تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت کا اندازہ صرف ان کے حسب و نسب سے نہیں بلکہ ان کے کردار، بصیرت اور تاریخ ساز فیصلوں سے ہوتا ہے
اسلامی تاریخ میں کوفہ شہر اور کوفی رویئے اور اہل کوفہ کو نفرت اور تنقید کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
کربلا تاریخ کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ شعور و بصیرت کا نام ہے۔ یہ حق اور باطل کے درمیان حدِ فاصل ہے
کربلا کا 61 ہجری کا واقعہ صرف ایک عسکری معرکہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور فکری انقلاب تھا
عاشورا کا واقعہ اخلاقی اور ایمانی اقدار کا مجموعہ ہے۔ یہ واقعہ صبر، استقامت، مقاومت، شجاعت، پرہیزگاری، عقیدہ، اخلاق اور طرز زندگی سکھاتا ہے
عشقِ حسینؑ محض ایک جذباتی وابستگی یا تاریخی تعلق کا نام نہیں، بلکہ یہ فضلِ الٰہی، عطیۂ ربانی اور نعمتِ خداوندی کا ایک عظیم مظہر ہے
جدید تہذیبی رجحانات اور بے راہ روی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے نوجوانوں کے اخلاق و کردار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جس کے نتیجے میں حیا، سچائی، احترامِ بزرگ اور احساسِ ذمہ داری جیسی اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں
بارہ روزہ جنگ نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ جو قوت اسرائیل کے مقابل کھڑی ہے وہ دراصل ایک مکمل شناختی اور تہذیبی نظام ہے
بیسویں صدی کی تاریخ میں اگر کسی ایک شخصیت نے اپنے علم، تقویٰ، شجاعت اور انقلابی بصیرت کے ذریعے دنیا کے سیاسی و فکری دھارے پر گہرے اثرات مرتب کیے تو وہ رہبرِ کبیر، بانی انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید روح اللہ موسوی امام خمینی قدس سرة ہیں
۲۴/ ذی الحجہ میں حق کی باطل پر جیت اور باطل کو حق سے شکست ہوئی ۔جس کے حق اور باطل کا فیصلہ مباہلہ کے ذریعہ سے طے پایا اور حق پہچانا گیا