اربعین کیا ہے؟

اربعین کیا ہے؟

وہ تحریک جو 10 محرم، 61 ہجری کو امام حسین (ع) اور ان کے وفادار ساتھیوں کی شہادت کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچی تھی

تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

 

وہ تحریک جو 10 محرم، 61 ہجری کو امام حسین (ع) اور ان کے وفادار ساتھیوں کی شہادت کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچی تھی، شہادت پر ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ حضرت زینب (ع)، امام سجاد (ع) اور اہل بیت (ع) کے پیغام کے ساتھ ایک ابدی تحریک بن گئی۔ اس تحریک کے دوام کا ایک اہم ترین مظہر ’’اربعین حسینی‘‘ ہے۔ اربعین کا معنی کیا ہے؟ اربعین (الأربعين) عربی زبان کا لفظ ہے جو "أربعون" (چالیس) سے نکلا ہے۔ اس کے معنی چالیس، چالیسواں دن یا چالیس دن کی مدت ہے۔ لغوی اعتبار سے أربع کے معنی چار، أربعون کے معنی چالیس اور الأربعين یا اربعین سے مراد چالیس یا چالیسواں دن ہے۔ اسلامی ثقافت میں چالیس کے عدد کا فلسفہ کیا ہے؟ اسلامی ثقافت میں چالیس کا عدد محض ایک ریاضیاتی نمبر نہیں ہے۔ یہ پختگی، ترقی اور کمال تک پہنچنے کی علامت بھی ہے۔

 

قرآن مجید کی آیات اور احادیث میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چالیس کے عدد کو خاص مقام دیا ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی میقات کی راتیں چالیس ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ہم نے موسیٰ کے لیے تیس راتیں مقرر کیں اور ان کو مزید دس راتیں دیں، پس ان کے رب کی مدت چالیس راتوں پر مشتمل تھی" (سورہ اعراف آیت 142)۔ گویا چالیس کا عدد الہی فضل حاصل کرنے کے لئے تیاری کی علامت ہے۔ بنی اسرائیل کی آوارہ گردی کے بھی چالیس سال ہیں۔ بنی اسرائیل کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’بے شک یہ ان پر چالیس سال تک حرام ہے‘‘ (المائدہ، 26)۔ چالیس سالہ آوارہ گردی ایک ایسی نسل کو سنوارنے کا موقع تھا جس میں جذبہ جہاد کی کمی تھی۔

 

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ الہٰی روایت میں چالیس سال ایک معاشرے میں بنیادی تبدیلی کی مدت ہے۔ چالیس سال کی عمر میں ہی کوئی شخص اپنی فکری پختگی کی منزل تک پہنچتا ہے۔ خدا فرماتا ہے: ’’یہاں تک کہ وہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ جائے‘‘ (الاحقاف، 15)۔ یہی سبب ہے اس عمر میں بہت سے انبیاء کرام کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”جس نے چالیس دن تک اپنے اعمال اللہ کے لیے وقف کیے، اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہوں گے۔“ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چالیس دن تک مسلسل اخلاص انسان کے باطن کی تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ عاشورا کا پیغام صرف اس دن تک ہی محدود نہیں تھا۔ بلکہ اس کا پیام دائمی ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد اموی حکومت نے اس واقعہ کو ختم کرنے کی بہت کوششیں کی۔

 

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کو قیدی بنانا اور انہیں شہروں میں گھمانا بھی اسی مقصد کے تحت کیا گیا تھا۔ لیکن حضرت زینب (س) اور امام سجاد (ع) نے اپنے خطبات سے عاشورہ کی حقیقت کو زندہ رکھا۔ لہٰذا اگر اربعین نہ ہوتا، عاشورا محض تاریخ تک ہی محدود رہتا لیکن اربعین نے عاشورا کو ایک ثقافت اور مکتب میں تبدیل کر دیا۔ تاریخی ذرائع بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک عظیم صحابی جابر بن عبداللہ انصاری نے  20 صفر 61 ہجری کو امام حسین علیہ السلام کی قبر کی پہلی زیارت کی۔ روایت کے مطابق کربلا میں داخل ہونے سے پہلے جابر نے غسل کیا، صاف کپڑے پہنے، خوشبو لگائی اور یاد خدا کرتے ہوئے آقا علیہ السلام کی قبر کی طرف روانہ ہوئے۔ جب ان کا ہاتھ قبر تک پہنچا تو شدید غم سے بے ہوش ہوگئے اور ہوش میں آنے کے بعد تین مرتبہ فرمایا: "یا حسین، یا حسین، یا حسین"۔

 

پھر انہوں نے امام کو مخاطب کر کے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سب سے افضل انبیاء کے فرزند، مومنین کے سردار کے فرزند اور اصحاب رسول میں پانچویں ہیں۔ اربعین کے بارے میں سب سے اہم روایت امام حسن عسکری علیہ السلام کی مشہور حدیث ہے جس کا ترجمہ ہے : ’’مومن کی نشانیاں پانچ چیزیں ہیں: اکیاون رکعت نماز پڑھنا، اربعین کی زیارت کرنا، داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، زمین پر سجدہ کرنا اور بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا۔‘‘ یہ روایت اربعین کو اہم ترین مذہبی رسومات میں شامل کرتی ہے۔ امام اربعین کی زیارت کو یہاں  "ایمان کی علامت" کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔ یعنی یہ عمل محض ایک سادہ اور مستحب عمل نہیں ہے بلکہ امام حسین علیہ السلام کے راستے سے وفاداری کا اعلان ہے۔

 

شیعہ ثقافت میں زیارت صرف مزار کی زیارت نہیں ہے بلکہ یہ امام کے نظریات سے تجدید عہد ہے۔ اربعین کی زیارت، جو امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، توحید، رسالت، امامت اور ولایت کی تعلیمات سے بھرپور ہے۔ اس زیارت میں امام حسین علیہ السلام کا تعارف خدا کے خالص بندے، الہی حجت اور دین کو زندہ کرنے والے کے طور پر کرایا گیا ہے۔ اس زیارت کا ایک مشہور جملہ ہے : "اس نے تیرے راستے میں اپنا پاکیزہ خون بہایا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت اور گمراہی سے بچایا جا سکے"۔ یہ جملہ عاشورہ کی تحریک کے اصل فلسفے کا اظہار کرتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا ہدف حکومت کا حصول یا اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا۔ بلکہ لوگوں کو جہالت، دین کی تحریف اور ظلم کے تسلط سے بچانا تھا۔ اس لیے ”اربعین“ کی زیارت صرف ایک تاریخی واقعہ کی یاد دہانی نہیں بلکہ اسی الٰہی مقصد کے ساتھ عہد کی تجدید ہے۔

 

آیات قرآنی اور احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اربعین کی جڑیں اسلامی ثقافت میں گہری ہیں۔ چالیس کا عدد کمال اور پختگی کی علامت ہے اور ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اربعینِ حسین صرف ”چالیسواں“ نہیں ہے بلکہ یہ تحریک عاشورہ کے لافانی ہونے کا نقطہ آغاز بھی ہے۔ اربعین کی زیارت پر تاکید کرتے ہوئے، اہل بیت (ع) چاہتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کی یاد ایک مستقل ثقافت بن جائے۔ ایک ثقافت جس کا مقصد ایمان، سرپرستی، آزادی، انصاف کی تلاش، جبر کے خلاف لڑنے اور معاشرے کی اصلاح ہے۔ اس نقطہ نظر سے ہر اربعین یہ اعلان کرتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا راستہ اب بھی زندہ ہے اور پایندہ ہے۔ لمحہء موجود کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو اربعین کا دن وہ دن ہے جس دن امام عالی مقام کے زائرین مشی کرتے ہوئے آج کے سب سے بڑے طاغوت اور شیطان بزرگ کا سر اپنے مبارک قدموں تلے کچل کر رکھ دیتے ہیں۔

ای میل کریں