شہید رجائی وزارت عظمی سے صدارت تک
امام خمینی پورٹل کے مطابق (۱۹۸۱ء) میں ایرای قوم نے قاطع اکثریت سے محمد علی رجائی کو ملک کا دوسرا صدرِ جمہوریہ منتخب کیا۔ وہ ایک سادہ اور بے ادعا شخصیت تھے جو عوام ہی میں سے اٹھے تھے۔ قریباً ایک سال وزارتِ عظمیٰ کا تجربہ کرچکے تھے انہوں نے پوری تیاری کے ساتھ یہ ارادہ کیا تھا کہ ملک کو انقلابی اور قومی جذبے سے چلائیں گے۔
پہلا جمعہ، (۲ اگست ۱۹۸۱ء) کو ایران کے دوسرے صدارتی انتخابات منعقد ہوئے اور آقای محمد علی رجائی ۱۳,۰۰۱,۷۶۱ ووٹ لے کر کل ۱۴,۷۶۴,۳۶۳ ووٹوں میں سے مطلق اکثریت کے ساتھ منتخب ہوئے۔ ۱۰ مرداد ۱۳۶۰ء کو ان کی اہلیت کی سند الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہوا۔
شہید رجائی کی حلف برداری کی تقریب ۱۲ مرداد ۱۳۶۰ء کو جمہوریہ اسلامی ایران کی پارلیمنٹ میں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آیت اللہ موسوی اردبیلی اورالیکشن کمیشن کی موجودگی میں منعقد ہوئی اور اس دن سے وہ باضابطہ طور پر ایرانی قوم کے منتخب دوسرے صدر کی حیثیت سے ملک کے امور سنبھالنے لگے۔ وہ پوری طرح آمادہ تھے، کیونکہ ان کے پاس قریباً ایک سال وزارتِ عظمیٰ کا تجربہ تھا۔ طبیعی طور پر انتظامی مسائل، کمزوریاں، صلاحیتیں اور عملی پہلوؤں کو بخوبی جانتے تھے اور یہ بھی سمجھتے تھے کہ کن افراد کے ساتھ کام کرنا ہے۔
انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے بہترین فرد کا انتخاب کیا تھا۔ لہٰذا اپنی حلف برداری کے دو دن بعد جناب حجۃ الاسلام والمسلمین محمد جواد باہنر کو باقاعدہ طور پر بطور وزیرِ اعظم پارلیمنٹ میں متعارف کرایا۔ یہ اعلان اس بات کا نشان تھا کہ رجائی مکمل تیاری کے ساتھ اس ذمہ داری کے لئے تیار ہیں اور چاہتے تھے کہ جلد از جلد ملک کو انقلابی راستے اور عوام و امام کی خواہش کے مطابق آگے بڑھائیں۔
شہید رجائی اپنی کابینہ کو پارلمینٹ کا حصہ سمجھتے تھے اور انہوں نے ایک نہایت دلکش اصطلاح اپنی کابینہ کے لیے اختیار کی ۳۶ ملین افرد کی کابینہ۔ یہ حقیقت بھی تھی، کیونکہ وہ نہایت سادہ مزاج، عوامی اور خاکسار تھے۔ وہ خود عوام میں سے تھے، محروم طبقات کے ساتھ زندگی گزارتے تھے، اسلام اور انقلاب سے محبت رکھتے تھے اور کسی بھی گروہ یا پارٹی سے وابستہ نہیں تھے۔ اگرچہ انہیں بعض شخصیات سے گہری عقیدت تھی جو حزبِ جمہوری اسلامی کے اندر تھیں، لیکن وہ خود کبھی اس پارٹی کے رکن نہیں بنے۔ رجائی انقلاب سے پہلے کچھ عرصہ ’’نہضتِ آزادی‘‘ کے رکن رہے تھے، لیکن بعد میں مستعفی ہوگئے اور پھر کسی گروہ میں شامل نہ ہوئے۔
جناب باہنر نے بھی شہید رجائی کے ساتھ ہم آہنگی اور سرعت کے ساتھ ایک منظم اور متحد کابینہ متعارف کروائی۔ ۲۲ مرداد ۱۳۶۰ء شمسی کو وزراء نے اپنے پروگرام پارلیمنٹ میں پیش کیے اور اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کارروائی شروع ہوئی۔ اگرچہ لبرل اور بعض گروہی عناصر رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرتے رہے، مگر انقلابی اور متعہد نمائندگانِ مجلس نے اپنی چھٹیاں منسوخ کر کے حاضری دی تاکہ مجلس کی اکثریت برقرار رہے اور ملک کے امور میں کوئی رخنہ نہ پڑے۔ دو روز کی بحث کے بعد مجلس نے ۲۱ وزیروں کو اعتماد کا ووٹ دیا۔
اس کے بعد شہید باہنر نے فوراً باقی وزارت خانوں کے وزراء بھی متعین کیے اور کچھ ہی دنوں میں ڈاکٹر نمازی سمیت باقی وزراء کو معرفی کیا گیا۔ یوں ایک مہینے کابینہ مکمل ہوگئی۔