نورِ ولایت کا مقدس سفر

نورِ ولایت کا مقدس سفر

اسلامی تاریخ میں بعض ہستیاں ایسی ہیں جن کی زندگی، سفر اور قیام کسی ایک زمانے یا شہر تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان کی برکتیں صدیوں تک انسانوں کے دلوں کو منور کرتی رہتی ہیں

اسلامی تاریخ میں بعض ہستیاں ایسی ہیں جن کی زندگی، سفر اور قیام کسی ایک زمانے یا شہر تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان کی برکتیں صدیوں تک انسانوں کے دلوں کو منور کرتی رہتی ہیں۔ حضرت فاطمہ معصومہؑ کی شہرِ قم آمد بھی تاریخِ تشیع کا ایک ایسا ہی عظیم واقعہ ہے۔ قم کی سرزمین کو حضرت معصومہؑ کی آمد سے جو عظمت اور روحانی مقام حاصل ہوا، وہ آج بھی دنیا بھر کے زائرین کے لیے باعثِ عقیدت و احترام ہے۔

 

حضرت فاطمہ معصومہؑ، امام موسیٰ کاظمؑ کی دختر اور امام علی رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ تھیں۔ آپؑ علم، تقویٰ، عبادت، پاکیزگی اور ولایتِ اہل بیتؑ میں بلند مقام رکھتی تھیں۔ آپؑ کی شخصیت نہ صرف خاندانِ رسالت سے نسبت کی وجہ سے عظیم ہے بلکہ آپؑ اپنے علم و معرفت اور روحانی مقام کے اعتبار سے بھی اہل تشیع کے درمیان خصوصی مقام رکھتی ہیں۔

 

جب امام علی رضا علیہ السلام کو عباسی خلیفہ مأمون نے مدینہ سے خراسان بلایا اور آپؑ کو مرو لے جایا گیا تو حضرت معصومہؑ اپنے بھائی سے ملاقات اور ان کے قریب جانے کی غرض سے مدینہ سے خراسان کی طرف روانہ ہوئیں۔ یہ سفر آسان نہیں تھا۔ آپؑ کے ہمراہ خاندان اور بعض وابستگان کا ایک قافلہ بھی تھا۔ راستے میں قافلے کو مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ ساوہ کے مقام پر پیش آنے والے ایک المناک واقعے میں آپؑ کے قافلے کے متعدد افراد شہید ہوگئے۔ اس حادثے کے بعد حضرت معصومہؑ شدید رنج و غم میں مبتلا ہوئیں اور آپؑ نے قم کی جانب سفر کا ارادہ فرمایا۔

 

روایات کے مطابق جب آپؑ قم کے قریب پہنچیں تو اہلِ قم نے انتہائی جوش و عقیدت کے ساتھ آپؑ کا استقبال کیا۔ موسیٰ بن خزرج اشعری، جو قم کے ممتاز شیعہ بزرگوں میں شمار ہوتے تھے، آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نہایت احترام کے ساتھ آپؑ کو اپنے گھر لے گئے۔ اس طرح قم کی سرزمین کو حضرت معصومہؑ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔

 

مشہور روایت کے مطابق حضرت معصومہؑ ۲۳ ربیع الاول سنہ ۲۰۱ ہجری کو شہرِ قم میں داخل ہوئیں۔ آپؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی شہر میں گزارے اور تقریباً سترہ دن قم میں قیام فرمایا۔ اگرچہ آپؑ کا قیام مختصر تھا، لیکن اس مختصر مدت نے قم کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ حضرت معصومہؑ کی وفات کے بعد آپؑ کو اسی شہر میں سپردِ خاک کیا گیا و آپؑ کا روضہ مبارک رفتہ رفتہ مرکزِ علم، معرفت، عبادت اور زیارت بن گیا۔

 

حضرت معصومہؑ کی قم آمد در حقیقت ولایت، محبت اور وفاداری کے سفر کی علامت ہے۔ آپؑ نے اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام سے محبت اور وابستگی کی خاطر ایک طویل اور دشوار سفر اختیار کیا اور اس راہ میں مصائب برداشت کیے۔ اسی لیے آپؑ کی زندگی اہل بیتؑ سے محبت، صبر، قربانی اور ولایت کی پاسداری کا روشن نمونہ ہے۔

 

آج شہرِ قم دنیا کے اہم مذہبی اور علمی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں موجود حرمِ مطہرِ حضرت فاطمہ معصومہؑ ہر سال لاکھوں زائرین کے لیے روحانی سکون اور معرفت کا سرچشمہ بنتا ہے۔ علماء، طلبہ، محققین اور عام مسلمان اس مقدس بارگاہ میں حاضر ہو کر اہل بیتؑ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

 

حضرت معصومہؑ کی قم آمد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ حق، ولایت اور محبت کی راہ میں مشکلات انسان کے عزم کو کمزور نہیں کرتیں، بلکہ اگر نیت پاک اور مقصد الٰہی ہو تو انسان کی زندگی اور اس کا سفر تاریخ پر گہرا اثر چھوڑ سکتا ہے۔ قم آج بھی حضرت معصومہؑ کی برکت سے محبتِ اہل بیتؑ، علم و معرفت اور دینی بیداری کا ایک روشن مرکز ہے۔

ای میل کریں