تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
امریکی نائب صدر جیمز ڈیوڈ ونس نے جمعہ کی صبح دعویٰ کیا کہ واشنگٹن، تہران پر دباؤ ڈالنے کی مہم کے ایک حصے کے طور پر ایران میں ممکنہ طور پر خفیہ تخریبی کارروائیاں انجام دے سکتا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی ونس نے ایران میں تخریب کاری کے امکان کا دعویٰ کیا ہے۔ ونس نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ تہران پر دباؤ بڑھانے کی اپنی کوششوں کے تحت ایران میں خفیہ تخریبی کارروائیاں انجام دینے پر غور کرسکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا واشنگٹن ایران پر دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر خفیہ کارروائیوں کو بھی زیرِ غور رکھتا ہے، تو انہوں نے کہا: "جو کچھ بھی ممکنہ طور پر پیش آ سکتا ہے، وہ زیرِ غور ہے۔" اس امریکی عہدیدار نے اپنے دعوے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: "میں نے آنے والے مہینوں اور برسوں میں ایرانیوں کے ساتھ کس طرح نمٹنا ہے، اس کی تفصیلات پہلے سے بیان کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، کیونکہ سچ کہوں تو ایسا کرنا صدر کے فیصلہ سازی کے لیے موجود گنجائش کو محدود کر دے گا۔"
ونس نے میز پر موجود مختلف آپشنز کے بارے میں مزید کہا: "اقتصادی دباؤ، فوجی دباؤ، سفارتی دباؤ اور خفیہ دباؤ۔" امریکہ کے نائب صدر جے ڈی ونس کے جمعہ کی صبح دیئے گئے اس بیان میں کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کر رہا ہے اور بالخصوص ان کے خفیہ دباؤ کی طرف اشارے میں، محض ایک معمول کی سیاسی دھمکی سے کہیں زیادہ بات پوشیدہ ہے۔ ابلاغی اور ادراکی نقطۂ نظر سے یہ بیان خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ آخر امریکہ کا دوسرا اعلیٰ ترین انتظامی عہدہ رکھنے والا شخص ایسے دباؤ کی بات کیوں کرے گا، جس کی نوعیت اور وسعت کو وہ جان بوجھ کر واضح نہیں کر رہا۔؟ کیا واقعی ایران کے خلاف کوئی خفیہ کارروائی ہونے والی ہے، یا خود یہ ابہام ہی ایک نفسیاتی آپریشن کا حصہ ہے۔؟
اس سوال کا قطعی جواب فی الحال ممکن نہیں۔ تاہم ایک حقیقت واضح ہے: جب کوئی اعلیٰ سیاسی عہدیدار کسی ایسے خطرے کی بات کرتا ہے، جس کی نوعیت معلوم نہ ہو، تو وہ مخاطب کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس خطرے کو اپنے ذہن میں خود تشکیل دے۔ یہیں سے جنگ میدانِ عمل سے نکل کر ادراک کے میدان میں داخل ہو جاتی ہے۔ جب دشمن یہ نہیں بتاتا کہ وہ کیا کرنے والا ہے، تو وہ آپ کو مجبور کرتا ہے کہ آپ ہر ممکنہ صورتِ حال کا احتمال ذہن میں رکھیں۔ روایتی جنگ میں خطرہ عموماً قابلِ مشاہدہ ہوتا ہے؛ طیارہ، میزائل، جنگی بحری جہاز یا فوجی دستے۔ لیکن ادراکی جنگ میں بعض اوقات خود "نہ جاننا" بھی دباؤ کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ "خفیہ دباؤ" کی اصطلاح بھی اسی نوعیت کی ہے۔ ونس نے نہ کسی کارروائی کی تفصیلات بتائیں، نہ اس کا وقت واضح کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ خفیہ دباؤ سے ان کی مراد کیا ہے۔
لیکن یہی ابہام مخالف فریق کے فیصلہ سازی کے نظام کو متحرک کرسکتا ہے: کیا یہ کوئی سکیورٹی خطرہ ہے۔؟ کیا یہ سائبر کارروائی ہے۔؟ کیا یہ معاشی دباؤ ہے۔؟ کیا یہ تخریب کاری ہے۔؟ کیا یہ انٹیلی جنس یا معلوماتی آپریشن ہے۔؟ یا کسی بڑی فوجی کارروائی کی تمہید۔؟ ایسے حالات میں پیغام کا بڑا حصہ اس بات سے پیدا ہوسکتا ہے کہ امریکہ حقیقتاً کیا کر رہا ہے، بلکہ اس بات سے کہ ایران یہ تصور کرنے لگے کہ امریکہ کیا کچھ کرسکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں دھمکی نفسیاتی جنگ کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ماہرین کے نزدیک اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ اصل خطرہ کہیں توجہ کے جال میں پھنس جانا نہ ہو۔ ادراکی اثراندازی کے سب سے باریک طریقوں میں سے ایک لازماً یہ نہیں کہ مخاطب کو براہِ راست دھوکا دیا جائے، بلکہ اس کی ذہنی ترجیحات کو تبدیل کر دیا جائے۔
اگر کوئی پیغام فیصلہ سازی کے نظام کو اس بات پر قائل کر دے کہ اصل خطرہ ملک کے اندر، اثرانداز ہونے والے نیٹ ورکس، سائبر اسپیس یا تخریب کاری کی کارروائیوں میں موجود ہے، تو توجہ اور وسائل کا ایک بڑا حصہ اسی سمت منتقل ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دراندازی، تخریب کاری اور سائبر خطرات غیر اہم ہیں۔ اس کے برعکس، ان خطرات کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک خطرے کو اتنا بڑا نہ بنا دیا جائے کہ دوسرے خطرات نظروں سے اوجھل ہو جائیں۔ یہی وہ اہم نکتہ ہے، جسے ادراکی جنگ میں "توجہ کا جال" (Attention Trap) کہا جا سکتا ہے۔ اس جال میں دشمن لازماً آپ کو کوئی مخصوص کام کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جس چیز کو آپ کے لیے اہم بنانا چاہتا ہے، اسے آپ کے ذہن کا سب سے اہم مسئلہ بنا دے۔ یہ امکان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ "خفیہ دباؤ" کسی بڑی کارروائی کے لیے پردہ پوشی کا کردار ادا کر رہا ہو۔ لیکن اسے قطعی حقیقت کے طور پر بھی پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ممکن ہے کہ واشنگٹن واقعی خفیہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہو۔ ممکن ہے کہ ان کارروائیوں کی نوعیت سائبر، انٹیلی جنس یا معاشی ہو۔ یہاں تک کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی بڑی فوجی کارروائی زیرِ غور ہو۔ لیکن ایک اور امکان بھی موجود ہے: خفیہ دباؤ کے وجود کا اعلان خود ایک فریب کاری پر مبنی آپریشن کا حصہ ہو۔ اس منظرنامے میں امریکہ اپنی اصل منصوبہ بندی کے بارے میں کوئی حقیقی معلومات فراہم کیے بغیر، غیر یقینی کی ایسی فضا پیدا کرتا ہے، جو مخالف فریق کو متعدد ممکنہ منظرناموں کے لیے تیاری کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ نتیجتاً اگر کوئی مخصوص خفیہ کارروائی حقیقتاً موجود بھی نہ ہو، تب بھی یہ پیغام عملی اثر پیدا کرسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں: کبھی کبھی حقیقتاً کچھ کرنا ضروری نہیں ہوتا؛ صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ مخالف فریق کو کسی ممکنہ کارروائی کے لیے تیاری پر مجبور کر دیا جائے اور اس پر لاگت عائد کر دی جائے۔
ایسے حالات میں ایران کی ابلاغی اور تزویراتی دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ونس کی دھمکی کو نہ تو نظرانداز کرے اور نہ ہی اس کے جال میں پھنسے۔ حقیقی خطرات کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی جنگ، فریب کاری، سائبر آپریشنز، معاشی دباؤ اور میڈیا وار کے امکانات کو بھی بیک وقت مدنظر رکھنا چاہیئے۔ دوسرے الفاظ میں: ایران کو دشمن کو اپنے ذہنی ایجنڈے کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ مناسب ردِعمل کثیر سطحی چوکسی ہے؛ یعنی حقیقی خطرے کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھی جائے، لیکن دشمن کے مبہم پیغامات کی بنیاد پر اپنی ترجیحات تبدیل کرکے اس کھیل کا حصہ نہ بنا جائے۔
ونس کے بیان کو شاید ایک جملے میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے: "میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ ہم کیا کرنے والے ہیں، لیکن میں آپ کو اس بات پر ضرور فکرمند کر دوں گا کہ شاید ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں۔" اگر اس پیغام کا مقصد خوف، ابہام اور ذہنی تھکن پیدا کرنا ہے تو ایسی صورت میں خفیہ دباؤ خود ایک نفسیاتی آپریشن بن جاتا ہے، حتیٰ کہ اس سے پہلے کہ کوئی حقیقی خفیہ کارروائی انجام دی جائے۔ اس زاویے سے اصل سوال اب یہ نہیں رہتا کہ: "امریکہ کیا چیز چھپا رہا ہے؟" بلکہ زیادہ اہم سوال یہ ہے: "کیا امریکہ جو کچھ ایران کو دکھانا چاہتا ہے، واقعی وہی چیز ہے، جسے ایران کو دیکھنا چاہیئے؟" یہی وہ سوال ہے، جو تزویراتی چوکسی اور دشمن کی ادراکی جنگ میں پھنس جانے کے درمیان حدِ فاصل متعین کرتا ہے۔
بہرحال ونس کا بیان جنگ کے اعلان سے زیادہ "جنگ سے نیچے رہتے ہوئے دباؤ بڑھانے" کی حکمتِ عملی کا اعلان ہے۔ امریکہ شاید ایران کو ایک ایسے دباؤ کے ماحول میں رکھنا چاہتا ہے، جہاں تہران کو ہر وقت یہ خدشہ رہے کہ اگلا قدم اقتصادی ہوگا، سفارتی ہوگا، فوجی ہوگا یا خفیہ۔ لیکن اس حکمتِ عملی کی کمزوری بھی یہی ہے: ایران کو جتنا زیادہ غیر روایتی دباؤ کا سامنا ہوگا، اتنا ہی امکان ہے کہ وہ بھی امریکی دباؤ کا جواب غیر روایتی اور غیر متوقع طریقوں سے دے۔ لہٰذا ونس کا بیان بیک وقت امریکی طاقت کا مظاہرہ بھی ہے اور امریکی مجبوری کا اعتراف بھی۔۔۔ طاقت اس لیے کہ واشنگٹن متعدد محاذ کھولنے کی بات کر رہا ہے اور مجبوری اس لیے کہ وہ براہِ راست جنگ کے بجائے غیر علانیہ اور محدود ذرائع کو بھی اہمیت دے رہا ہے۔ امریکی نائب صدر کا ایک لحاظ سے ایک اعتراف بھی ہے کہ امریکہ براہ راست جنگ سے گریز کرنا چاہتا ہے۔