تحریر: راشد نقوی
امام رضا (ع) کی شہادت صرف امام رؤف و مہربان کے ماتم اور سوگواری کا موقع نہیں ہے۔ یہ ایک سنجیدہ سوال پر دوبارہ غور کرنے کا بھی موقع ہے۔ ایسے وقت میں جب ہم میں سے بہت سے لوگوں کو مالی دباؤ، خاندانی پریشانیوں، سماجی دوریوں اور روحانی مشکلات کا سامنا ہے، کیا امام رضا علیہ السلام کی تعلیمات ان مشکلات کی گرہیں کھول سکتی ہیں اور دلوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہیں؟ رضوی مکتب کا جواب، سب سے پہلے اسلامی "اخلاقیات" پر عمل درآمد ہے۔ لیکن اخلاقیات صرف یہ نہیں جن کی تعریف ہم صرف تقریروں میں کرتے ہیں، بلکہ حقیقی اخلاقیات وہ ہیں جو لوگوں کی مدد کرنے، رشتوں میں انصاف، اختلاف میں رواداری، اور دوسروں کے دکھ کی ذمہ داری کا سامان فراہم کرتی ہیں۔
امام رضا علیہ السلام ہمیں سکھاتے ہیں کہ تقویٰ صرف عبادات تک محدود نہیں ہے۔ اہل بیت (ع) کی محبت اس وقت صادق آتی ہے جب ہمارے طرز عمل میں اہلبیت (ع) کی سیرت نظر آئے۔ جب ہم لین دین میں زیادہ منافع کی بجائے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھیں۔ جب ہم لوگوں کے لئے وقت نکال سکیں ۔اپنی ذمہ داری کا احساس کرسکیں اور لوگوں کے لئے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند اور پر اعتماد سمجھے جائیں۔ جب ہم خاندان میں دوسروں پر سختی اور ان سے حقارت کی بجائے احترام سے گفتگو کرنے والے شمار ہوں۔ اسی طرح جب ہم سائبر اسپیس میں بغیر سوچے سمجھے عجلت میں فیک خبروں کو دوبارہ شائع کرنے، شخصیات کشی اور اختلاف و تفرقہ کو ہوا دینے کے بجائے وقار اور سچائی کو پروموٹ کریں گے تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم رضوی تعلیمات سے متاثر ہیں۔
آج کے معاشرے کو پہلے سے کہیں زیادہ "غیر متزلزل اخلاقیات" کی ضرورت ہے۔ آج ہمدردانہ روئیے، خیر خواہ ثالثی، بروقت معافی، یا کسی پریشان حال شخص کی بات سننے اور اسکے مسائل حل کرنا بنیادی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ امام رضا علیہ السلام کے مکتب میں لوگوں کے مسائل کو حل کرنا اور ان کے دلوں کو خوش کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ یہ خدا کے قریب ہونے کے بہترین طریقوں میں سے ایک ہے۔ یہ نظریہ ہماری ذمہ داری کو ذاتی زندگی کی حدود سے باہر لے جاتا ہے: اگر ہم کسی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ہمیں لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔ اگر ہم مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم ہمیں دوسروں پر بوجھ نہیں بننا چاہیئے۔ آج ایک اور شدید ضرورت ’’رواداری‘‘ ہے۔ رواداری کا مطلب حق اور انصاف کو نظر انداز کرنا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلد بازی میں فیصلے نہ کریں اور اختلافات، غلطیوں اور سختی کا سامنا کرتے وقت اصلاح کا راستہ بند نہ کریں۔
امام رضا علیہ السلام لوگوں کے ساتھ نرم سلوک کو ایمان کی علامت سمجھتے ہیں۔ امام رضا علیہ السلام کی یہ تعلیمات آج کا روڈ میپ ہیں۔ جب طریقے اور سلیقے کا اختلاف بعض اوقات دشمنی اور تنقید و اعتراض کو دشمنی میں بدل دیا جاتا ہے، اصولوں پر کھڑا ہونا ضروری ہے لیکن انسانوں کی عزت وقار کا دھیان بھی لازمی ہے، تنقید کرنی چاہیئے لیکن منصفانہ ہونی چاہیئے، اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن بات چیت کا راستہ بند نہیں کرنا چاہیئے۔ رضوی اخلاق معاشرے سے دستبردار اور لاتعلقی کا نام نہیں ہے، یہ معاشرے میں ذمہ دار ہونے کا نام ہے۔ یعنی انسان دوسروں کی بھلائی کو اپنا بھلا سمجھے، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور ساتھیوں کے ساتھ ایک گرم جوش رشتہ و تعلق قائم کرے۔ دوسروں کو تکلیف دینے سے گریز کرے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اور زندگی کی تلخیوں میں اضافہ کرنے کے بجائے لوگوں کے سکون اور امید میں اپنا حصہ ڈالے۔
آج امام رضا و امام رؤف (ع) سے عقیدت کو ایک قیمتی احساس و جزبے سے ایک عملی فیصلے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی مشکلات کی گرہ کھولنا، دل جوئی کرنا، حق کو ادا کرنا، بدگمانی کو ایک طرف رکھنا اور اپنے فیصلوں اور طرز عمل میں زیادہ منصفانہ طرز عمل اپانا رضوی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ امام رضا (ع) کے یوم شہادت کے موقع پر اپنے عہد کی تجدید کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ سے پوچھیں: کیا ہمارے گھروں، کام کی جگہوں، کمیونٹیز اور سائبر اسپیس میں ہماری موجودگی لوگوں کے لئے بوجھ اور مشکلات کا باعث ہے یا مصائب سے نجات دلاتی ہے یا ان پر بوجھ ڈالتی ہے؟ یہ سوال ایک ایسے راستے کا آغاز ہے جو امام رضا علیہ السلام کی محبت سے شروع ہوتا ہے اور ایک مہربان، انصاف پسند اور زیادہ پر امید معاشرے کی تعمیر کی طرف لے جاتا ہے۔