قانونی اور تخصصی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے جعلی آوازوں، تصاویر اور ویڈیوز (Deepfake) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تیاری نے اس امر کو دوچند اہمیت دے دی ہے کہ ادارہ ایسے جعلی مواد کی شناخت کے لیے ضروری فنی صلاحیتیں حاصل کرے۔
آخر میں ڈاکٹر کمساری نے شعبۂ ٹیکنالوجی و اختراع کی جانب سے اس میدان میں جرات مندانہ پیش رفت کو سراہتے ہوئے ادارے کی تمام معاونتوں اور مختلف شعبہ جات سے اپیل کی کہ وہ باہمی ہم آہنگی، مالی وسائل کی فراہمی اور ماہرین کی فعال شرکت کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی موجودہ صلاحیتوں کو عملی، مؤثر اور قابلِ استعمال منصوبوں اور مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔