یا موت یا خمینی

یا موت یا خمینی

سید مصطفی خمینی کی سرپرستی میں تحریک کی شروعات

سید مصطفی خمینی کی سرپرستی میں تحریک کی شروعات

۵ جون 1963ء کے حادثات کے بارے میں صدر روحانی کا کہنا تھا کہ اس دن سويرے جب لوگوں کو امام خمینی کی گرفتاری کا علم ہوا تو جم غفیر احتجاجی مظاہرے میں، آپ کےگھر کیطرف چل پڑے اور وہاں سے آقا مصطفی خمينی کی سرپرستی ميں نیز آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی مرحوم کے ہمراہ، حرم حضرت معصومہ (س) پہنچے۔

بی بی سیدہ معصومہ (س) کے حرم مطہر اور صحن میں لوگوں کا عظیم اجتماع تھا ليکن کوئی کچھ نہیں جانتا تھا کہ آیت اللہ روح اللہ خمينی کو کيسے بچايا جائے اور کيا کرنا چاہيے!

اس موقع پر قم شہر کے نچلے علاقے کی خواتين ہاتھوں ميں امام کی تصاوير اور تلوار لئے "يا موت يا خمينی" کا نعرہ لگاتے ہوئے حرم کے صحن ميں داخل ہوئيں اور لوگوں ميں وہ جذبہ اور غیرت موجزن ہوا کہ اب صحن سے سڑکوں پر نکلنے کی اجازت مانگ رہے تھے!

آقا سید مصطفی خمينی کے ايک اشارے کے ساتھ، لوگ "يا موت يا خمينی" کے فلک شگاف فریادوں کے ساتھ، سڑکوں پر نکلے اور شاہی عملے نے اندھا دھند فائرینگ کرکے کثیر تعداد میں شہید اور زخمی ہوئے جس کے نتیجے میں ۱۵ خرداد کا وہ عظيم حادثہ رونما ہوا۔

 

http://www.president.ir

ای میل کریں