ملتِ ایران امریکی دشمن کو ایسا سبق سکھائے گی جو وہ کبھی نہیں بھول پائے گا

ملتِ ایران امریکی دشمن کو ایسا سبق سکھائے گی جو وہ کبھی نہیں بھول پائے گا

رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا ایران کے اہم قومی امور اور رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تاریخی تشییعِ جنازہ کے حوالے سے پیغام جاری کیا گیا ہے

رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا ایران کے اہم قومی امور اور رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تاریخی تشییعِ جنازہ کے حوالے سے پیغام جاری کیا گیا ہے، جس میں امریکہ کی بدعہدی، قومی اتحاد، عوامی یکجہتی اور ذمہ داران پر اعتماد جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔

رہبر معظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ: "شہیدِ ایران" کی عظیم الشان تشییع جنازہ کے ساتھ ہی، ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی بار بار خلاف ورزی نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت سب پر واضح کر دی کہ امریکی صدر کے دستخط کس قدر بے وقعت اور ناقابلِ اعتبار ہیں، اور یہ کہ جبر، بالادستی کی خواہش اور درندگی امریکی طرزِ فکر کا لازمی حصہ ہیں۔

آج شیطانِ بزرگ نے ایک بار پھر اپنا حقیقی اور بے نقاب چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے تاکہ اس کی جنایتوں اور بدعہدی کا یہ سیاہ تجربہ، امریکہ کے جھوٹ، غیر منطقی رویّے، ناقابلِ اعتماد اور ناپاک کردار کا ایک اور مضبوط ثبوت بن جائے۔

اب جبکہ امریکی دشمن جنگ بھڑکانے اور مزید بھاری قیمت چکانے کے درپے ہے، اسے جان لینا چاہیے کہ ملتِ ایران اور محاذِ مقاومت کے پاس اس کے لیے ایسے فراموش نہ ہونے والے اسباق موجود ہیں جن کی جھلک ان دنوں جنوبی خطے کے بہادر عوام کی غیرت اور مجاہدینِ اسلام کی شجاعت میں دیکھی جا سکتی ہے۔

 

اتحاد پر اصرار اور تفرقے سے اجتناب

رہبر معظم نے فرمایا: "اس نازک مرحلے میں سب سے بنیادی امور میں سے ایک، عوام اور ذمہ داران کی تمام سطحوں پر اتحاد پر اصرار ہے، تاکہ انقلابِ اسلامی کے بلند اہداف اور ایران کی عزت و استقلال، خصوصاً امریکی مجرم اور مکار دشمن کے مقابلے میں، محفوظ رہ سکیں۔"

"جیسا کہ پہلے بھی بارہا تاکید کی جا چکی ہے، اتحاد کی حفاظت، تفرقے، نزاع، سیاسی اختلافات اور سماجی تفاوتوں کو نمایاں کرنے سے پرہیز کرنا سب کی ذمہ داری ہے، البتہ ملک کی یکجہتی کے تحفظ میں ذمہ داران اور انقلاب، امام اور رہبرِ شہید سے وابستہ مخلص عناصر کا کردار زیادہ اہم اور حساس ہے۔"

 

ذمہ داران پر اعتماد اور تعمیری تنقید

پیغام میں مزید کہا گیا:

"ملتِ عزیز، تینوں ریاستی اداروں کے مخلص ذمہ داران پر اعتماد برقرار رکھتے ہوئے، جن کی عوام کی فلاح و سعادت کے لیے کوششیں نمایاں ہیں، ایرانِ اسلامی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ کی طرح بیدار اور میدان میں فعال رہے گی۔"

"ممکن ہے کچھ افراد خلوصِ نیت اور خیرخواہی کے جذبے سے بعض ذمہ داران کی کارکردگی پر تنقید رکھتے ہوں۔ میری نظر میں ان کی یہ فکر خود نظام کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے، لیکن ایسے افراد، خصوصاً وہ جو بصیرت میں پیش پیش ہیں، اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کا یہ طرزِ عمل اوّل تو کسی بے گناہ پر ظلم کا سبب نہ بنے، کیونکہ یہ اللہ کی برکتوں سے محرومی کا ذریعہ بنتا ہے، اور دوم یہ کہ قومی وحدت اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان نہ پہنچائے۔ ان حدود کی رعایت کے ساتھ تنقید یقیناً امور کی ترقی اور شکوفائی کا سبب بنے گی۔"

"دشمن کو ہماری طرف سے کسی قسم کی کمزوری، حتیٰ کہ اس قسم کی کمزوری کا بھی کوئی اشارہ نہیں ملنا چاہیے، کیونکہ اگر ہم ان اصولوں کی مکمل پاسداری کریں گے تو دشمن کو بالآخر پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔"

 

شہیدِ ایران کی تشییع؛ ایک تاریخی حماسہ

رہبر معظم نے اپنے پیغام میں فرمایا:

"اے عظیم اور حیرت انگیز ملتِ ایران! سلام، درود اور سپاس آپ پر، جنہوں نے 'شہیدِ ایران' کی تشییع کے بے مثال اور تاریخی اجتماع میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اسلامی۔ایرانی شناخت، وفاداری، بصیرت اور زعیمِ امتِ اسلامی و رہبرِ شہید سے غیر معمولی محبت کا ایسا مظاہرہ کیا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔"

"تہران، قم، مشہد اور دیگر شہروں اور دیہات میں کروڑوں افراد کی اشکبار آنکھوں، گرم جوش دلوں اور پختہ عزم نے ملتِ ایران کے دوستوں اور دنیا کے آزاد انسانوں کو تحسین پر مجبور کر دیا، جبکہ ایران کے متکبر دشمن حیرت، پریشانی، غصے اور خوف میں مبتلا ہو گئے۔"

 

ملت ایران، مراجع کرام اور مختلف طبقات کا شکریہ

رہبر معظم نے اپنے پیغام کے اختتام پر فرمایا:

"میں ان تمام عزیز عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جو خود امت کے شہید باپ کے غم میں شریک تھے، لیکن تمام مشکلات اور محدودیتوں کے باوجود 'شہیدِ ایران' کی تشییع میں شریک ہو کر ایک تاریخ رقم کر گئے۔"

"اسی طرح مراجعِ تقلید، علماء، دانشوروں، اہل علم و دانش، ثقافتی، سماجی اور سیاسی شخصیات، ملکی و عسکری اداروں، نیز محاذِ مقاومت اور اسلامی تحریکوں کے نمائندوں کی خدمات اور شرکت پر بھی دلی تشکر کا اظہار کرتا ہوں۔"

"امید ہے کہ اس تاریخی حماسے میں کسی بھی شکل میں شریک ہونے والے تمام افراد ہمارے آقا حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خصوصی دعا اور عنایت کے مستحق قرار پائیں گے۔"

ای میل کریں