اب ہم ان مختلف حجابوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کا امام خمینی (ره) نے اس سلسلے میں ذکر کیا ہے اور ان کے خطروں کو بیان کیا ہے
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جو صاحب ایمان جوانی میں قرآن کی تلاوت کرتا ہے، قرآن اس کے گوشت اور خون میں داخل ہوجاتا ہے اور خدا اس کو نیکوکاروں کےدسترخوان پر بٹهائے گا اور وہ آخرت میں قرآن کی پناہ میں ہوگا
جامعیت یعنی احکام اور ہدایات کا ایسا مجموعہ جو ہر زمانے میں انسان کی خوش بختی اور سعادت کے حصول اور اس کی ضروریات کو پورا کرے اور اگر یہ فرامین، احکامات اور قوانین کی تشریح نہ ہو تو انسان سعادت وکمال سے ہمکنار نہ ہوسکے
قرآن کی طرف بازگشت کا سبب مغرب اور یورپی سامراج کے مقابلے میں مسلمانوں کی کمزوری، ان کی توہین اور مشرق کے معاشروں میں پایا جانے والا احساس پسماندگی تها
قرآن کے بارے میں امام خمینی (ره) کے نظرئیے سے آگاہ ہونے کیلئے اس کتاب کے نزول کے مقاصد سے متعلق آپ کے زاویہ نگاہ کا جائزہ لیا جانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے
وحی اور عارفین کے کشف وشہود کے درمیان دوسرا فرق یہ ہے کہ جس شخص پر وحی ہوتی ہے وہ کسب مراتب اور سیر الی اﷲ مکمل کرنے کے بعد اپنی طرف واپس آجاتا ہے، ہوش کی حالت میں آجاتا ہے اور اپنے اطراف پر نگاہ ڈالتا ہے
امام خمینی (ره) کی نظر میں قرآن کریم اگرچہ ایک کتاب ہے جسے ہم دیکهتے ہیں، سنتے ہیں، جس کی تلاوت کرتے ہیں اور جس کے ظاہری معانی کو سمجهتے ہیں، لیکن قرآن کی حقیقت ایک دوسری چیز ہے
قوم کے تمام افراد کو چاہیے کہ وہ عنان حکومت کی ذمہ داری اپنے اوپر اٹهانا چاہتے ہیں ان کے انتخاب میں حصہ لیں
حضرت امام (ره) اپنے گزشتہ فلسفی، فقہی اور اصولی نظریات کے مطابق لوگوں کی نجی اور ذاتی آزادیوں کے قائل ہیں اور ان آزادیوں کو لوگوں کے ابتدائی اور اہم ترین فردی حقوق میں سے قرار دیتے ہیں
آزادی اور اس کی ماہیت کے بارے میں تاریخ میں ہمیشہ دانشوروں اور متفکرین کے مابین سوال اٹهتا رہا ہے