ترتیب و تدوین: سید عدیل عباس
تاریخ کے دھارے کو موڑ دینے والی شخصیات بہت کم ملتی ہیں، ایسی شخصیات جو اپنے وقت کی گردش کو بدل دیں، ظلم کے پہاڑ کو لرزائیں، اور مظلوموں کی آواز بن کر اُٹھ کھڑی ہوں۔ شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی ایسی ہی ایک نادر شخصیت ہیں، جو اپنے قول، کردار اور عمل سے تاریخ کا ایک روشن باب بن گئے۔ وہ پاکستان کے شمال مغرب میں واقع سرحدی علاقہ پاراچنار کی بلند و بالا پہاڑیوں میں آباد ایک چھوٹے سے گاؤں پیواڑ میں 25 نومبر 1946ء کو پیدا ہوئے۔ یہ دور دراز، دشوار گزار اور قبائلی علاقہ تھا، جہاں تک پہنچنا مشکل، وہاں کے حالات جاننا اور بھی مشکل۔ مگر اس علاقے کے اس بچے کو جس مقام پر فائز ہونا تھا، اس کا کسی کو خواب و خیال بھی نہیں تھا۔ شہید کا تعلق سادات حسینی کے معزز خاندان سے تھا۔ ان کے والد سید فضل حسین الحسینی نے ان کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس خاندان کی علمی اور روحانی روایت نے بچپن سے ہی عارف حسین کے دل میں دین سے محبت اور حق کی تلاش کا جذبہ پیدا کیا۔
ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے کے مدرسہ جامعہ جعفریہ سے حاصل کی، یہی وہ ادارہ تھا جہاں وہ بعد میں ایک استاد کی حیثیت سے واپس آئے اور اپنی تعلیمی خدمات کا آغاز کیا۔ مگر ان کا دل نجف کی طرف لگا تھا، وہاں کی علمی فضا، وہاں کے اساتذہ، اور وہاں کا انقلابی ماحول۔ 1967ء میں شہید نجف پہنچے۔ یہ وہ دور تھا جب امام خمینی عراق میں جلا وطن تھے اور اپنے انقلابی پیغام کو پھیلا رہے تھے۔ علامہ عارف حسین نے جب امام خمینی کو دیکھا تو گویا انہیں اپنی منزل مل گئی ہو۔ وہ امام خمینی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اس عشق کو چھپا نہ سکے۔ وہ اکثر و بیشتر نمازِ جماعت میں امام خمینی کی اقتدا کرتے تھے۔ انقلابی تحریک کے حصہ بنے حالانکہ اس دور میں عراق میں ایک عام طالب علم کے لیے ایسی سرگرمیاں خطرناک تھیں اور ملک بدری کا سبب بن سکتی تھیں، مگر انہیں پرواہ نہ تھی۔ شہید حسینی کا امام حسین (ع) سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ ہر جمعرات کو نجف سے کربلا پیدل جاتے تھے اور احباب کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ راستے میں وہ ان کی خدمت کرتے تھے یہ عشق اہل بیتؑ سے ان کے تعلق کا آئینہ تھا۔
نجف اور قم میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب وہ پاکستان واپس آئے تو ان کے پاس امام خمینی کا وہ مشہور وکالت نامہ اور نمائندگی کا خط تھا، جسے بارڈر حکام نے پکڑ بھی لیا تھا۔ یہ خط ایک ثبوت تھا کہ وہ اب صرف ایک طالب علم نہیں رہے، وہ امام خمینی کے فکری اور انقلابی ورثے کے امین بن چکے تھے۔ شہید عارف حسین الحسینی کو اگر کوئی منفرد لقب ملا تو وہ تھا "خمینیِ پاکستان"۔ یہ لقب انہیں ان کی فکری وابستگی، امام خمینی سے محبت اور انقلابِ اسلامی کے پیغام کو برصغیر میں پھیلانے کی خدمات کے باعث ملا۔ وہ برملا کہتے تھے کہ انقلابِ اسلامی صرف ایران تک محدود نہیں، یہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے بیداری کا پیغام ہے۔ انہوں نے اپنے ہر خطاب میں اس انقلاب کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان کا موقف تھا کہ جب تک پاکستان کے مسلمان اپنے فیصلے خود نہیں کریں گے اور استعمار کی رہائی نہیں پائیں گے، اس وقت تک ترقی ممکن نہیں۔ شہید حسینی کا امریکہ مخالف موقف کوئی معمولی نہیں تھا، یہ ان کی فکر کا مرکزی نکتہ تھا۔ وہ امریکہ کو امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ انہوں نے مارشل لا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور امریکہ نواز پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔
"مردہ باد امریکہ" کا نعرہ پاکستان کی سڑکوں پر سب سے پہلے انہوں نے بلند کیا۔ ان کے زیرِ قیادت آئی ایس او کے نوجوانوں نے پوری قوم کو یہ نعرے سکھائے۔ انہوں نے "یوم القدس" اور "ہفتہ وحدت" جیسے پروگرام منعقد کرکے عوام میں فلسطین اور استکبار کے خلاف شعور اجاگر کیا۔ "آپ نے ہی پاکستان میں دوسری پارٹیوں کو برسرِ عام سڑکوں پر مردہ باد امریکہ، مردہ باد روس اور مردہ باد اسرائیل کے نعرے سکھائے اور آپ نے ہی انہیں یہ جرأت دی ہے۔" ان کا موقف تھا کہ مسلمانوں کو کسی بھی سپر پاور کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے چاہے وہ مشرق ہو یا مغرب۔ انہوں نے ایک جگہ فرمایا: "تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور دانشور ملک میں نظامِ اسلام کے قیام کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔" شہید حسینی نے اپنے دورِ قیادت میں سب سے اہم کام جو کیا وہ مسلمانوں کے اتحاد و وحدت کی جدوجہد تھی۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ مسلمانوں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ ان کی تقسیم ہے۔
وہ ہمیشہ اپنے ہمراہ کسی نہ کسی اہلِ سنت عالمِ دین کو دورہ جات میں ساتھ رکھتے تھے۔ ان کا پیغام تھا: "شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، حنبلی، مالکی سب فرقے امتِ محمدی کا حصہ ہیں اور سب قابلِ احترام ہیں۔ اختلافات کو بھلا کر مشترکہ دشمن استکبار کے خلاف متحد ہونا ہی واحد راستہ ہے۔" انہوں نے قوم کو یہ سکھایا کہ اسلام میں "میں" کا لفظ نہیں "ہم" کا لفظ ہے۔ وہ فرماتے تھے: "ہم سب مل کر کام کریں، اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے۔" 6 جولائی 1987ء پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک سنگِ میل۔ شہید حسینی کی قیادت میں مینارِ پاکستان پر ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا۔ یہ جلسہ محض ایک سیاسی اجتماع نہیں تھا یہ ایک بیداری کا اعلان تھا۔ اس تقریب میں علامہ عارف حسین الحسینی نے عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا اور قوم کو مارشل لا حکومت اور امریکی سامراج کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا پیغام دیا۔ وہ اپنے خطاب میں فرماتے تھے: "بے شمار قربانیوں کی بدولت حاصل ہونے والی آزادی 40 برس گزر جانے پر بھی کہیں محسوس نہیں ہوتی، سامراجی آقاؤں سے حاصل ہونے والی آزادی کے باوجود ان کے چھوڑے ہوئے نظام کی بدولت آزادی کے احساس سے ہم آج بھی محروم ہیں۔"
انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی: "آپ اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کریں، آپ علماء کے ساتھ روابط کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں، آپ آپس میں اخوت، صحیح نیت اور برادری کے ساتھ مل کر کام کریں۔" شہید کا منفرد انداز یہ تھا کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی تو کرتے تھے، مگر ان کی اصلاح بھی کرتے تھے۔ انہوں نے ایک جگہ فرمایا: "اگر آپ نے کوئی اشتباہ دیکھ لیا، تو آپ ان کی اشتباہات کی اصلاح کریں، درست کریں نہ کہ آپ ان کو گھر سے باہر پھینک دیں، تاکہ وہ دشمنانِ اسلام کے ہاتھ لگ جائیں۔" 5 اگست 1988ء جمعہ کا مقدس دن تھا۔ صبح کی فجر کی نماز کے بعد، پشاور کے جی ٹی روڈ پر واقع جامعہ معارف الاسلامیہ کی بالائی منزل سے جب شہید وضو خانے سے نیچے اتر رہے تھے، تو ایک گولی چلی۔ وہ محض 42 سال کی عمر میں شہید ہوگئے۔ ایک پوری قوم یتیم ہوگئی۔ انقلابِ اسلامی کا وہ سورج جو پاکستان کے افق پر طلوع ہو رہا تھا، ایک عالمی سازش کے تحت ڈوب گیا۔ ایک ملت بے آسرا ہوگئی، ایک قوم کی قیادت کا نا ختم ہونے والا قحط پیدا ہوگیا، دینِ خدا کے ماننے والوں سے ایک بلند پایہ دینی سیاستدان چھین لیا گیا، استعمار کے حقیقی مخالف کا پاکباز خون زمین پر بہا دیا گیا۔
شہید کے قاتل کا نام جمیل اللہ تھا، اس نے ایک فائر کیا اور فرار ہوگیا، تحقیقات شروع ہوئیں۔ چھپن گواہوں نے ایک ہی بات کی اور ایک دوسرے کے بیانات کی تصدیق کی۔ قاتل نے اعترافِ جرم بھی کیا۔ مگر پاکستان کا نظامِ انصاف اس سیاہ دھبے کو دھو نہ سکا قاتل کو رہائی کا پروانہ دے دیا گیا۔ مگر اللہ کی عدالت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ قاتل کبھی پشاور سے لاہور "شریفوں" کے مہمان بنے، کبھی مکہ و مدینہ جا کر قسمیں کھاتے نظر آئے، مگر اللہ کی بے آواز لاٹھی نے انہیں آخر کار پا لیا۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق یہ قتل امریکہ کے اشارے اور سعودی عرب و صدامِ حسین کے تعاون سے کیا گیا، چند زرخرید غلاموں نے یہ ناپاک کارروائی انجام دی۔ امام خمینی نے اس شہادت پر شدید ترین الفاظ میں "اسلامِ امریکی" کو اس قتل کا سبب قرار دیا۔ شہید حسینی کی شہادت نے پوری امتِ مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ امام خمینی نے انہیں "اسلام کا وفادار یار، محروموں اور مستضعفین کا مدافع، اور ایک راست باز فرزند" قرار دیا۔
شہید عارف حسین الحسینی صرف ساڑھے چار سال تک پاکستان کے افق پر قائد کی حیثیت سے چمکے۔ مگر اس مختصر عرصے میں انہوں نے جو کچھ کیا، وہ ایک تاریخ ہے۔ انہوں نے پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا، انہوں نے گلگت بلتستان سے بلوچستان تک پورے پاکستان کا دورہ کیا، انہوں نے مارشل لا کے خلاف آواز اٹھائی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے مسلمانوں کے اتحاد کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں، انہوں نے نوجوانوں کو علم، بصیرت اور شعور سے آراستہ کیا، انہوں نے استکبار کے خلاف پوری قوم کو بیدار کیا۔ آج شہید کی شہادت کو 38 برس بیت چکے ہیں۔ یہ تمام عرصہ دراصل ہماری ملی یتیمی کا عرصہ ہے۔ شہید نے اپنے آخری خطاب میں فرمایا تھا: "یہ تنگ نظری ٹھیک نہیں کہ میں کہوں کہ میں ہوں اور آپ نہ ہوں۔ آپ کہیں کہ نہیں میں ہوں آپ نہ ہوں۔ نہیں! ہم سب مل کر کام کریں، اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے۔" شہید عارف حسین الحسینی کی زندگی اور شہادت ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے کہ قوموں کو اپنی خودمختاری پر فخر کرنا چاہیے اور بیرونی دباؤ میں کبھی جھکنا نہیں چاہیے۔