تیونس کی ایک دانشور خاتون محترمہ مریم مفتاح کا تبصرہ

تیونس کی ایک دانشور خاتون محترمہ مریم مفتاح کا تبصرہ

حالیہ برسوں میں، جس طرح سیاسی اور میڈیا حلقوں نے علاقائی بحرانوں اور پیشرفت کو سنبھالنے کے لیے قیادت کے کردار پر توجہ مرکوز کی ہے

انٹرویو: معصومہ فروزان

 حالیہ برسوں میں، جس طرح سیاسی اور میڈیا حلقوں نے علاقائی بحرانوں اور پیشرفت کو سنبھالنے کے لیے قیادت کے کردار پر توجہ مرکوز کی ہے، اس طرح رہنماؤں کی رائے عامہ کے ساتھ بات چیت کو بھی تجزیہ کاروں کی جانب سے پہلے سے زیادہ توجہ حاصل ہوئی ہے۔ بہت سے محققین کا خیال ہے کہ اظہار میں شفافیت، فرض شناسی اور فیصلہ سازی کے عمل میں لوگوں کو شامل کرنا سماجی سرمایہ کی تشکیل اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرنے کے اہم ترین اجزاء میں سے ہیں۔ اسی تناظر میں تیونس کی ایک تجزیہ نگار "مریم مفتاح" نے اپنے ایک انٹرویو میں شہید امام "سید علی خامنہ ای" کے خطابات اور رہبری کے انداز کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے اور شہید رہبر کے طرز انتظام کی خصوصیات اور ایرانی معاشرے پر اس کے اثرات کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔

 امام خامنہ ای کی قیادت کی خصوصیات اور رائے عامہ کے ساتھ رابطے کے طریقے کے بارے میں گفتگو میں تیونس کی تجزیہ کار مریم مفتاح نے بتایا کہ وہ کس طرح شہید رہبر کی شخصیت کی طرف متوجہ ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی شناسائی کا آغاز شہید رہبر کے ان پیغامات اور تقاریر کے مطالعہ سے ہوا، جو عام لوگوں کے ساتھ ساتھ خاص طور پر نوجوانوں اور شہداء کے خاندانوں جیسے گروہوں تک پہنچائے جاتے تھے۔ ان تقریروں کے بارے میں اپنے پہلے تاثر کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ کسی بھی چیز سے زیادہ، اظہار کی سادگی اور معاشرے کے تمام طبقات کے لیے رہنمائی نے ان کی توجہ شہید رہبر کی طرف مبذول کی۔ محترمہ مفتاح کے مطابق تقریر کے جملوں اور فقروں میں فصاحت، لسانی ساخت کی روانی اور تقریروں کے مواد میں مثبت نقطہ نظر کا غلبہ وہ اہم خصوصیات تھیں، جنہوں نے انہیں شروع ہی سے متاثر کیا۔

 تیونس کی تجزیہ کار نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ان تقاریر میں شاذ و نادر ہی کسی پر الزام لگانے، حوصلہ شکنی کرنے، دوسروں پر الزام لگانے یا شکایت کرنے کے آثار نظر آتے ہیں بلکہ خطاب کے مواد کا بڑا حصہ  حوصلہ افزائی، مسائل کی وضاحت اور تعمیری مشورے اور رہنمائی فراہم کرنے پر مبنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہی خصوصیات کی وجہ سے وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ ان کی زندگی کی روش، انداز بیان علمی اصولوں اور پیغمبر کی زندگی سے اخذ کردہ تعلیمات پر مبنی تھا۔ مفتاح نے اسلامی جمہوریہ ایران کے شہید رہبر کے اس انداز کے بارے میں اپنے ذاتی تاثر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی عالم اسلام میں ایسی خصوصیات کا حامل کوئی رہنما ہے۔؟ ایک ایسا لیڈر جو خود کو عوام کا حاکم نہیں سمجھتا، بلکہ عوام کو ملک چلانے میں شراکت دار سمجھتا ہے۔

 ان کا خیال ہے کہ اس نقطہ نظر کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ رہبر شہید عوام کو ملکی مسائل سے آگاہ کرنے کے حق پر یقین رکھتے تھے، چاہے وہ مسائل پیچیدہ ہی کیوں نہ ہوں یا ان کا اظہار کرنا ان کے دشمنوں یا حامیوں کی ناراضگی کا باعث ہی کیوں نہ ہو۔ تیونس کی اس تجزیہ کار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تقریر اور رویئے کے درمیان ہم آہنگی یا گفتار و کردار میں مطابقت اس طرز قیادت کی ایک اور نمایاں خصوصیت ہے۔ تصادم کے لیے حقیقی طاقت حاصل کرنے سے پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھلے عام دشمنی کا اعلان کرنا اصولوں کی پاسداری کی علامت ہے۔ اعلان کردہ اصولوں کی پاسداری کے لئے قربانی دینے کے لئے آمادہ ہونا اور عوام کو اعتماد میں لینا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اس تناظر میں اس قسم کی قیادت کے لیے عالمی طاقتوں کو مطمئن کرنے سے زیادہ عوام کا اعتماد اور فکری بنیادوں سے وفاداری اہم ہوتا ہے۔

 تیونس کی تجزیہ کار نے حالیہ برسوں کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے مقابلے آج بہت سے مسائل رائے عامہ کے سامنے واضح نظر آتے ہیں، لیکن گزشتہ دہائیوں میں حالات مختلف تھے اور معاشرے کو ایک ایسے وژن کو قبول کرنے پر قائل کرنا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا تھا، ایک مشکل ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ ان کے بقول، لوگوں کو مستقبل کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرنا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشنوں کے نتائج کو برداشت کرنے میں ان کی مدد کرنا ایسے حالات میں رونما ہوا، جب یہ امکان بہت دور کی بات اور بعض کے نزدیک غیر حقیقی بھی تھا۔

 مفتاح نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کو محض ایک شخص میں سمیٹنا نہیں چاہیئے، کیونکہ ایران ایک مکمل نظام اور ایک مربوط ڈھانچہ ہے، جس کی نمائندگی ایک ممتاز رہنماء کرتے ہیں اور اس کے ساتھ بہت سی ممتاز اور قابل شخصیات موجود ہیں، جنہوں نے مختلف ذمہ داریاں سنبھال رکھی ہیں اور نظام کو اس راستے پر عمل پیرا رکھا ہوا ہے۔ آخر میں وہ شہید رہبر کے لئے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ ایسی شخصیات اور علامتوں کے وجود کو اسلام، مسلمانوں، تحریک مزاحمت، مزاحمتی قوتوں اور دنیا کے تمام آزاد لوگوں کے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ سمجھتی ہیں اور ایسے رول ماڈلز کا ہونا ملت اسلامیہ کے لیے ایک بنیادی ضرورت سمجھتی ہیں۔

ای میل کریں