شہید رہبر کی پیشنگوئی

شہید رہبر کی پیشنگوئی

ایسے وقت میں جب امریکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کر رہا ہے، اس سے کئی کلومیٹر دور، انصار اللہ یمن نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے علاقائی جنگ کے توازن کو بدل دیا ہے

تحریر: علی رضا محمدی

 

ایسے وقت میں جب امریکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کر رہا ہے، اس سے کئی کلومیٹر دور، انصار اللہ یمن نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے علاقائی جنگ کے توازن کو بدل دیا ہے۔ اب جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں مزاحمتی محاذ کے اختیار میں ہیں اور عالمی سطح پر تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے، تجزیہ کار مستقبل قریب میں مزید بڑے واقعات رونماء ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ چند روز پہلے تک تجزیئے بالکل مختلف سمت میں جا رہے تھے اور کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ اچانک یمنی خنجر عالمی معیشت کی شہ رگ، باب المندب کے دل میں پیوست ہو جائے گا۔

 مارچ/اپریل 2019ء میں، جب سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر ہمہ گیر حملوں کو چار سال گزر چکے تھے اور جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے، انقلاب کے شہید رہبر سید علی خامنہ ای نے ایک جملہ کہا تھا، جو آج سب کے سامنے حقیقت ثابت ہوچکا ہے: آپ نے فرمایا تھا "میں ان سازوسامان اور جنگی وسائل کے بارے میں فکر مند نہیں ہوں، جو مغرب سعودی عرب کو فراہم کر رہا ہے، کیونکہ ان شاء اللہ یہ مجاہدینِ اسلام کے ہاتھ لگ جائیں گے۔"

 

ہرمز سے باب المندب تک مزاحمت کی برتری

قطر کے ایک یونیورسٹی پروفیسر، محبوب الوزیری نے حال ہی میں کہا ہے کہ "ٹرمپ آبنائے ہرمز پر قابو پانے کا خواہش مند تھا، لیکن آج وہ نہ صرف ہرمز پر قابو نہیں رکھتا بلکہ آبنائے باب المندب بھی ایران کے اتحادیوں کے ہاتھ میں آگیا ہے۔" خلیج فارس کے ایک عرب تجزیہ کار کا یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب مارچ 2015ء کو سعودی عرب کی قیادت میں کئی عرب ممالک نے امریکہ کی حمایت سے صنعاء پر فضائی حملے کرکے ایسی جنگ کا آغاز کیا تھا، جو کم از کم سات سال تک پوری شدت کے ساتھ جاری رہی۔ بعد میں اگرچہ اس جنگ کی شدت کسی حد تک کم ہوئی، تاہم شمالی یمن پر سعودی عرب اور عرب اتحاد کی پابندیوں اور محاصرے کا سایہ بدستور قائم رہا۔ اس وقت یمن کے شمالی اور مغربی حصے کا صرف ایک حصہ، جس میں صنعاء، الحدیدہ، صعدہ، عمران، الجوف اور دیگر صوبے اور علاقے شامل تھے، انصار اللہ کے کنٹرول میں تھا۔

 جنوبی عبوری کونسل، عدن کے ساحلی علاقوں پر قابض تھی، جبکہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت تعز پر کنٹرول رکھتی تھی۔ اس صورتحال نے انصار اللہ کے زیرِ کنٹرول علاقوں تک سمندری رسائی کو متاثر کر رکھا تھا۔ تاہم تازہ دور کی کشیدگی کی پہلی چنگاریاں اس وقت بھڑکیں، جب سعودی عرب نے صنعاء کے ہوائی اڈے پر بمباری کرکے یمنی وفد کو شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہونے اور پھر واپس آنے سے روکنے کی کوشش کی۔ یہ اقدام ایک ایسی جنگ کے شعلوں کو دوبارہ بھڑکانے کا سبب بنا، جو بالآخر انصار اللہ کے باب المندب پر کنٹرول کے حصول پر منتج ہوئی۔

 

سعودی عرب کیجانب سے یمنیوں کیلئے ہتھیاروں کی خریداری

سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر فوجی جارحیت شروع ہوئے ابھی صرف دو سال گزرے تھے کہ عالمی میڈیا میں ایک خبر نے خاصی توجہ حاصل کی۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان 110 ارب ڈالر کا اسلحہ معاہدہ، جو ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا گیا تھا، اپنے وقت کا ایک غیر معمولی اور بہت بڑا معاہدہ تھا۔ یہ معاہدہ ٹرمپ کی پہلی حکومت کے دوران واشنگٹن اور ریاض کے درمیان طے پایا۔ اسی دور میں سعودی حکومت کے لیے "دودھ دینے والی گائے" کی اصطلاح استعمال ہونے لگی، کیونکہ وہ بڑے پیمانے پر اسلحہ خرید کر اپنی سلامتی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ لیکن یہ معاہدہ تو محض آغاز تھا۔ سعودی عرب نے، خصوصاً ٹرمپ کی دونوں حکومتوں کے ادوار میں، اپنے تیل سے حاصل ہونے والی دولت کے اربوں ڈالر اسلحہ خریدنے پر خرچ کیے، جن میں سے بڑی تعداد اب یمنی جنگجوؤں کے ہاتھ لگ چکی ہے۔

 2018ء کے دوران، جمال خاشقجی کے قتل کا معاملہ سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان 110 ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدے کی حمایت جاری رکھی اور سعودی بادشاہت کو اسلحہ فراہم کرنا جاری رکھا۔ بعد کے برسوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اسلحے کا لین دین جاری رہا۔ چنانچہ گذشتہ سال مئی میں، ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے ابتدائی مہینوں میں، ریاض اور واشنگٹن نے 142 ارب ڈالر مالیت کا ایک اسلحہ معاہدہ کیا۔

 

وہ گولہ بارود جو میدانِ جنگ تک پہنچنے سے پہلے ہی بے کار ہوگیا

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اسلحے کے تازہ ترین سودوں میں سے ایک میں امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 5.75 ارب ڈالر مالیت کے ممکنہ گائیڈڈ گولہ بارود اور ٹینک انجنوں کی فروخت کی منظوری دی۔ لیکن اس کے چند ہی روز بعد یمنی معجزہ رونماء ہوا اور جنوبی یمن میں سعودی حمایت یافتہ جنگجوؤں کو سخت شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یمنی جنگجوؤں کے ہاتھ آنے والے جنگی غنائم کی تصاویر، خصوصاً بکتر بند گاڑیوں کے ایک پورے قافلے پر قبضے کی تصاویر، ان دنوں سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔

 یہ صورتحال انقلاب کے شہید رہبر کی سات سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل کی گئی اس پیش گوئی کو حقیقت بنتے ہوئے دکھاتی ہے، جس میں انہوں نے ایک وعدۂ الہیٰ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ محمد بن سلمان کی جانب سے اسلحہ خریدنے پر اربوں ڈالر خرچ کیے جانے کے باوجود، رائٹرز اور ایکسِیوس کی رپورٹس کے مطابق، محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز ٹرمپ سے دو مرتبہ رابطہ کیا اور انصار اللہ کے ٹھکانوں پر براہِ راست امریکی حملے کا مطالبہ کیا۔ تاہم ٹرمپ نے یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ واشنگٹن فی الحال یمن کی جنگ میں براہِ راست داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

ای میل کریں