اسٹریٹجک وراثت اور روحانی وابستگی، روحانی قیادت میں پیروی کے کردار پر زور

اسٹریٹجک وراثت اور روحانی وابستگی، روحانی قیادت میں پیروی کے کردار پر زور

امام خمینیؒ کے آثار کی تنظیم و اشاعت کے ادارے کے سربراہ علی کَمساری نے کہا ہے کہ شہید رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی قیادت کے دوران امام خمینیؒ کے نظریات، اصولوں اور انقلابی فکر کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا۔

جماران کی رپورٹ کے مطابق، امام خمینیؒ کے آثار کی تنظیم و اشاعت کے ادارے کے سربراہ علی کَمساری نے کہا ہے کہ شہید رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی قیادت کے دوران امام خمینیؒ کے نظریات، اصولوں اور انقلابی فکر کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا۔

اپنے ایک مضمون میں انہوں نے کہا کہ شہید رہنما نے انقلاب اسلامی کے ابتدائی ایام میں امام خمینیؒ کے قریبی ساتھی اور شاگرد کی حیثیت سے ان کے افکار کو گہرائی سے سمجھا، جس کے باعث ان کی قیادت میں امام کی بصیرت اور حکمت عملی نمایاں رہی۔

انہوں نے لکھا کہ امام خمینیؒ کے راستے پر چلنے کا مطلب محض ماضی کی تکرار نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں انہی بنیادی اصولوں، یعنی عزت، حکمت، خودمختاری، انصاف اور عوامی مفاد کو عملی شکل دینا ہے۔

علی کَمساری کے مطابق شہید رہنما نے قومی دفاع، سائنسی ترقی، سفارتی حکمت عملی اور علاقائی تعاون جیسے شعبوں میں انہی نظریات کو نئی جہت دی، جبکہ کمزور اور محروم طبقات کی حمایت کو ہمیشہ اپنی پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینیؒ اور شہید رہنما کے درمیان تعلق صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری، روحانی اور اخلاقی بھی تھا، جس کی بنیاد تقویٰ، سادگی اور عوامی خدمت پر قائم تھی۔

مضمون کے اختتام پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انقلاب اسلامی کی روح شخصیات سے بالاتر ہو کر اپنے بنیادی اصولوں کے ذریعے جاری رہتی ہے، اور ان اصولوں کی پاسداری ہی مستقبل میں اس کے تسلسل کی ضمانت ہے۔

ای میل کریں