اسلامی جمہوریہ ایران کے مختلف ممالک میں تعینات رہنے والے سابق سفیروں کا ایک اجتماع، محترمہ ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی، سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی، حجۃ الاسلام والمسلمین علی کمساری، سربراہِ ادارۂ تنظیم و نشر آثار حضرت امام خمینیؒ، اور متعدد تجربہ کار سفارت کاروں اور ممتاز شخصیات کی موجودگی میں منعقد ہوا۔ اس نشست کا مقصد حضرت امام خمینیؒ کے فکری اور عرفانی افکار کے مختلف پہلوؤں کو دنیا کے سامنے متعارف کرانے کے طریقۂ کار کا جائزہ لینا تھا۔ یہ اجتماع ادارۂ تنظیم و نشر آثار امام خمینیؒ میں منعقد ہوا۔
جمَاران کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین علی کمساری نے اس نشست کے آغاز میں امام خمینیؒ، مرحوم حجۃ الاسلام والمسلمین حاج سید احمد خمینی اور حالیہ شہداء، بالخصوص اسلامی انقلاب کے شہید رہبر، کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع کے انعقاد کا مقصد ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی کے بیرونِ ملک سفری یادداشتوں پر مشتمل کتاب کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ملک کے سفارت کاروں کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے امام خمینیؒ کے افکار کو ایران کی سرحدوں سے باہر زیادہ وسیع پیمانے پر متعارف کرانا ہے۔
ادارۂ تنظیم و نشر آثار امام خمینیؒ کے سربراہ نے امام خمینیؒ کے آثار کے تراجم کے سلسلے میں ادارے کی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا:
حضرت امام خمینیؒ کی کتب اور آپ کے بارے میں لکھی گئی تصنیفات کے چار سو سے زائد عناوین، چھبیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔ ان زبانوں میں انگریزی، عربی، فرانسیسی، اردو، ہسپانوی، جرمن، روسی، ترکی، اطالوی، بنگالی، فلپائنی، پشتو، کرغیزی، سواحلی، کردی اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔ معزز مہمانانِ گرامی بخوبی آگاہ ہیں کہ ادارہ اب تک تقریباً دو ہزار عناوین کی کتابیں شائع کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بائیس جلدوں پر مشتمل صحیفۂ امام، جس کا ایک حصہ غیر ملکی قارئین کے لیے مخصوص ہے، انگریزی، عربی اور اردو زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اسی سلسلے میں دس جلدوں پر مشتمل دانش نامۂ امام خمینیؒ کے منتخب حصوں کا بھی، جو پندرہ سال کی مسلسل علمی و تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے، غیر ملکی قارئین کے لیے انہی تین زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
کمساری نے کہا کہ حضرت امام خمینیؒ کی تفسیرِ قرآن بھی چار زبانوں میں، وصیت نامۂ امام خمینیؒ تئیس زبانوں میں، اور ڈاکٹر حمید انصاری کی تحریر کردہ امام خمینیؒ کی سوانح حیات، بعنوان «حدیثِ بیداری»، چوبیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح «کلماتِ قصار» اکیس زبانوں اور «جہادِ اکبر» تیرہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان آثار کے پچیس عناوین ایمازون پر بھی اپ لوڈ اور پیش کیے جا چکے ہیں۔
امام خمینیؒ کی عرفان و معنویت کو دنیا تک پہنچانے کی ضرورت
ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی نے بھی اس اجتماع میں کہا کہ امام خمینیؒ کے عرفان اور معنویت کو سیاسی ہنگامہ آرائی سے دور رہتے ہوئے دنیا تک منتقل کرنے کے لیے ایک مؤثر رابطہ جاتی نیٹ ورک قائم کرنا نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی ایک اہم حکمتِ عملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نشست کے انعقاد کی بنیادی تجویز کا مقصد بیرونِ ملک کیے گئے سفروں کی یادوں کو دوبارہ تازہ کرنا، ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی کے ان سفروں کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب کی تدوین کرنا اور عالمی مخاطبین کے لیے امام خمینیؒ کے فکری اور عرفانی پہلوؤں کو متعارف کرانے کے طریقوں کا جائزہ لینا ہے۔
ایران کی انجمنِ علمی عرفانِ اسلامی کی سربراہ نے مزید کہا کہ ان سفروں کے دوران جب بھی مختلف طبقات کے درمیان امام خمینیؒ کی معنویت، اخلاق اور طرزِ عمل کے بارے میں گفتگو ہوتی تھی تو مخاطبین کے لیے یہ موضوع نہایت دلچسپ ثابت ہوتا تھا اور وہ اس سلسلے میں بہت سے سوالات کرتے تھے۔
انہوں نے افریقہ کے ایک سرحدی شہر میں اپنے سفر کی ایک یاد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں لوگ گھنٹوں خالی پھلوں کے لکڑی کے صندوقوں پر بیٹھ کر امام خمینیؒ کی اخلاقی خصوصیات، طرزِ عمل اور خاندانی تعلقات کی تفصیلات کے بارے میں نہایت شوق و رغبت سے سوالات کرتے تھے۔ وہ اس موقع کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ ایسی نعمت سمجھتے تھے جس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے اسی طرح جاپان میں «ولایتِ فقیہ» کی کتاب کا ترجمہ دیکھنے اور وہاں کے ایک اسکول اور علمی ادارے کی جانب سے حوزوی تعلیم کے طریقۂ کار پر کی جانے والی تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا مادیت سے تھک چکی ہے اور معنویت کی تلاش میں ہے۔
امام خمینیؒ کے نزدیک «سفرِ عقلی» اور «سفرِ عشقی»
ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی نے امام خمینیؒ کی تصانیف، بالخصوص «شرح حدیث جنود عقل و جہل»، «چالیس احادیث» اور «دیوانِ اشعار» کا حوالہ دیتے ہوئے امام خمینیؒ کے افکار میں «سفرِ عقلی» اور «سفرِ عشقی» کی وضاحت کی۔
انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ کے نقطۂ نظر سے جب عقل، جہالت کے ساتھ مقابلے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور انسان کے اندر موجود اخلاقی رذائل کا خاتمہ کر دیتی ہے، تو انسان کو مبدأِ متعال اور توحید تک پہنچانے کے لیے خود عقل کو بھی عشق کے سامنے مغلوب اور قربان ہونا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینیؒ کی زبان میں معروف تعبیر «ہیچ» بھی اسی عرفانی سلوک اور اس وجودی یقین کا ثمرہ ہے کہ «عالم، محضرِ خداست»؛ یعنی پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اور حضوری کا مقام ہے اور تمام جہان کو انسان خداوندِ متعال کی ضیافت اور مہمانی کے طور پر دیکھتا ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی نے امید ظاہر کی کہ ان سفری یادداشتوں پر مشتمل کتاب میں ہر علاقے کے حالات، وہاں کے لوگوں کی جانب سے امام خمینیؒ کے لیے ظاہر کی جانے والی محبت اور استقبال کے اسباب کو سفیروں کے ذریعے تفصیل سے بیان کیا جائے گا، تاکہ آج کا نوجوان اس کتاب کے صفحات پلٹتے ہوئے امام خمینیؒ اور دنیا کے مختلف خطوں میں ان کے لیے پائی جانے والی محبت سے واقف ہو سکے۔
انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ سفارت کاروں اور ادارۂ تنظیم و نشر آثار امام خمینیؒ کے تعاون سے سوشل میڈیا اور ورچوئل اسپیس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور دنیا کے مختلف ممالک میں امام خمینیؒ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اور گروہوں کے ساتھ رابطے کا ایک مؤثر نیٹ ورک قائم کیا جائے۔
ان کے مطابق، اس طریقے سے سیاسی ہنگامہ آرائی سے دور رہتے ہوئے امام خمینیؒ کے عرفان، معنویت اور ان کے دینی نظریات کو ایک منظم اور نیٹ ورک کی صورت میں دنیا کے دیگر لوگوں تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔