امام خمینیؒ کے یادگار آیت اللہ سید حسن خمینی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی رہنما اور ملک کے منتظمین کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے زمانے کے اعلیٰ ترین علمی اور عقلی وسائل سے لیس ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا: جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد جہاں کہیں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی، اس کی وجہ یہ تھی کہ نوجوان نسل اور ماہرین کا یہ طبقہ فیصلہ سازی اور فیصلہ کرنے کے عمل میں شامل ہوا۔ ہمارے دور کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم نوجوانوں کو صرف اپنے ساتھ چاہتے ہیں؛ وہ ایک طرف بیٹھیں اور ہمیں مشورے دیں۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم نوجوانوں کی صلاحیت اور قوت پر یقین کریں اور ذمہ داریاں ان کے سپرد کریں؛ نہ یہ کہ وہ صرف ہمارے ادارے میں امورِ نوجوانان کے مشیر بن کر رہ جائیں تاکہ وہ ہمیں حوصلہ دیتے رہیں۔
آیت اللہ سید حسن خمینی نے حرمِ امام خمینیؒ میں منعقدہ پانچویں قومی فیسٹیول ’’اتفاق‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے امام سجادؑ کی ایک روایت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرے گا، اللہ اس کی مشکل حل کردے گا۔ پھر سوال یہ ہے کہ دنیا میں کتنے ہی لوگ آئے اور انہوں نے اپنے خیال میں اللہ پر توکل کیا، لیکن کوئی نتیجہ حاصل نہ کرسکے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم توکل کی شرط پوری نہیں کرتے۔
یادگارِ امام نے واضح کیا کہ توکل کی شرط یہ نہیں ہے کہ آپ گھر بیٹھ جائیں، ٹانگ پر ٹانگ رکھیں اور پھر کہیں کہ ان شاء اللہ سب کچھ ہوجائے گا۔ اس طرح کسی نے بھی کامیابی حاصل نہیں کی۔ ’’اے برادر! اجر اسے ملا جس نے محنت کی۔‘‘ ہماری ذمہ داری صرف دعا کرنا نہیں ہے۔ اگر انقلابِ اسلامی کامیاب ہوا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے توکل کی شرط پوری کی اور صرف ہاتھ میں تسبیح لے کر بیٹھنے اور دعا پڑھنے پر اکتفا نہیں کیا۔ امام خمینیؒ کو اللہ پر توکل تھا اور وہ خدا پر یقین رکھتے تھے، لیکن امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی مانند میدانِ بدر، حنین اور اُحد کے وسط میں اپنی موجودگی کا عملی ثبوت بھی پیش کیا۔ توکل کا مطلب میدان کے بیچ میں موجود رہنا ہے؛ یہ مثبت عرفان ہے۔
انہوں نے مزید کہا: گزشتہ جنگ میں جب ایرانی قوم نے بہادری کے ساتھ مزاحمت کی، اگر ہمارے پاس پہلے سے تیاری نہ ہوتی اور فوجی و میزائل شعبوں میں کام نہ کیا گیا ہوتا تو ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑتا۔ توکل کا مفہوم یہاں واضح ہوتا ہے کہ ہم اپنا کام انجام دیتے ہیں، لیکن اس کام کے نتیجہ خیز ہونے میں ہمارا اثر زیادہ سے زیادہ ۲۵ فیصد ہوتا ہے۔ ستارخان بلاشبہ تحریکِ مشروطہ کے ہیرو تھے۔ جس رات انہیں گرفتار کرنے کا ارادہ کیا گیا، انہیں بخار ہوگیا؛ اگر انہیں بخار نہ ہوتا تو شاید انہیں گرفتار نہ کیا جاسکتا۔ بہت سے معاملات ہمارے اختیار سے باہر ہوتے ہیں؛ ایسے معاملات میں کام کا نتیجہ اللہ کے سپرد کردینا چاہیے۔
آیت اللہ سید حسن خمینی نے مزید تأکید کی کہ سیاسی رہنماؤں اور ملک کے منتظمین کو اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو انہیں اپنے زمانے کے اعلیٰ ترین علمی اور عقلی وسائل سے آراستہ ہونا ہوگا۔ اگر آپ کوئی بڑا کام انجام دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے سماجی نیٹ ورک قائم کرنا ہوگا۔ اعلیٰ ترین علمی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ضروری ہے۔ آج سماجی مسائل کے میدان میں کوئی بھی قوت اتنی مؤثر نہیں جتنی غیر سرکاری تنظیموں اور عوامی اداروں کی طاقت ہے۔ اگر مستقبل میں ہماری حکومت کو سماجی اور حتیٰ کہ اقتصادی و سیاسی مسائل میں نقصان پہنچا تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ہم نے عوامی و سماجی اداروں کی اس جہت پر مناسب توجہ نہیں دی۔
انہوں نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ نوجوان طبقہ اس میدان میں زیادہ فعال ہے، کہا: نوجوان کسی بھی دوسرے طبقے کے مقابلے میں سماجی مسائل کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں، کیونکہ وہ زیادہ آرمان پسند ہوتے ہیں۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے لیے کام کا ماحول ہی تفریح کا ماحول بھی ہوتا ہے۔ کتاب ’’نورالدین، فرزندِ ایران‘‘ بہت قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔ اس کتاب سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اگر یہ شخص محاذ پر جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی پوری زندگی وہیں ہے۔ جب کوئی غیر سرکاری تنظیم وجود میں آتی ہے تو نوجوان کی وہاں شرکت ہمہ وقت اور رضاکارانہ ہوتی ہے۔
یادگارِ امام نے مزید کہا: ہمارے زمانے میں نوجوانوں کے زیادہ طاقتور ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں سے باخبر اور ان کے بارے میں علم رکھتے ہیں جن سے گزشتہ نسلیں واقف نہیں تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا علم کی سرحدوں سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ٹیکنالوجی میں نسلوں کی تبدیلی بڑی عمر کے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ اگر آپ نوجوانوں کو کام میں شریک نہیں کریں گے تو درحقیقت آپ علم کی نئی سرحدوں سے پیچھے رہ جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد جہاں کہیں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی، اس کی وجہ یہ تھی کہ نوجوانوں اور ماہرین کا یہ طبقہ فیصلہ ساز اور فیصلہ کرنے والا بن گیا۔ ہمارے دور کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم نوجوانوں کو صرف اپنے ساتھ چاہتے ہیں؛ وہ ہمارے پاس بیٹھیں اور ہمیں مشورے دیں۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم نوجوانوں کی قوت و صلاحیت پر یقین کریں اور ذمہ داریاں انہیں سونپیں، نہ یہ کہ وہ صرف ہمارے اداروں میں امورِ نوجوانان کے مشیر بن کر رہیں اور ہمیں حوصلہ دیتے رہیں۔
آیت اللہ سید حسن خمینی نے کہا: اس بات کا خیال رکھیں کہ بعض اوقات عمر رسیدہ افراد کچی اینٹ میں بھی وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جسے نوجوان نہیں دیکھ سکتا۔ ہمارے شہید رہبر کہا کرتے تھے کہ معاشرہ عمر رسیدہ افراد کی عقل و خرد اور نوجوانوں کی توانائی کے دو پروں کے ذریعے آگے بڑھ سکتا ہے۔ گزشتہ نسل کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ انسان مختلف سو راستوں پر چلتا ہے اور ناکامی سے دوچار ہوتا ہے، جبکہ ایک سو ایکواں راستہ کامیابی کا سبب بنتا ہے۔ جو شخص ان سو ناکامیوں کا مطالعہ نہیں کرے گا، اسے دوبارہ انہی ناکامیوں کا تجربہ کرنا پڑے گا۔
انہوں نے تأکید کی: معاشرے کی جمودی کیفیت، سکون اور منفی مزاحمت کے ذریعے کوئی بھی مشکل حل نہیں ہوسکتی۔ اگر عوام حکومت کے کسی فیصلے کے ساتھ ہم دل اور ہم آہنگ نہ ہوں تو کسی بھی صورت میں وہ فیصلہ اپنے انجام تک نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن اگر سب لوگ ایک دل اور ایک آواز ہوں تو کوئی ایسی مشکل نہیں جو حل نہ ہوسکے۔ ہمیں علم، دانش، صلاحیت، عصرِ حاضر کے تجربات اور نوجوانوں کی قوت و توانائی پر یقین رکھنا چاہیے؛ اسی صورت میں ہم کامیابی اور مطلوبہ نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔